کویت کے ساتھ سرمایہ کاری کے معاہدے

نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے بدھ کے روز کویت کے ولی عہد شیخ مشعل الاحمد الجابر الصباح سے ملاقات کی۔ ملاقات میں نگران وزیراعظم نے کویت کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کی اہمیت کا اعادہ کرتے ہوئے مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے کی خواہش کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے دونوں ملکوں کے درمیان کثیر الجہتی فورمز پر قریبی تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انھوں نے صحت، سکیورٹی، انفراسٹرکچر کے شعبہ جات میں پاکستانی افرادی قوت کی بھرتی پر کویت کے اقدامات کو سراہا۔ کویت کے ولی عہد نے پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط اور وسیع بنانے کی خواہش کا اعادہ کیا۔ اس موقع پر نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ پاکستان کویت کے ساتھ اپنے تعلقات کو اہمیت دیتا ہے، دونوں ملکوں کے درمیان تجارت، توانائی، آئی ٹی، معدنیات، سرمایہ کاری سمیت مضبوط اقتصادی روابط کے قیام کی ضرورت ہے۔ دونوں رہنماو¿ں نے مختلف شعبوں کے سات معاہدوں پر دستخط کیے، معاہدے فوڈ سکیورٹی، زراعت، ہائیڈل پاور، واٹر سپلائز اور کان کنی سمیت اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے طے پائے، معدنی صنعت، ٹیکنالوجی زونز، کینگروز کے تحفظ، کان کنی، ثقافت، ماحولیات اور پائیدار ترقی سے متعلق تین مفاہمتوں پر دستخط کیے گئے۔ ادھر، سعودی عرب نے پاکستان کی معیشت کو استحکام دینے کے لیے پاکستان کے ساتھ 3 ارب ڈالر کے ڈپازٹ کی مدت میں ایک سال کی توسیع کردی ہے۔ 2021ءمیں دیے گئے اس ڈپازٹ کی مدت 5 دسمبر 2023ءکو مکمل ہورہی تھی ۔ متحدہ عرب امارات کے ساتھ بھی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے معاہدے ہوچکے ہیں۔ یہ اقتصادی استحکام کی دل خوش کن تصویر ہے لیکن اس کے باوجود عوام کے غربت، مہنگائی، بے روزگاری کے مسائل بڑھ رہے ہیں تویہ ہمارے پالیسی سازوں کے لیے لمحہ¿ فکریہ ہے۔ معاشی استحکام کا مطلب یہ ہے کہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے اور ان کے معاشی بوجھ میں کمی لائی جائے، جب تک اس سلسلے میں ٹھوس اقدامات نہیں کیے جاتے، معاشی استحکام کے دعوو¿ں کے پر نہ تو کوئی ملک کے اندر یقین کرے گا اور نہ ہی ملک کے باہر۔ یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ خلیجی ریاستوں کے ساتھ سرمایہ کاری اور معاشی استحکام سے متعلق ہونے والے معاہدوں میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر اہم کردار ادا کررہے ہیں۔

ای پیپر دی نیشن