سوات: عمران نے 5 سال میں خیبر پختونخوا میں کچھ نہیں کیا، ہمارا ساتھ دیتے تو انہیں ساتھ لیکر چلتے، ترقی دیکھنی ہے تو لاہور آﺅ : نوازشریف

01 اپریل 2018 (18:53)

 سوات: سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد محمدنواز شریف نے عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ الزام خان فارغ ہونے والا ہے خیبرپختونخوا میں ہماری حکومت ہوگی،کے پی کے عوام کو پیشگی مبارکباد دیتا ہوں،عمران خان نے 5 سال میں خیبر پختونخوا میں تو کچھ نہیں کیا لیکن اپنی اے ٹی ایم مشین جہانگیر ترین کی دولت ختم کر دی،عمران خان ہمارا ساتھ دیتے تو ہم انہیں ساتھ لیکر چلتے لیکن انہوں نے تو گالم گلوچ کی سیاست کی، خیبر پختونخوا کے عوام سے کہتا ہوں کہ آئندہ ایسے شخص پر کبھی اعتبار مت کرنا، اگر تم نے ترقی دیکھنی ہے تو پنجاب اور لاہور آﺅ،عمران خان کی سیاست پر افسوس ہےکیونکہ انہوں نے 5 سال دھرنوں، الزامات اور جھوٹ بولنے میں گنوائے ہیں ، عمران خان نے آف شور کمپنی کو مانا لیکن اسے نہیں نکالا گیا، نواز شریف کے خلاف ایک پیسے کی کرپشن ثابت نہیں ہوئی لیکن بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر نکال دیا گیا،عمران خان تو اس قابل بھی نہیں کہ ایک ضلعے سے بھی الیکشن جیتے، اگر وہ حکومت بنا لیتے تو پتہ نہیں پاکستان کا کیا حال ہوتا،عمران خان میٹرو بس کو جنگلا بس کہتے تھے اور اب وہی بس انہوں نے پشاور میں شروع کر دی ہے، لاہور کی میٹرو بس پر 50 ارب روپے اور راولپنڈی کی میٹرو بس پر 41 ارب روپے کے لگ بھگ خرچ ہوئے لیکن پشاور میٹرو بس پر 71 ارب روپے خرچ ہو رہا ہے، یہ لوگ قوم کا پیسہ ہڑپ کر رہے ہیں، عمران خان قوم کا پیسہ واپس کرو، ہم نے کراچی اور سوات سمیت پورے ملک میں امن قائم کیا اور اسی وجہ سے ملالہ یوسفزئی وطن واپس آئی ہیں۔ سوات کے کبل گرانڈ میں منعقدہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ سوات کے عوام کا ولولہ دیدنی ہے، میں نے ایسا سوات پہلے کبھی نہیں دیکھا، سوات کے علاقوں کے عوام کا جذبہ میں پہلی مرتبہ دیکھا ہے، میں آپکو پیشگی مبارکباد دیتا ہوں، الزام خان اب نہیں ٹھہرے گا، پشاور اب نیا فیصلہ کرنے والا ہے، اسی طرح ایبٹ آباد اور جنوبی کے پی کے اور مالاکنڈ مسلم لیگ (ن) کے حق میں فیصلہ کرنے والا ہے، آپ نے نواز شریف کو پاکستان کا وزیر اعظم بنایا تھا۔ الزام خان کی حکومت نے یہاں کچھ نہیں کیا، وہی پرانے اسکول ہیں، کیا کوئی نیا اسپتال اور یونیورسٹی بنی ہے ، آپ کے پیسے لوٹ کھسوٹ کی نظر ہوگئے یہ سارے کہتے ہیں کہ وزیر اعلیٰ کے پی کے پرویز خٹک کھا گئے، یہ پیسہ ان کی جیبوں میں گیا، یہ اب نہیں چلے گا۔ نواز شریف نے کہا کہ الزام خان (عمران خان) پچھلے 5سال میں جہانگیر ترین کا مال کھا گیا۔ وہ وزیر اعلیٰ کا ہیلی کاپٹر مفت استعمال کرتا رہا۔ اس نے جہانگیر ترین کی اے ٹی ایم مشین بند کرادی ، عمران خان نے اپنی آف شور کمپنی خود تسلیم کی۔ نواز شریف کو کرپشن پر نہیں بلکہ بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر نکالا گیا۔ نواز شریف پر 1پیسے کی کرپشن ثابت نہ ہوسکی، کیا آپ میرے خلاف فیصلے کو تسلیم کرتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ اگر آپ نے ترقی دیکھنی ہے تو لاہور آﺅ پنجاب آﺅ، ترقی اس کو کہتے ہیں ۔ آپ کو آنکھیں چرانی سے کھل جائیں گی۔ کے پی کے میں ایک پتہ بھی نہیں ہلا۔ انہوں نے صرف الزام تراشی کی سیاست کی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت دوبارہ آئے گی اور علاقہ کی تقدیر ملے گی، پنجاب کے عوام سے پوچھو ڈیرہ غازی خان، بہاولپور کے عوام سے پوچھو آپ کو حالات بدلے نظرآئیں گے۔ عمران خان میٹرو بس کو جنگلہ بس کہتا تھا، اب یہ خود پشاور میں میٹرو بس بنا رہا ہے وہ بھی زیادہ قیمت میں، لاہور کی میٹرو بس 40ارب روپے میں بنی ہے، جبکہ راولپنڈی کی میٹرو بس 45-50))ارب روپے میں بنی ہے۔ پشاور کی میٹرو بس 71ارب میں بن رہی ہے۔ کے پی کے عوام کو یہ پیسہ واپس کرنا ہوگا۔ کس نے امن قائم کیا اور کس نے دہشتگردی کو ختم کیا۔ آج امن واپسی آگیا ہے، ہم نے دہشتگری اور اندھیروں کو رخصت کردیا ہے۔ اگر عمران خان ہمارا ساتھ دیتے تو ہم تمہیںبھی ساتھ لے کرجاتے ، مگر عمران خان تم نے گالی گلوچ کی سیاست کی۔ ایسے شخص پر کبھی اعتبار نہ کرنا۔ انہوں نے کہا کہ اگر آئندہ آپ مسلم لیگ پر اعتبار کرو گے تو نواز شریف آپکی مرضی کے مطابق کام کرے گا۔ دہشتگردی کو شکست کے بعد ہماری بیٹی ملالہ یوسفزئی بھی واپس آگئی ہے، سوات کے عوام نے خود نعرہ لگایا ہے کہ ووٹ کو عزت دو، لاکھوں کروڑوں عوام نواز شریف کو وزیر اعظم منتخب کرا کر وزیراعظم بنائیں اور 5لوگ اسے نکال دیں، کیا آپ کو اپنے ووٹ کی بے توقیری منظور ہے۔ مجھے اگلی نسلوں کی حرمت ، عزت اور مستقبل عزیز ہے۔ مجھے بچوں کے مستقبل کےلئے جان لڑانی پڑی تو لڑا دوں گا۔ یہ تب ہی ہوگا جب ووٹ کو عزت کا نعرہ کامیاب ہوگئے۔ آپ میری ہدایت پر عمل کرنا ہوگا، کیا آپ ووٹ کے تقدس اور حرمت دوگے۔ سابق وزیر اعظم نے کہا کہ میاں گل عالم زیب میری محسن تھے، نواز شریف نے آخر میں پاکستان زندہ باد کا نعرہ بھی لگوایا۔ گراﺅنڈ کے اندر اور باہر نواز شریف اور مریم نواز کی تصاویر اور بینرز آویزاں کیے گئے تھے جب کہ پارٹی رہنماں کے بیٹھنے کے لئے 80 فٹ اونچا اور 24 فٹ چوڑا اسٹیج بھی بنایا گیا۔