الزام خان کی حکومت نے کے پی کے میں کچھ نہیں کیا، انتقامی فیصلوں کے احترام کی توقع نہ رکھی جائے، مریم نواز

01 اپریل 2018 (18:28)

مسلم لیگ (ن) کی رہنما اور سابق وزیراعظم محمد نوازشریف کی صاحبزادی مریم نواز نے کہا ہے کہ ہم سے انتقامی فیصلوں کے احترام کی توقع نہ رکھی جائے، فیصلے اتنے ہی سچے ہوتے تو آپ کو توہین کا خوف نہیں ہوتا،کبھی کہتے ہیں نواز شریف اداروں سے تصادم کرتے ہیں، کبھی کہتے ہیں ڈیل کررہے ہیں، تمہاری کون سی بات درست ہے، ہمیں ڈیل کی ضرورت نہیں بلکہ دلیل کی ضرورت ہے جہاں بتایا جائے کہ الزام میں صداقت ہے، زرداری اور عمران جس جھنڈے کے نیچے اکٹھے ہوئے وہ عوام کا نہیں، سینیٹ انتخاب میں عمران نے زرداری کے قدموں میں ووٹ کی پرچی رکھ دی، آپ کے ووٹ کے خلاف سازش میں عمران خان اور کے پی کے حکمران مہرہ بن کر استعمال ہو رہے تھے،الزام خان کی حکومت نے کے پی کے میں کچھ نہیں کیا، خیبر پختونخوا کے حکمرانوں نے عوام کو جھوٹے وعدوں کے سوائے اور کچھ نہیں دیا، ووٹ کوعزت دو کے بیانیے پر سوات کی عوام نے بھی مہر لگا دی ہے،مخالفین کہہ رہے ہیں کہ نواز شریف کا بیانیہ بہت مقبول ہو گیا ہے، یہ بیانیہ حق اور سچ کا بیانیہ ہے اور ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کا بیانیہ ہے، وہ مشرف جس نے ملک کا آئین توڑا، ایک منتخب وزیراعظم کو برطرف کر کے ہتھکڑیاں لگائیں اور کمر کے درد کا بہانہ بنا کر آرام سے ملک سے فرار ہو گیا، بتایا جائے کہ ملک میں یہ دو نظام کیوں ہیں، کسی عدالت میں جرت نہیں کہ اسے لندن سے واپس بلایا جائے۔ سوات کے کبل گرانڈ میں منعقدہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ آج عوام کا سمندر امڈ آیا ہے، آج سوات نے بھی ووٹ کی عزت دو کے نعرے کو لبیک کہہ دیا، کچھ برس قبل سوات کے لوگوں کو دہشتگردی کے باعث گھر چھوڑنا پڑا، وہ صرف مشرف اور زرداری کا پاکستان تھا، وہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور آئین و قانون کے مخالفوں کا پاکستان تھا، آج شہر آباد ہوگیا ہے، دہشتگردی کا خاتمہ ہوچکا ہے، یہ نواز شریف کا مسلم لیگ (ن) اور شیروں کا پاکستان ہے، لوڈ شیڈنگ کے اندھیروں اور دہشتگردی کے اندھیرے ختم کرنے والوں کا پاکستان تھا۔ انہوں نے کہا کہ آپ نے 2013میں جن کو ووٹ دیا تھا انہوں نے صحت کا انصٓف دینے کا پروگرام دیا، صحت دینے کی بجائے وہ اسلام آباد میں جا کر دھرنا دے کر بیٹھ گئے، وہ سپریم کورٹ کے پیچھے بیٹھ گئے۔ یہ لوگ ووٹ کے خلاف سازش کرتے رہے ۔انہوں نے خیبر پختونخوا میں جھوٹے وعدے کیئے اور کھوکھلے نعرے لگائے، جب کے پی کے میں سیلاب آیا تو اس وقت کہا ں تھا عمران خان اور کے پی کے کی حکومت ۔ ڈینگی سے اموات ہورہی تھیں تب کہا ں تھے کے پی کے حکمران ، یہ لوگ اس وقت ووٹ کے خلاف سازش میں مہرہ بن کر استعمال ہورہے تھے۔ مریم نواز نے کہا کہ یہ آج کہہ رہے ہیں کہ نواز شریف کا بیانیہ مقبول ہوگیا ہے، نواز شریف کا بیانیہ حق اور سچ کا بیانیہ ہے۔ کیا نواز شریف کے بیانیے میں اس کا ساتھ دو گے، کہا عوام کے منتخب نمائندے کے ساتھ ہونے والے ظلم کا حساب لوگے۔ آج پورے ملک میں لوگوں نے نواز شریف کا ساتھ دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ سینٹ انتخابات میں جو کچھ ووٹ کی پرچی کے ساتھ ہوا وہ آپکے سامنے ہے جس طرح بلوچستان کی حکومت توڑی گئی تو کیا یہ عوام کے ساتھ ناانصافی نہیں ہے۔ انہون نے کہا کہ عمران خان نے جس کو سب سے بڑی بیماری (آصف زرداری) کہا اسی کے قدموں میں کے پی کے کے عوام کے ووٹ کی پرچی رکھ دی۔ عمران خان کے پی کے کی عوام کو سیدھی طرح کہہ دو کہ تیر کو ووٹ دو، زرداری اور عمران خان بھائی بھائی ہیں۔ یہ دونوں جس جھنڈے کے نیچے اکھٹے ہوئے ہیں وہ عوام کا جھنڈا نہیں ہے اور نہ ہی وہ عوام کا ایجنڈا ہے۔ عوام فیصلے کرنے کا حق منتخب نمائندوں کو دیتے ہیں اگر آپ اپنے نمائنڈوں کو خدمت کا موقع دیتے ہو تو ان کے خلاف نا انصافی پر آواز اٹھانا بھی عوام کا حق ہے۔ مریم نواز نے کہا کہ ہمیں ڈیل کی ضرورت نہیں، ہمیں دلیل کی ضرورت ہے کہ نواز شریف پر الزام کا ثبوت کہا ہے۔ نواز شریف پر 10روپے کی کرپشن ثابت کرکے دکھا دو، ہم نیب عدالت میں پیشیوں کی نصف سنچری مکمل کرنے جارہے ہیں۔ مشرف قانون کو مکا دکھا کر ملک سے نکل گیا ۔مشرف نے آئین توڑا اور ملک و آئین پر قبضہ کیا، منتخب وزیر اعظم کو قید کیا اور جلاوطن کیا اور عمر قید کی سزا دی وہ خود مکا دکھا کر ملک سے باہر چلا گیا۔ کیا آپ کا ووٹ حقیر ہے کہ اس کو مسل دیا جائے، آئین کو توڑنے والے کو کوئی عدالت اس ملک میں واپس نہ لاسکی۔ ہم عدالتوں کا احترام کرتے ہیں، مگر ہم سے اتنقامی فیصلوں کے احترام کی توقع رکھی جائے۔فیصلے خود اپنی عزت کراتے ہیں، سچائی اور عدل پر مبنی فیصلوں کو تنقید اور توہین کا خطرہ نہیں ہوتا ۔مریم نواز نے کہا کہ کبھی دیکھا ہے کہ ملک کا نظام عدل ملک کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن جائے۔ 18لاکھ زیر التواءمقدمات کو چھوڑ کر ایک لیڈر کے پیچھے پڑ گئے ہیں۔ نواز شریف کو بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر نکالا گیا۔ نواز شریف کو جس طرح نااہل کیا گیا اور وزیر اعظم ہاﺅس سے نکالا کیا تو اس سے نواز شریف کی عزت میں کمی نہیں آئی بلکہ عزت میں اضافہ ہوا ہے۔ ملکی بقاءاور سلامتی کا تقاضا ہے کہ اپنے فیصلوں کو درست کرو، مجھ سے وعدہ کرو کہ نواز شریف کا ساتھ نہیں چھوڑو گے، ووٹ کی حرمت کی جنگ لڑو گے، اور اس نظام عدل کے خلاف کھڑے ہوگے، جو ڈکٹیٹر کو سزا نہیں دے سکتا اور منتخب نمائندوں کو انصاف نہیں دے سکتا۔ گرﺅانڈ کے اندر اور باہر نواز شریف اور مریم نواز کی تصاویر اور بینرز آویزاں کیے گئے تھے جب کہ پارٹی رہنماﺅں کے بیٹھنے کے لئے 80 فٹ اونچا اور 24 فٹ چوڑا اسٹیج بھی بنایا گیا ۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر واحد محمود کے مطابق جلسے کے لئے سیکیورٹی کے فول پروف اقدامات کیے گئے تھے۔