سپریم کورٹ کل سےنواز شریف,عمران و دیگر اہم مقدمات کی سماعت کریگی

01 اپریل 2018 (12:28)

عدالت عظمٰی کی اسلام آباد رجسٹری میں  سوموار سے شروع ہونے والے پانچ روزہ عدالتی ہفتہ کے دوران عوامی اہمیت کے حامل جن مشہور مقدمات کی سماعت ہو گی ان میں سابق وزیر اعظم نواز شریف ، پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف توہین عدالت کی الگ الگ درخواستیں سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی بطور چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ تقرری اور سپریم کورٹ کا جج بننے کے خلاف درخواست سپریم کورٹ کے جج جسس مظہر عالم میاں خیل کے خلاف بطور چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کنڈکٹ سے متعلق درخواست سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس شاکر اللہ جان کے دو دو عہدے رکھنے کے خلاف درخواست آئین کے آرٹیکل اٹھاون ٹو بی کی بحالی سے متعلق آئینی درخواست ، کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے لئے ریفرنڈم کرانے سے متعلق درخواست ، بھٹہ مزدوروں کے حقوق اور ان کی سوشل سکیورٹی کے اداروں میں رجسٹریشن سے متعلق درخواست ، لاپتہ افراد کیس ، بے نظیر بھٹو کیس میں ٹرائل کورٹ سے سزا پانے والے سابق ایس پی خرم شہزاد ًحیدر اور سابق سی پی او راولپنڈی سعود عزیز کی ہائی کورٹ سے منظور ہونے والی ضمانتوں کی منسوخی کے حوالے سے دائر اپیل ، بنی گالہ میں ناجائز تجاوزات ، راول ڈیمسے راولپنڈی کے باسیوں کو گندے پانی کی سپلائی کے سکینڈل سے متعلق ازخود نوٹس کیس ، سٹون کرشنگ اور ماربل کی رگڑائی کی وجہ سے خارج ہونے والے خطرناک مواد سے ماحول کو پہچنے والے نقصانات کے حوالے سے ازخود نوٹس کیس ، آرڈیننس نمبر 2012 کے ذریعے سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے غیر قانونی اقدامات کو قانونی قرار دینے کے خلاف درخواست سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف توہین آئینی درخواست ، سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کے حوالے سے درخواستیں ، نیشنل پارک مارگلہ اور ایبٹ آباد کے لورہ جنگلات میں درختوں اور پہاڑوں کی کٹائی کے خلاف ازخود نوٹس کیس سندھ میں چپڑاسی ےک عہدہ سے تیزی سے اور پراسرار انداز میں ڈائریکٹر ایجوکیشن بننے والے محمد اخلاق سے متعلق کیس ، گجرات کے علاقوں جلال پور جٹاں میں غیر قانونی طور پر حشمت میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کھول کر سیدھے سادے طلباءکے والدین سے لاکھوں روپے لوٹنے سے متعلق کیس ، عامر لیاقت کے خلاف توہین عدالت کیس ، میڈیا کمیشن رپورٹ کی سفارشات پر عملدرآمد کیس ، ایم کیو ایم کے اراکین پارلیمنٹ کے استعفوں سے متعلق درخواست ، ادویات کی ناقابل برداشت قیمتوں سے متعلق ازخود نوٹس کیس ، پولی کلینک ہسپتال سمیت سرکاری ہسپتالوں میں آکسیجن کی خریداری میں کروڑوں روپے کی خردبرد اور ادویات کی چوری سے متعلق کیس ، کٹاس راج میں مقامی سیمنٹ فیکٹریوں کے گہرے ٹیوب ویلوں کی وجہ سے مندر کے پانی کے لیول میں خطرناک حد تک کمی کے خلاف ازخود نوٹس کیس ، گوجرانوالہ کے سرکاری ہسپتال کے ایک ڈاکٹر کی جانب سے لیتھوانیا کی خاتون کو مسلمان بنا کر شادی کرنے اور اس سے ہونے والی تین جو بالغ بچیوں کو لے کر بغیر اطلاع پاکستان آ جانے سے متعلق مقدمہ ، قرار داد مقاصد کے نفاذ سے متعلق کیس ، کراچی کے ساحلی علاقوں میں صنعتی مواد پھینکنے کے خلاف کیس ، اور اعلی عدلیہ کے ججز اور 17 ویں سکیل اور اس سے اوپر کے سرکاری ملازمین کی دوہری شہریت سے متعلق ازخود نوٹس کیس شامل ہے ۔ مقدمات کی سماعت کے لئے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار ، جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس اعجاز الاحسن ، بنچ دوئم جسٹس اعجاز افضل خان ، جسٹس مقبول باقر اور جسٹس فیصل عرب ، بنچ سوئم جسٹس گلزار احمد ،جسٹس قاضی فائز عیسٰی اور جسٹس سجاع علی شاہ جبکہ بنچ چہارم جسٹس منظور احمد ملک ، جسٹس سردار طارق مسعود پر مشتمل ہو گا تاہم جمعہ کے روز انہی پانچوں میں رد و بدل کی بنا پر ان کی تعداد پانچ ہو جائے گی۔