چیف سلیکٹر اور چیئرمین،مکی آرتھر کے بیان کا نوٹس لیں،کامران اکمل

01 اپریل 2018

لاہور(حافظ محمد عمران/نمائندہ سپورٹس) وکٹ کیپر بلے باز کامران اکمل کا کہنا ہے کہ کرکٹ کھیلنے کے قابل نہ رہا تو خود ہی چھوڑ جاونگا کسی کو کہنا نہیں پڑے گا۔ میری کرکٹ تو شروع ہوئی ہے۔ میرا کام اپنی فٹنس بحال رکھنا اور جہاں موقع ملے پرفارم کرنا ہے۔ ہر جگہ اسی عزم کے ساتھ جاتا ہوں کہ اپنی کارکردگی سے ٹیم کو فائدہ پہنچاوں۔ میرا کام پرفارم کرنا ہے وہ کر رہا ہوں۔ فرسٹ کلاس کرکٹ، پی ایس ایل اور ہر جگہ عمدہ کھیل کا مظاہرہ کیا ہے۔ یونس خان اور مصباح الحق نیلمبے عرصے تک کرکٹ پرفارمنس کی بنیاد پر کھیلی اور کامیابیاں بھی حاصل کی ہیں۔وہ ان خیالات کا اظہار وقت نیوز کے پروگرام گیم بیٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کے انتخاب کا حق سلیکشن کمیٹی کا ہے۔ کسی دوسرے شخص کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ کسی بھی کرکٹر کی خامیوں کے متعلق بیان دیتا رہے۔ کوئی بھی پرفیکٹ نہیں ہوتا ہر کسی میں خامیاں ہوتی ہیں لیکن اسکا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہیڈ کوچ کھلاڑیوں کے نام لیکر اس کا اظہار کرتے رہیں۔ یہ سلیکشن کمیٹی کی ذمہ داری ہے اسے ہی کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ایک میچ ایک سپیل یا ایک ایونٹ کی کارکردگی کے بجائے کھلاڑیوں کا انتخاب سارے سیزن کی پرفارمنس کی بنیاد پر ہونا چاہیے کسی بھی سینئر کرکٹر کے بارے میں میڈیا میں بیان دینا نامناسب ہے۔ سلیکشن کمیٹی کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اتنی بڑی سلیکشن کمیٹی کس لیے ہے۔ عظیم بلے باز انضمام الحق چیف سلیکٹر ہیں انہیں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے انہوں نے بحثیت کپتان ہمیشہ پرفارمرز کو موقع دیا ہے وہ میرٹ پر سمجھوتہ نہیں کرتے لیکن اس وقت کیوں خاموش ہیں سمجھ سے باہر ہے۔ مکی آرتھر کے رویے پر ناصرف چیف سلیکٹر بلکہ چئیرمین پی سی بی نجم سیٹھی سے بھی اپیل ہے کہ وہ مداخلت کریں۔ کوئی بتا سکتا ہے کہ عامر یامین، حارث سہیل اور عمر امین کیوں باہر ہوئے ہیں۔ میں نے اتنے رنز کیے ہیں قومی سطح کی کرکٹ میں بھی رنز کر رہا ہوں فارم اور فٹنس برقرار رکھنا میرا کام ہے۔ جب کبھی موقع ملا توقعات پر پورا اترنے کی کوشش کرونگا۔ فائنل میں کیچ پکڑنے کی کوشش کی تھی ناکام رہا کچھ لوگ ہمیشہ ہدف بنا کر تنقید کرتے ہیں۔ میں نے پی ایس ایل میں سب سے زیادہ رنز کیے، چھکے لگائے کیچز پکڑے سینچریاں بنائی وہ کسی کو یاد نہیں ایک ڈراپ کیچ سب کو یاد ہے۔ ہمیں اپنی ڈومیسٹک کرکٹ کو اہمیت دینا ہو گی۔ سپر لیگ کے ذریعے ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی ہوئی ہے اس کامیابی پر چئیرمین پی سی بی نجم سیٹھی اور انکی ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے۔ ملک میں امن و امان کی بحالی کا کریڈٹ افواج پاکستان کو جاتا ہے انہوں نے ملک سنبھالا ہوا ہے آج غیر ملکی کھلاڑی بھی سیکیورٹی کی تعریف کر رہے ہیں۔