بجلی کی لوڈشیڈنگ پر سینکڑوں دیہاتیوں کا ایکسین چونیاں ایس ڈی او کیخلاف احتجاج

01 اپریل 2018

چھانگا مانگا+ چنیوٹ+ عارفوالا+ ننکانہ صاحب+ کوٹ رادھا کشن (نامہ نگاران+ نمائندہ نوائے وقت) چھانگا مانگاکے نو اح درجنوں دیہاتوں کے سینکڑوں افراد نے سرکل چونیا ں کے ایکسین کی سرپرستی میں ہونے والی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کرنے والے ملازمین کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔ عوام کا ایکسین چونیا ں اور متعلقہ ایس ڈی او کی غنڈہ گردی کے خلاف شدیداحتجاج، اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس کا مطالبہ۔ متعلقہ ایس ڈی اونے چھانگا مانگا کے نواح ،ٹبی دیال سنگھ، بدھوکی، بھاگوکی، مقام، لہنا سنگھ، کوٹ وساوا سنگھ اور دیگر کئی دیہاتو ں میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ شروع کر رکھی ہے۔ گزشتہ روز بھی مسلسل کئی گھنٹے گزرنے کے بعد بجلی بحال نہ ہوئی تو متعدد دیہاتوں کے سینکڑوں لوگ مین جگہ پر پہنچ گئے جہا ں سے جان بوجھ کر مین ڈی اتار کر درجنوں دیہاتوں کے لاکھوں لوگوں کو اندھیروں میں دھکیل رکھا تھا۔ اہل علاقہ نے سرکل چونیاں کے ایکسین احمد شہزاد سے ایکشن لینے کو کہا تو وہ مختلف حیلے بہانوں سے ٹرخانے لگا جس پر عوام اشتعال میں آگئے اور ایکسین چونیاں اور متعلقہ ایس ڈی او کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ اس موقع پر رائو زبیر، رائو مشتاق، محمد آصف اور دیگر کئی لوگوں نے صحافیوں کو بتا یا کہ ایکسین چونیاں متعلقہ عملہ کی مکمل پشت پناہی کر رہا ہے۔ غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 14 گھنٹوں سے بھی تجاوز کر گیا۔ احتجاج میں شریک سینکڑوں لوگوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، چیف جسٹس آف پاکستان، لیسکو چیف لاہور، وزیر بجلی و پانی اور ایس ای سے مطالبہ کیا ذمہ داران کے خلاف فوری محکمانہ کاروائی عمل میں لائی جائے۔ چنیوٹ و گرد و نواح میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ نے عوام کا جینا حرام کر دیا۔ گھنٹوں بجلی غائب رہنے سے عوام مشکلات سے دوچار ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب بل ویسے کے ویسے ہیں۔ لوڈشیڈنگ کے باعث کاروبار بھی ختم ہو چکا ہے۔ گھریلو صارفین کو مشکل میں ہیں، مسجدوں میں بھی پانی غائب ہے۔ عوام نے مطالبہ کیا بنیادی سہولیات کے ساتھ ساتھ لوڈشیڈنگ سے بھی نجات دی جائے۔ عارفوالا و گرد نواح میں غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ12سے16گھنٹے تجاوز کرگیا۔ شدید گرمی میں مچھروں و مکھیوں کی افزائش بڑھنے سے عوام شدید پریشانی کا شکار ہو کر رہ گئے ہیں۔ ننکانہ صاحب و گرد و نواح میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ لوگوں کی راتوں کی نیندیں حرام ہوچکی ہیں اور شہریوں کی بڑی تعداد مچھروں کے کاٹنے سے ملیریا بخار میں مبتلا ہونا شروع ہوگئی ہے۔ شہریوں نے شدید احتجاج کرتے صحافیوں کو بتایا کہ ایک طرف سے حکومتی نمائندے ملک سے لوڈشیڈنگ کے مکمل خاتمہ کے بلندو بانگ دعوے کر رہے ہیں دوسری طرف ننکانہ صاحب اور اس کے گردونواح میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ حکومتی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ کوٹ رادھاکشن میں سولہ گھنٹے کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے عوام کی چیخیں نکلوا دیں۔ کاروبار ٹھپ۔ سماجی، صحافی حلقوںنے ارباب اختیار سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔