’’پامی‘‘ کی میڈیکل کانفر نس اختتام پذیر، طبی تعلیم کے فروغ کی جہد و جہد جاری رکھنے کا عزم

01 اپریل 2018

اسلام آباد(سٹی رپورٹر)پاکستان ایسوسی ایشن آف پرائیویٹ میڈیکل اینڈ ڈینٹل انسٹی ٹیوشنز (پامی) کے زیر اہتما م ایسوسی ایشن فار ایکسیلینس میڈیکل ایجوکیشن کی کانفرنس2018 ء اختتام پذیرہو گئی۔ اختتامی تقریب کے مہمان خصوی لیفٹیننٹ جنرل سید محمد عمران مجید نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میڈیکل کانفرنسیں شرکاء کیلئے مفید معلومات کا زریعہ ثابت ہو تی ہیں جن سے فکلٹی ممبران کو ایک دوسرے کے کامیاب تجربات سے مستفید ہونے کا موقع ملتا ہے اور میڈیکل سٹوڈینٹس کو اپنی طبی تعلیم و تحقیق کی کاوشوں کو اجاگر کرنے مواقع حاصل ہوتے ہیں۔ صدر پامی سہیل طارق نے کہا کہ میڈیکل کانفرنس میں بڑی تعداد میں طبی ماہرین اور منتظمین کی شرکت سے اہم امور پر سیر حاصل بحث ہوئی ہے اور مستقبل کے لئے قابل عمل سفارشات مرتب کی گئی ہیں ۔ پامی کے جنرل سیکریٹری خاقان وحید خواجہ نے کہاکہ پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر میں قائم میڈیکل کالج ملک میں معیاری طبی تعلیم کے لئے کوشاں ہیںاور کانفرنس میں جہاں طبی تعلیم و تحقیق کے فروغ پر غور کیا گیا ہے وہاں پیشہ وارانہ مہارت میں اضافے کے لئے بھی متعدد اقدامات پر اتفاق رائے پیدا کیاگیا ہے۔ قبل ازیں امریکہ اور برطانیہ سے خصوصی طور پر کانفرنس میں شریک جان نارچینی اور جینٹ گرانٹ نے کانفرنس کو انتہائی مفید اور کارآمد قرار دیا اور کہاکہ اس نوعیت کی سرگرمیوں سے ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ حاصل ہوتا ہے اور مستقبل میں بہتری کی راہیں متعین ہو تی ہیں۔ کانفرنس کے آخری روز فرنزک میڈیسن اینڈ کریمینل جسٹس، ہیلتھ کیئر سروسز اور اور معاشی ترقی، طبی تعلیم ریفارمز اور موجود ہ صورت حال، طبی تعلیم و کمیونیکیشن سکلز، بچوں میں سانس کے امراض، انفکشن، مریضوں کی آرائ، ریڈیالوجی ٹریینگ اور اسی نوعیت کے دیگر اہم امور کے بارے میںمقالے پیش کئے گئے۔ کانفرنس کے اختتام پر شیلڈز پیش کی گئیں ۔ ڈاکٹرجان ناجرچینی اور جینیٹ گرانٹ نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان میں طبی تعلیم و تحقیق کا اعلی معیار قائم ہے جس کی وجہ سے نوجوان ڈاکٹروں کو ہر ممکن رہنمائی اور سہولیات حاصل ہیں انہوںنے اس سلسلے میں اپنے بھر پور تعاون کا یقین دلایا اور پامی کی طرف سے کامیاب میڈیکل کانفرنس کے انعقاد پر منتظمین کو مبارک باد پیش کی۔