بے چارے ’’عوام‘‘ اور ’’ سرزمین مسائل ‘‘

01 اپریل 2018

پاکستان کنفیوژن کا شکار، ایک ایسا ملک بن گیا ہے جہاں اپنی معاشرتی حیثیت سے قطع نظر ہر عام پاکستانی الجھن میں مبتلا‘ پریشانی کے عالم میں زندگی گزار رہا ہے۔ الجھائو اور خوف وہراس ہمارے نظام کا ایک ایسا ناگزیر حصہ بن چکا ہے کہ اسکے بغیر زندگی بسر کرنے کا تصور ہی محال ہوکر رہ گیا ہے۔ زندگی میں یا تو خود کنفیوژن کا شکار ہوتے ہیں تا پھر دوسری صورت میں کسی الجھن اور پریشانی کی صوریحال کا سامنا ہوتا ہے۔
سرکاری ملازمین کو درپیش معاملات میں فیصلہ کرنے میں کنفیوژن پیش آتی ہے۔ افسر شاہی حقائق کی روشنی میں میرٹ پر فیصلہ کرے تو سیاسی آقائوں کی ناراضی کا خطرہ ہوتا ہے جبکہ سیاسی آقائوں کی مرضی ومنشا کے مطابق فیصلہ کرنے میں نیب اور ایف آئی اے کے غضب کو دعوت دینے کے مترادف ہوتا ہے جسکے نتیجے میں انکی آخری منزل جیل بھی ہوسکتی ہے اور جب وہ اپنے کئی ساتھیوں کو اس صورتحال کا سامنا کرتے دیکھتے ہیں تو لامحالہ وہ زیادہ پریشان ہو جاتے ہیں۔ کنفیوژن اور الجھائو کی اس صورتحال کا اثر سرکاری فرائض کی انجام دہی میں تاخیر کی صورت میں برآمد ہوتا ہے جس سے عوام کی تکالیف میں اضافہ اور حکومتی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ حکومتی اہلکار اپنے سیاسی آقائوں کے غیظ وغضب اور احتساب کے خوف کے دو پاٹوں کے درمیان پھنسے کنفیوژن میں مبتلا ہوتے ہیں۔ پالیسی میکرز اور فیصلہ ساز یوں عضو معطل ہوکر رہ جائیں تو اس سے اکثر کئی حکومتی شعبہ جات میں کام ٹھپ ہوکر رہ جاتا ہے جبکہ کئی اہم معاملات فوری اور بروقت فیصلوں کے متقاضی ہوتے ہیں۔ گڈ گورننس کیلئے احتساب کا خوف اپنی جگہ درست سہی لیکن گورننس سسٹم اور اداروں کی مضبوط کارکردگی کی بنیادوں پر استوار ہوتی ہے۔ بدقسمتی ہے کہ سسٹم شکست وریخت کا شکار ہے۔ اقرباء پروری اور کرپشن نے اسے بری طرح کھوکھلا کرکے رکھ دیا ہے۔ اس کا علاج چند آئینی اقدامات سے ممکن نہیں۔ صورتحال میں بہتری لانے کیلئے اسے قومی ترجیح قرار دے کر پورے سسٹم کی اوورہالنگ ناگزیر ہے۔
آج جس صورتحال کا ہمیں سامنا ہے‘ ہم دیکھتے ہیں کہ نیب اور ایف آئی اے کے ڈر اور خوف کے باوجود پبلک ڈیلنگ دفاتر کرپشن میں ملوث ہیں اور کرپشن کی سطح ماضی سے مختلف نہیں۔ یہ سرگرمیاں کسی جوابدہی کے خوف سے بے پرواہ حسب سابق جاری ہیں۔ جب عام لوگ بدعنوان سرکاری ملازمین کے ہاتھوں اس صورتحال کا سامنا کرتے ہیں تو وہ یہ سوچ کر مزید پریشان اور الجھن میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ آیا یہ سرکاری ملازمین عوام کو سہولیات اور ریلیف دینے کے ذمہ دار ہیں یا ان کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کرنے پر مامور ہیں۔ پاکستان آج دنیا کے 180 کرپٹ ملکوں کی فہرست میں 117 ویں نمبر پر ہے اور گزشتہ دو برسوں کے دوران میں 3.4 بلین ڈالر سرمایہ پاکستان سے خلیجی ریاستوں میں منتقل ہونے کی خبریں ہیں جبکہ اسکے ساتھ ذہین اور ہنرمند لوگوں کی نقل مکانی لمحہ فکریہ سے کم نہیں۔ مؤکل‘ درخواست گزار عدالت میں ریلیف پانے کی بڑی امیدیں لیکر آتے ہیں لیکن یہاں بھی انہیں اپنی درخواست کے حوالے سے کسی طرح بھی جڑے شخص کے ہاتھوں چاہے وہ وکیل ہو‘ اسکا منشی ہو یا عدالتی اہلکار سے سابقہ پڑتا ہے اور اسے جس سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ عدالتی نظام اور طریق کار کے باعث پریشانی اور الجھن میں مبتلا ہو جاتا ہے جہاں اسے کوئی ریلیف اور سہولت ملنے اور دادرسی پانے کے بجائے‘ وقت‘ پیسے کے ضیاع کے باعث مزید ذہنی کوفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس پریشانی اور کوفت سے دلبرداشتہ ہوکر وہ دادرسی کی امید سے مایوس ہوکر اپنے حق کو ہی خیرباد کہہ دیتا ہے جبکہ اس دوران انصاف پانے کی امید میں کئی لوگ زندگی کی بازی ہی ہار جاتے ہیں۔ اس صورتحال پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ سوال اپنی جگہ بڑا اہم ہے اور اس کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ کریمنل جسٹس سسٹم نے کنفیوژن میں اضافہ کیا ہے یا پھر انصاف مانگنے والا کنفیوژن کا شکار ہے۔ اس قومی المیے پر غوروخوض وقت کی ضرورت ہے۔ ایک مضبوط سیاسی نظام حقیقی جمہوریت کی ضمانت ہے اور جمہوریت کو آئین پر عملدرآمد سے مضبوطی اور توانائی ملتی ہے۔ ہمیں ابھی دیکھنا ہوگا کہ آیا ہمارا سیاسی نظام کثیرالجہتی کنفیوژن سے آزاد ہے یا نہیں جبکہ موجوہ دور کنفیوژن کا ایک بدترین ماڈل پیش کر رہا ہے۔ حکومت‘ حزب اختلاف اور سیاسی جماعتیں اور ادارے عوام کو کچھ ریلیف دینے میں ناکام رہے ہیں۔ یہ بلیم گیم کا دور ہے‘ ہر لیڈر تبدیلی لانے کے بلندوبانگ دعوے تو کر رہا ہے لیکن کوئی لیڈر خود اپنے اندر تبدیلی لانے کیلئے تیار نہیں۔
ہم کس تبدیلی کی بات کرتے ہیں اور ہم سیاست دان اور ادارے اب تک کیا تبدیلی لائے ہیں؟ اس کا جواب نفی میں ہے۔ اس کے بعد کیا ہم ایک متحد قوم ہونے کا دعویٰ کرسکتے ہیں؟ جی نہیں! قوم اہم اور بنیادی پالیسیوں بارے یکجہت نہیں۔ معاشی مسائل کا حل نہیں ڈھونڈ سکے‘ قرضوں کیلئے جھولی پھیلانا بند نہیں کی، آنے والی نسلوں کیلئے آسودگی کا کوئی سامان نہیں کیا، عام آدمی کی الجھنیں اور پریشانیاں دور کرنے کیلئے کوئی لائحہ عمل ترتیب دیا‘ نہ اپنی پالیسیوں اور کریمنل جسٹس پروگرام میں کوئی بہتری لائے‘ نہ قومی ہیلتھ پروگرام دے سکے۔ اس سب کے باوجود ہم کیونکر ایک متحد قوم ہونے کا دعویٰ کرنے میں حق بجانب قرار پاسکتے ہیں۔ اگر کوئی لیڈر‘ پرجوش تقریروں‘ دشنام طرازی اور بلند وبانگ دعوئوں کو ہی کافی سمجھتا ہے تو کوئی بھی اس سے یہ پوچھنے میں حق بجانب ہے کہ کیا اسکی ان باتوں سے عام آدمی کی مشکلات میں کوئی کمی ہوسکتی ہے؟ سیاسی نعرے نہ غریب کو روٹی اور نہ اس کے بچوں کو اچھی تعلیم وصحت فراہم کرسکتے ہیں؟ کیا پیسے لگا کر بڑے بڑے جلسے کرلینے سے عوام کے مسائل حل ہو جائینگے؟ عام آدمی جلسوں میں‘ یا ٹی وی کی سکرین پر ان لیڈروں کے بلند وبانگ دعوے سن کر مزید گڑبڑا جاتا ہے کیونکہ ایسے جلسوں اور تقریروں سے تو اب تک اسکی زندگی میں کوئی بہتری نہیں آئی۔ وہ بدستور غربت کی چکی میں پس رہا ہے‘ اسکے دکھ اور محرومیوں میں کئی گنا اضافہ ہوچکا ہے۔ پاکستان دنیا کے غریب ترین ملکوں کی فہرست میں 53ویں نمبر پر ہے پھر بھی دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ہماری معیشت ترقی کر رہی ہے لیکن عملاً کہیں نظر نہیں آرہا کہ معیشت کی بہتری کیلئے کچھ ہو رہا ہے۔
2017ء میں ہماری برآمدات 3.3فیصد کمی کے ساتھ گھٹ کر 20ارب ڈالر رہ گئیں حالانکہ اس سے ایک سال پہلے برآمدات 25ارب ڈالر تھیں۔ مختلف ملکوں کی کرنسیوں کا ڈالر سے تقابلی جائزہ ظاہر کرتا ہے کہ ہمارے روپے کی قدر بنگلہ دیش اور بھارت سے بھی کم ہے۔ جہاں علی الترتیب ایک ڈالر 83.09 ٹکا اور 65.04 روپے کے برابر ہے۔
بڑھتی ہوئی غربت پاکستان کو خط غربت سے مزید نیچے لے جارہی ہے۔ غریب آدمی ایک بار پھر جھوٹے نعروں کے فریب میں آکر انہیں سیاستدانوں کو ووٹ دیگا کہ شاید اس بار ووٹ اس کی زندگی میں تبدیلی لے آئے۔ وہ ووٹ اور تبدیلی کے درمیان بٹ کر رہ گیا ہے اور یہ صورتحال اسکے الجھائو اور دکھ میں مزید پریشانی کا باعث بن رہی ہے۔ غربت اور مایوسیاں غریب اور امیر کے درمیان نہ ختم ہونیوالے ٹکرائو کو جنم دے رہی ہیں‘ یہ ایک خطرناک صورتحال ہے۔ قومی مفادات کا تقاضا ہے کہ ایسی صورتحال کی نوبت نہ آنے دی جائے۔ 2016ء کی ایک تجزیاتی رپورٹ کے مطابق 30فیصد پاکستانی گونا گوں قسم کی غربت سے دوچار ہیں۔ فاٹا اور بلوچستان میں غربت کی شرح بہت زیادہ ہے‘ جہاں ملک کی 29.5فیصد آبادی (ساڑھے پانچ کروڑ) خط غربت سے نیچے رہ رہی ہے۔ یہ اعدادوشمار مایوس کن ہی نہیں بلکہ پریشان کن بھی ہیں۔ یہ کس قسم کی پالیسیاں ہیں جو ہماری حالت بہتر بنانے کی بجائے بدتر بنا رہی ہیں۔ ہم ناکامیوں سے کوئی سبق نہیں لیتے کہ وطن عزیز مزید غربت اور جہالت کی طرف بڑھ رہا ہے۔ عام آدمی اس قدر پریشان اور کنفیوژڈ ہوگیا ہے کہ اب اس نے اپنے مستقبل کو غیبی (خدائی) امداد پر چھوڑ دیا ہے۔ اب غریبوں کی حالت بہتر بنانے کیلئے منصوبہ بندی کرنا ضروری ہوگیا ہے۔ کم ازکم دو بجٹ غربت سے چھٹکارے کیلئے مخصوص کر دیئے جائیں۔ ملک کے انسانی رویوں کا قریبی شاہد ہونے کی حیثیت سے یہ میرے ذاتی احساسات ہیں۔ میں نے عام آدمی کی آنکھوں میں عدم اطمینان کی واضح جھلکیاں دیکھی ہیں۔ عام آدمی‘ غریب اور امیر کے درمیان فاصلے کو شدت سے محسوس کرنے لگا ہے۔ کیا ہم ایسی پالیسیاں بنائیں گے جو محروم طبقوں اور اہل وسائل کے درمیان فاصلوں کو کم کرسکیں یا پھر اس خلیج کو مزید وسیع ہونے کیلئے کھلا چھوڑ دیں گے۔
اس صورتحال میں ملک کو سخت نقصان پہنچے گا۔ ریاست کو سوچنا چاہیے کہ ایک غریب خاندان کو اپنا بچہ خودکش بمبار بننے کیلئے کیوں فروخت کرنا پڑتا ہے یا ایک باپ اپنے بچوں سمیت خودکشی پر کیوں مجبور ہو جاتا ہے۔ یہ سارے المیے معاشرے میں غربت کی کوکھ سے جنم لیتے ہیں۔ 2017ء کی ایک رپورٹ کیمطابق ملک میں 2کروڑ 26لاکھ (44فیصد) بچے سکول نہیں جارہے ہیں۔ اس سے تعلیمی پالیسی کی ناکامی کی عکاسی ہوتی ہے۔ 2017ء میں ایک دوسالہ سروے میں بتایا گیا تھا کہ اس عرصے میں ملک کے 35 مختلف شہروں میں 300 سے زائد افراد نے خودکشی کرلی۔ اس سروے میں یہ بھی بتایا گیا کہ خودکشی کرنے والوں میں مردوں اور عورتوں میں 2,1 کی نسبت ہے۔ دنیا کے غیر محفوظ ملکوں میں پاکستان چوتھے نمبر پر ہے۔ اس ماحول میں باہر سے سرمایہ کاری کرنے کون آئیگا۔
اسے ’’کمیونل کنفیوژن‘‘ کہا جاتا ہے۔ قوم یہ پوچھنے میں حق بجانب ہے کہ ہم ترقی پذیر ملکوں کی قطار میں بھی اتنا پیچھے کیوں ہیں؟ حالانکہ وطن عزیز قدرتی وسائل سے مالا مال ہے اور وسیع وعریض ذرخیز اراضی بھی ہے۔ قوم یہ بھی پوچھنے کا حق رکھتی ہے کہ ہم اب تک ملک وقوم کی بہتری کیلئے ان قدرتی وسائل سے استفادہ کیوں نہیں کر پائے؟ کیا ہم کسی غیبی امداد کے منتظر ہیں کہ جو آکر ملک کو خوشحال بنا دے گی لیکن ’’خدا بھی ان کی مدد کرتا ہے جو اپنی مدد آپ کرتے ہیں‘‘ آیئے! ملک وقوم کو اس دلدل سے نکالنے کیلئے ہم سب مل کر کام کریں۔