’’ووٹ کو تقدس دو‘‘ کا نعرہ

01 اپریل 2018

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نواز شریف نے پارٹی کی مرکزی جنرل کونسل کے اجلاس میں انتہائی جذباتی انداز میں بار بار ’’ووٹ کو تقدس دو‘‘ کا نعرہ لگوا کر کارکنوں کے ذہن میں یہ بات نقش کر دی ہے کہ مسلم لیگ (ن) کا انتخابی نعرہ کن الفاظ پر مبنی ہو گا اور مسلم لیگ (ن) کے منشور کا محور ہی ’’ ووٹ کو تقدس دو‘‘ ہو گا۔ انہوں نے عوام سے وعدہ لیا ہے کہ وہ ووٹ کے تقدس کیلئے میدان میں اُتریں اور خود بھی عوام سے وعدہ کیا کہ وہ اس مشن کی تکمیل میں کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ میاں نواز شریف ووٹ کے تقدس کو آئندہ انتخابات میں ریفرنڈم بنانا چاہتے ہیں۔ انکے ذہن میں مستقبل کا سیاسی نقشہ ہے‘ وہ ووٹ کے تقدس کی طویل جنگ لڑنا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے انہوں نے نے پارٹی کی مرکزی جنرل کونسل کے اجلاس میں جہاں پارٹی کارکنوں کو ’’گائیڈ لائن ‘‘ دی ہے وہاں انہوں نے عوام سے بھی آئندہ انتخابات میں’’ ووٹ کو تقدس دینے کی جنگ ‘‘میں ان کا ساتھ دینے کا عہد لیا ہے۔ میاں نواز شریف آئندہ انتخابات میں پارٹی منشور میں ووٹ کو تقدس دینے کے نعرے کو اولیں ترجیح دینا چاہتے ہیں انہوں نے واضح کر دیا ہے کہ آئندہ انتخابات میں ’’تعمیر و ترقی ‘‘ کو ثانوی حیثیت حاصل ہو گی کیونکہ جب تک ووٹ کو پائوں تلے پامال کرنے والی قوتوں کو شکست نہیں ہو گی اس وقت تک ملک میں تعمیر و ترقی کا عمل تسلسل سے جاری و ساری نہیں رہ سکتا۔ وہ اس بات پر دکھی ہیں کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کوئی وزیر اعظم اپنی آئینی مدت پوری نہیں کر سکا۔ 17 وزرائے اعظم کو مختلف حیلوں بہانوں سے اقتدار سے نکالا گیا۔
مارشل لا ء کی طویل سیاہ راتوں نے نہ صرف ملک کو تاریک دور میں دھکیل دیا بلکہ جمہوریت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ۔بار بار ملک میں ’’ پسندیدہ سیاسی جماعتوں کی ’’نرسریاں ‘‘ لگا کر’’ تابعدار ‘‘ قیادت لانے کی کوشش کی گئی۔ میاں نواز شریف پاکستان کے واحد سیاست دان ہیں جنہیں تیسری بار وزیر اعظم بننے کا اعزاز حاصل ہوا ہے لیکن بدقسمتی کی بات ہے انہیں تینوں بار اپنی آئینی مدت پوری نہیں کرنے دی گئی، کبھی انہیں مارشل دور کے قانون 58 (2) بی کے بے رحمانہ استعمال سے اقتدار سے نکا ل دیا گیا کبھی ’’پرویزی مارشل لائ‘‘ کے ذریعے ان کو سعودی عرب جلا وطنی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور کر دیاگیا اور اب تیسری بار ان کو اقتدار سے نکالنے کا انوکھا طریقہ اختیار کیا گیا انہیں اپنے بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ لینے اور’’ اقامہ ‘‘ رکھنے کے ’’جرم ‘‘ میں ’’نا اہل ‘‘ قرار دیکر اقتدار سے نکال دیا گیا۔ یہ بات پاکستان کی سیاسی تاریخ کا حصہ ہے کہ میاں نواز شریف کو کبھی آئینی مدت پوری نہیں کرنے دی گئی اب کی بار حکومت عدلیہ کے جس فیصلے کا سہارا لے کر ختم کی گئی اسے پاکستان کے عوام کی طرف سے پذیرائی نہیں ملی ۔ میاں نواز شریف نے اپنے سیاسی بیانیہ میں ’’مجھے کیوں نکا لا گیا ‘‘کا سوال کھڑا کیا ہے۔ اس فیصلے کے بارے میں انہوں نے بار بار عوامی اجتماعات میں رائے لیکر عوامی عدالت سے اپنی بے گناہی کا سرٹیفکیٹ حاصل کیا ہے۔ میں میاں نواز شریف کو اس روز سے جانتا ہوں جب انہوں نے میدان سیاست میں قدم رکھا ان پر اسٹیبلشمنٹ کا آدمی ہونے کا الزام عائد کیا جاتا تھا لیکن اس بات کا جائزہ لیا جائے کہ وہ کیا وجوہات تھیں جن کی بنا پر میاں نواز شریف کو اقتدار سے نکالا گیا ہے، ان میں سب سے نمایاں بات یہی نظر آتی ہے کہ ان میں نتائج کی پروا کئے بغیر ’’سول ‘‘ اتھارٹی کو منوانے کا جنون کی حد تک عزم پایا جا تا ہے۔ شاید انکے اقتدار کے خاتمہ کی ایک وجہ یہ بھی ہو کہ وہ پارلیمنٹ کی بالا دستی منوانے کی جنگ وقتی طور ہار گئے ہیں لیکن انکے سیاسی بیانیہ سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ سول بالادستی کی لڑائی اس وقت جاری رکھنا چاہتے ہیں جب تک وہ ووٹ کی عزت منوا نہیں لیتے ۔
کچھ لوگوں کا خیال ہے میاں نواز شریف کے اقتدار کا خاتمہ ’’سول ملٹری تعلقات کار‘‘ میں کشیدگی کا شاخسانہ ہے ممکن ہے اس رائے میں کچھ صداقت بھی ہو لیکن میاں نواز شریف کے ’’ووٹ کو عزت دینے ‘‘ میں بڑا وزن ہے اس نعرے کے پیچھے پاکستان کی پوری سیاسی تاریخ ہے کس طرح ماضی میں ووٹ کے تقدس کو مجروح کیا جاتا رہا پاکستان کے کروڑوںووٹوں سے منتخب ہونیوالے وزیر اعظم کو بیک جنبش قلم اقتدار سے نکال دینا در اصل ووٹ کی تذلیل ہے، سو اب میاں نواز شریف نے ووٹ کے تقدس کی بحالی کا بیڑہ اٹھا یا ہے۔ جب میاں نواز شریف نے اقتدار سے نکالنے جانے کے بعد پہلا جلسہ کیا تو انہیں بھی اس با ت کا اندازہ نہیں تھا کہ انکے ’’سیاسی بیانیہ‘‘ کو اس قدر پذیرائی حاصل ہو گی۔ جوں جوں وہ جلسوں سے خطاب کر رہے ہیں ان کو عوام کی جانب سے غیر معمولی پذیرائی مل رہی ہے اسی وجہ سے انہوں نے ووٹ کے تقدس کو ملک کا سب سے بڑا ایشو بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ وہ اس معاملہ میں اس حد تک سنجیدہ ہیں کہ انہوں نے ان تمام ساتھیوں سے قطع تعلق کر لیا ہے جو انکے ’’ سیاسی بیانیہ‘‘ سے اتفاق نہیں رکھتے۔

ملک کو اندھیروں سے نکالنا اور دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا میاں نوازشریف کے دور حکومت کی بڑی کامیابیاں ہیں انہوں نے ملک میں شاہراہوں کا وسیع نیٹ ورک قائم کیا ہے‘‘ سی پیک بہت بڑی کامیابی ہے۔ اسی لئے میاں نواز شریف کا یہ استفسار کہ’’ مجھے کیوں نکالا گیا ہے؟‘‘ آخر ان کا قصور کیا ہے؟ عوام بھی ان کے ساتھ ہم آواز ہو کر یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ ان کے ووٹ کی بار بار کیوں تذلیل کی جاتی ہے۔ اب میاں نواز شریف عوام سے ایوا ن زیریں میں دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کیلئے ووٹ مانگ رہے ہیں تاکہ وہ ووٹ کی قوت سے پارلیمنٹ کو اس حد تک مضبوط بنالیں جس سے ووٹ کے تقدس کو یقینی بنایا جا سکے۔ وہ سمجھتے ہیں ایوان بالا میں جس طرح انکی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کیا گیا اب ایوان زیریں میں بھی ایسا ہی ڈرامہ رچانے کی کوشش کی جائے گی‘ جسے ناکام بنانے کیلئے انہوں نے ابھی سے پیش بندی شروع کر دی ہے۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ میاں نواز شریف کو دوسری بار پارٹی کی صدارت سے ہٹا نے کے با وجود ان کی حیثیت میں کوئی کمی نہیں آئی کیونکہ پارٹی کے اندر اور باہر انکے ہی ’’سیاسی بیانیہ‘‘ کو پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔ میاں نواز شریف کو پارٹی کا ’’تاحیات قائد ‘‘ کا درجہ دے دیا گیا ہے۔ اس فیصلہ سے ان تمام قوتوں کو یہ پیغام دے دیا گیا ہے کہ میاں نواز شریف کو پارٹی کے عہدے سے تو ہٹایا جا سکتا ہے لیکن ان کو مسلم لیگی کارکنوں کے دلوں سے نہیں نکالا جا سکتا ۔ مرکزی جنرل کونسل کے اجلاس میں دیکھے جانے والے مناظر سے یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ میاں نواز شریف کو سیاسی منظر سے ہٹانا کسی ’’سیاسی و غیر سیاسی‘‘ قوت کے بس کی بات نہیں کیونکہ میاں نواز شریف ایک سیاسی حقیقت ہے‘ جسے غیر سیاسی ہتھکنڈوں سے میدان سیاست سے باہر نہیں نکا لاجا سکتا۔ اس وقت مخالف سیاسی عناصر میاں نواز شریف کا مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ میاں نواز شریف کے ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کے ’’سیاسی بیانیہ ‘‘کو عوام میں زبردست پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔ گلی گلی کوچہ کوچہ ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کا نعرہ لگ رہا ہے۔ عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کا انتخابی نعرہ ہی ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ ہو گا، میاں شہباز شریف نے واضح کر دیا ہے کہ ’’ پارٹی کا کوئی رکن نواز شریف کی جگہ لینے کا تصور بھی نہیں کر سکتا، نواز شریف کل بھی ہمارے قائد تھے، ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے۔ یہ پاکستان کے عوام کی خوش قسمتی ہے کہ ان کو نواز شریف جیسا قائد ملا‘‘ انہوں نے نواز شریف کو قائداعظم کا سیاسی وارث قرار دیا اور کہا کہ قائد نواز شریف کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے جس کا ازالہ ایک دن ضرور ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ’’میں نے ہمیشہ نواز شریف سے رہنمائی حاصل کی ہے‘‘۔ یہ ’’ سیاسی جبر ‘‘کی بدترین مثال ہے کہ پاکستان کے مقبول ترین قائد کو 7،8ماہ کے دوران دوسری بار سیاسی افق سے ہٹانے کی غیر سیاسی کوشش کی گئی ہے لیکن یہ بات پیش نظر رکھنی چاہیے۔ عوام نے اس اقدام کو قبول کیا ہے اور نہ ہی اس کی تائید کی بلکہ ’’جبر ‘‘ کے نتیجہ میں میاں نواز شریف کی مقبولیت میں اضافہ ہی ہوا ہے !

ووٹ کا تقدس

آ ج کل پاکستان کا سیاسی ماحول پراگندہ اور انتہائی آلو دہ دکھائی دیتا ہے جو ...