عدم تعاون پر جرمنی کا پاکستانی اوربھارتی شہریوں کو ویزا نہ دینے کا فیصلہ

01 اپریل 2018

برلن (آن لائن)جرمن حکومت نے کہاہے کہ بھارت اور پاکستان سمیت کئی دیگر ممالک اپنے شہریوں کی وطن واپسی میں جرمنی کیساتھ تعاون کرنے سے گریزاں ہیں،ایسے ممالک کے عام شہریوں کے لیے جرمن ویزے کا حصول مشکل بنانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ہفتہ کو غیر ملکی میڈیارپورٹس کے مطابق جرمنی کی 16وفاقی ریاستوں کے وزارائے داخلہ کی کانفرنس کے سربراہ ہولگر شٹاہلنخت نے اس رپورٹ کے بعد وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ تارکین وطن کی واپسی میں جرمنی سے تعاون نہ کرنیوالے ممالک کے شہریوں کے لیے جرمن ویزے کا حصول مشکل بنایا جائے۔صوبائی وزرائے داخلہ نے میڈیا نمائندگان سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا ہی کی مثال لے لیجیے،نئی دہلی کے جرمنی میں تجارتی اور اقتصادی مفادات ہیں۔اگر وہ جرمنی میں مقیم اپنے ایسے شہریوں کی واپسی میں تعاون نہیں کریں گے،جن کی پناہ کی درخواستیں مسترد کر دی گئی ہیں تو بھارتیوں کے لیے ویزے کا حصول مشکل بنانے کے بعد نئی دہلی کے اقتصادی مفادات کو بھی شدید نقصان پہنچے گا۔جرمن ریاست سیکسنی انہالٹ کے وزیر داخلہ کے مطابق صوبائی حکومتیں 78 فیصد تارکین وطن کو محض اس لیے ملک بدر نہیں کر پائیں کیوں کہ ایسے پناہ گزینوں کے آبائی ممالک ان کی واپسی کے لیے برلن حکومت سے تعاون پر تیار نہیں۔ صوبائی وزرائے داخلہ کی کانفرنس نے نئے وفاقی وزیر داخلہ ہورسٹ زیہوفر کی جانب سے تارکین وطن کی ملک بدریوں میں اضافہ کرنے کی کوششوں کی حمایت کی ہے۔