میونسپل کارپوریشن نے آخری سہ ماہی کیلئے 2ارب 82کروڑ 14لاکھ کے ترمیمی بجٹ کی منظوری دیدی

01 اپریل 2018

راولپنڈی (نیوز رپورٹر) میونسپل کارپوریشن راولپنڈی نے مالی سال 2017-18 کی آخری سہ ماہی کے لئے 2ارب 82کروڑ 14لاکھ 18ہزار کے ترمیمی بجٹ کی منظوری دے دی ۔میئر راولپنڈی کی جانب سے تمام چیئرمینوں کو آخری 3ماہ میں25سے30لاکھ روپے فی یونین کونسل مزیدترقیاتی فنڈز کی پیشکش پر منتخب اراکین نے بجٹ کا مسودہ پڑھا اور اس پر بحث کئے بغیر ہی ترمیمی بجٹ منظور کر لیا ۔منتخب اراکین نے بجٹ پر بحث کے لئے میئر راولپنڈی کے بار بار توجہ دلانے کے باوجود اپنی توجہ یونین کونسلوں میں پینے کے پانی اورصفائی کے ناقص نظام پر مرکوز رکھی چیئر مینوں کی جانب سے مسائل کا رونا رونے پر ہائوس مچھلی بازار بنا رہا جس پر کنونیئر نے اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دیا ۔ خصوصی بجٹ اجلاس ہفتہ کو ڈپٹی میئر و کنونیئر چوہدری طارق کی صدارت میں ہوا اجلاس میں میئر راولپنڈی سردار نسیم چیف میونسپل افسر شفقت رضا کے علاوہ میونسپل افسران اور منتخب مردو خواتین کی بڑی تعداد موجود تھی اس موقع پر اراکین نے بجٹ کو پڑھے ، سنے اور سمجھے بغیر ہی اس کی منظوری دیتے ہوئے یونین کونسلوں میں درپیش مسائل پر با ت کرنا شروع کر دی جس پر میئر سردار نسیم ارکان کو بار باربجٹ پر بات کرنے کی ہدایت کر تے رہے اجلاس میں سینٹ الیکشن میں ہونے والی ہارس ٹریڈنگ اور لاہور میں ینگ ڈاکٹرز کی جانب سے مریض کے ورثا پر تشددکے واقع پر ہائوس میں احتجاج کیا گیا اور ہائوس مچھلی منڈی بنا رہااس موقع پرمیئرسردار نسیم نے سال 2017-18کے تین ماہ کا بجٹ پیش کیا۔ جس میںہائوس کو بتایا گیا کہ 2ارب 82کروڑ 14لاکھ 18ہزارروپے کے ترمیمی بجٹ میں ترقیاتی اخراجات کا تخمینہ 1ارب87کروڑ59لاکھ 14ہزار روپے جبکہ غیر ترقیاتی اخراجات کے لئے 75کروڑ29لاکھ22ہزار روپے رکھے گئے ہیں۔ مالی سال کے پہلے 8ماہ میں بلڈنگ پلان اور کمرشلائزیشن فیس کی مد میں ٹارگٹ سے 200 فیصد زائدآمدنی ہونے پر پنشنرز کے بقایا جات کی ادائیگی کی مد میں ترمیمی بجٹ میں 22 کروڑ 55 لاکھ روپے ،تنخواہوںکی ادائیگی کی مد میں 24 کروڑ 8لاکھ 62 ہزار روپے ،سائر اخراجات کی مد میں 27 کروڑ 66لاکھ 60ہزار روپے ،لازمی اخراجات کی مد میں99لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں جبکہ غیر ترقیاتی اخراجات کی مد میں 75کروڑ 29لاکھ 22ہزارروپے رکھے گئے جاری ترقیاتی سکیموں کی مد میں 8کروڑ 56لاکھ 5 ہزارروپے ،منظور شدہ ترقیاتی سکیموں کی مد میں 53کروڑ 70لاکھ 38ہزار روپے رکھے گئے ہیں اسی طرح یونین کونسل 45 میں کمیونٹی سنٹر (شادی ہال) چمن زار کالونی میں ترقیاتی سکیموں کی مد میں4 کروڑ روپے رکھے گئے اس منصوبے کی مد میں پہلے 2 کروڑ روپے مختص کئے گئے تھے جن میں 1کروڑ51لاکھ 88 روپے خرچ کئے گئے اب اس گرانٹ کی مجموعی مالیت 4 کروڑ روپے کردی گئی ہے اسی طرح جناح ہال کی تزہین وآرائش کی مد میں بجٹ میں مختص کی گئی 2 کروڑ کی رقم منصوبے پر کام شروع نہ ہوسکنے کے باعث واپس لے لی گئی ہے جبکہ ترمیمی بجٹ میں سالانہ ترقیاتی پروگرام کی مد میںمختص 50 کروڑ کی رقم ترمیمی بجٹ میں بڑھا کر 65 کروڑ کردی گئی ہے اس موقع پریونین کونسل کے چیئر مین انجم فاروق پراچہ نے توجہ دلائی کہ بجٹ نہ صرف انگریزی میں تیار کیا جاتا ہے بلکہ اتنا مبہم ہوتا ہے کہ چیئرمینوں کے لئے پڑھنا اور سجھنا مشکل ہوتا ہے جس پر میئر نے کہا کہ بار بار کے اعتراضات کی وجہ سے اس دفعہ ہم نے بجٹ مسودہ اردو میں تیار کیا ہے اجلاس میں ایک ہفتہ قبل لاہور میں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کی جانب سے مریض کے ساتھ آنے والے لواحقین پر تشدد کے معاملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی اسی طرح لیگی چیئرمین ملک سلطان کی جانب سے سینٹ الیکشن میں خیبر پختونخواہ میں ہونے والی ہارس ٹریڈنگ پر تحریک انصا ف کے سربراہ عمران خان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا جس پر اپوزیشن ارکان اور لیگی چیئرمینوں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی اور اجلاس منڈی مچھلی بنا رہا میئر سردارنسیم کی ہدایت پر تمام چیئرمین خاموشی سے بیٹھ گئے سردار نسیم ارکان کو بجٹ پر بات کرنے کی ہدایت کر تے رہے جبکہ ہائوس کے تمام ارکان نے واسا کوآڑے ہاتھوں لیتے ہوئے شدید تنقید کا نشانہ بنایا انہوں نے کہاکہ سیوریج نظام درہم برہم ہے یونین کونسلوں میں فلٹریشن پلانٹ بند پڑے ہیں واسا افسران کام کرنے کی بجائے دفتروں تک محدود ہیں کوئی شنوائی نہیں ہو رہی نہ کوئی مسلہ حل کررہے ہیں واسا کی نااہلی اورکرپشن پر نوٹس لیا جائے اور آئندہ اجلاس میں ایم ڈ ی واسا کو یہاں آکر ہائوس کے ارکان کے مسائل سننے مطالبہ بھی کیا۔میئر سردار نسیم نے بجٹ کی منظوری کے بعد تمام ارکان کو یونین کونسلوں میں مسائل پر آئندہفتے عام اجلاس پر بات کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے اجلاس ملتوی کر دیا۔اجلاس دن بارہ بجے شروع ہو ا جو ایک بجے تک جاری رہا۔