بھارت میں بڑھتی انتہا پسندی (4)

01 اپریل 2018

گولوالکر 1906 ایک برہمن گھرانے میں پیدا ہوا۔ وہ اپنے نو بہن بھائیوں میں واحد تھاجو زندہ رہا باقی سب موت کی نظر ہوگئے۔ سائنس کا طالب علم تھااور حیاتیات اور سمندری حیات کے موضوعات میں تعلیم حاصل کی۔ بنارس یونیورسٹی سے ماسٹر کی تعلیم حاصل کی۔ وہاں اس کی ملاقات ہیڈگیوار کہ ایک قریب دوست سے ہوئی جس نے اس کو آر ایس ایس میں آنے کی دعوت دی۔ خود ہیڈگیوار نے جب اس سے بنارس میں ملاقات کی تو اس کو تنظیم میں شامل ہونی کی دعوت دی۔ بنرس وہ استاد بھی مقرر ہوگیا طلبا میں بہت مقبول تھااور طلبا اس کو ‘‘گروجی’’ کے نام سے پکارنے لگے اور یہ لقب ساری زندگی اس کے ساتھ رہا۔ گولوالکر کچھ عرصے بعد ناگپور واپس آگیا۔ ہیڈگیوار نے اسے ناگپور کی تنظیم کا انچارج بنا دیا اور ہیڈگیوار کے کہنے پر اس نے قانون کی ڈگری بھی حاصل کرلی لیکن پھر اس نے اچانک دنیا داری چھوڑ دی اور بنگال میں ایک آشرم میں داخل ہوگیا اور سنیاسی بن گیا۔ 1937 میں وہ پھر واپس آگیا اور ہیڈگیوار نے اس کو آر ایس ایس کا سیکریٹری جنرل بنادیا جو دوسری بڑی ذمہ داری تھی۔ گولوالکر کی تنظیمی اور تصنیفی صلاحیتیں سب پر عیاں تھی لہٰذا ہیڈگیوار اس کو بہت عزیز رکھتا تھا۔ اپنے انتقال پر ہیڈگیوار نے اس کو بلایا اور ایک کاغذ اس کے حوالے کردیا، جس پر اس کو اپنے بعد تنظیم کا سر سنگھ چالک بننے کا لکھا تھا۔ جو بعد ازاں کچھ دنوں بعد علاقائی منتظمین نے اپنے اجلاس میں پڑھ کر سنایا۔ اس کا سر سنگھ چالک بننا حیران کن تھاکیونکہ وہ نوجوان تھااور ایک بار آر ایس ایس میں آنے کے بعد وہ اسے چھوڑ کرچلا گیا تھا لیکن ہیڈگیوار کی دوررس نگاہوں نے اس کی صلاحیتوں کا اندازہ لگا لیا تہا۔ گولوالکر تیس سال تک آر ایس ایس کی قیادت کرتا رہا اور اس نے اس تنظیم کو 1 لاکھ اراکین سے سینکڑوں گنا زیادہ بڑا اور مضبوط بنا دیا۔
گولوالکر نے ساورکر اور ہیڈگیوار کی فکر اور سوچ کو ایک بے لوث اور وفادار شاگرد کی طرح آگے بڑھایا۔ وہ ہندو قوم پرستی کی دعوت دیکر اپنی ساری توانائی قومی وحدت کے حصول اور اپنے لوگوں میں خود اعتمادی پیدا کرنے میں صرف کرنا چاہتا تھا۔ اس کی تعلیمات کا محور اپنی قوم میں ایک ایسا جذبہ پیدا کرنا تھاجو انہیں اپنے ماضی پر فخر کرنے کا باعث ہو۔ یہ دوسری بات ہے کہ اس ماضی کی تعمیر اس نے اپنے اکابرین (سرسوتی وغیرہ) کی طرح ان خیالی تصورات پر رکھی ہے جن کا کسی مستند تاریخ میں کوئی وجود نہیں رہا لیکن ایک ایسی سرزمین جو اساطیر کی ہوشربا داستانوں کا مرکز رہی ہے، وہاں اگر ایک اور گروہ ایک نئی داستان تراشتا ہے اور اس کے پرچار پر محنت کرتا ہے تو اس کی قبولیت اور فروغ کو تاریخی بحثوں سے شکست نہیں دی جاسکتی۔ پھر اگر یہ نئی داستان عصر حاضر میں عوام کی کچھ کمزوریوں اور خدشات کو مخاطب کرتے ہوئے ان کے حل کا وعدہ کرے تو اس کی کشش کو رد کرنا مشکل ہوتا ہے۔ اس کے پرچاری فوری کامیابیوں کی طرف نہیں دیکھ رہے تھے بلکہ وہ شانتی کیساتھ اپنا کام جاری رکھنے کا عزم رکہتے تھے۔
اب اس کام کی خاطر اس نے نچلی سطح پر تنظیم سازی کی اور شہر، قریہ اور کوچہ میں اپنی تنظٰم کو منظم کردیا۔ ہیڈگیوار کی سیاست سے دور رہنے کی پالیسی پر مزید سختی سے اپنائے رکھا۔ گولوالکر نے اپنی تنظیمی صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے، تنظیم کو حلقوں میں منظم کرنے کی بنیاد ڈالی۔ حلقہ خواتین 1937 میں قائم ہوگیا تھا۔ رفتہ رفتہ نئے طلبا، مزدور، کسان اور دیگر پیشہ ورانہ حلقے وجود میں آگئے۔ اپنے پیش روئوں کی طرح اس نے سختی سے تحریک آزادی ہند سے اپنی تنظیم کو دور رکھا اور اس تحریک آزادی کو ’رجعت پسندی‘ سے تعبیر کیا۔ یہ ایک بہت پراسرار حقیقت ہے کہ آر ایس ایس کے تمام بڑے لیڈر شروع میں برطانوی سامراج کیخلاف جدوجہد سے وابستہ رہے تھے لیکن اب وہ آزادی ہند کی تحریک سے اسقدر متنفر تھے کہ وہ برطانوی سرکار کے محبوب ہوگئے، کیونکہ ایک ایسے دور میں جب یہ سرکار آزادی کی تحریک کو کچلنے کیلئے سرگرم تھی، آر ایس ایس کی شکل میں اسے ایک مددگار قوت میسر آگئی جو حقیقتاً تحریک آزادی کی مخالف تھی اور جب سول نافرمانی کی تحریک چل رہی تھی تو سرکار نے اس تنظیم کو ’’قانون کا پابند‘‘ قرار دیا۔

آر ایس ایس کی سب سے بڑی پہچان ہندو قوم کی فکری اور عملی تعمیر ہے۔ گولوالکر نے اپنی کتاب ‘‘ہم یا ہماری قومیت کی تعریف’’ صرف اور صرف اس ایک بات پر مرکوز کی ہے، حتیٰ کہ اس نے احتیاط کیساتھ اس نظریے کو ریاست اور سیاست سے بہت دور رکھا ہے۔ قوم کی تعمیر جبکہ اس کا کوئی وجود نہیں ہے، ایک ایسا کام ہے جو بڑی تخلیق کاری اور چالاکی کا متقاضی ہے اور یہ کمال اس نے حاصل کیا ہے۔ اس کے بقول، قوم کی تعمیر اس وقت تک نہیں ہوسکتی جب تک اس میں موجود اجنبی عناصر کی نشاندہی نہیں ہوجاتی پھر یا ان کی مکمل تطہیر کی جائے یا وہ اکثریتی شناخت کو اپنالیں یا ایک ماتحت اقلیت کی حیثیت کو قبول کرلیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ یورپ میں اٹھنے والی قومی تحریکوں کا سرقہ ہے۔ ساوروکر کے ’ ’تثلیثی‘‘ (نسل، زمین، زبان) نظریے میں گولوالکر نے باقاعدہ مذہب اور ثقافت کو شامل کرکے پانچ عناصر پر مشتمل کردیا لیکن ان تمام باتوں کیلئے سند وہ بدقسمتی سے یورپ میں ابھرنے والی قوم پرستی کی تحریکوں اور فلسفیانہ بحثوں سے لیکر آتا ہے۔ آر ایس ایس کی فسطائیت میں دلچسپی اور اس کے تصورات سے وابستگی کے بیشمار ثبوت سامنے آچکے ہیں۔ ہیڈگیوار کا گرو منجے اٹلی اور جرمنی کے دورے پر گیا اور اس نے مسولینی سے ملاقات کی اور اس کی نیم مسلح تنظیم کا تفصیلی مطالعہ کیا۔ آر ایس ایس کے لیڈرز کھلے عام ہٹلر اور مسولینی وغیرہ کی تعریف کرتے تھے لیکن اس طرح کہ سرکار ان کی پکڑ نہ کرسکے کیونکہ وہ اپنی تحریک کو سرکار سے لڑانا نہیں چاہتے تھے لیکن یورپ کے قوم پرست لیڈر انہیں وہ راستہ دکھا رہے تھے جو خود ان کی منزل کی طرف جاتا تھا۔ لہٰذا گولولکر اپنی کتاب میں بے حجابانہ رقم طراز ہے کہ:
’’اس منحوس دن سے آج تک، جب مسلمانوں نے ہندوستان کی سرزمین پر پہلا قدم رکھا، ہندو قوم بہادری کیساتھ ان لٹیروں کا مقابلہ کررہی ہے۔ ہندو نسل کی پہچان جاگ رہی ہے، ہندوستان کی سرزمین ہندو بن کر رہ رہی ہے اور اس کو ایسے ہی رہنا چاہیے، جبکہ دیگر اقوام اس کے غدار اور دشمن ہیں، یا اگر ان کیساتھ کوئی نرم اصطلاح استعمال کی جائے تو ہم تو ’بیوقوف‘ ہیں۔ یہ اس ملک میں رہ سکتے ہیں، لیکن صرف ایک فرمانبردار زندگی گزارتے ہوئے، مکمل طور پر ہندوؤں کے ما تحت، بغیر کسی مطالبے اور بلا کسی استحقاق کے، کجا یہ کہ وہ کسی قسم کی ترجیحی مراعات کا تقاضہ کریں بلکہ ان کو شہریوں کے حقوق بھی حاصل نہیں ہونگے۔ جرمنی نے دنیا کو حیرت میں ڈال دیا جب اس نے اپنی نسل کے تحفظ کی خاطر اپنے ملک کو یہودیوں اور سامی نسلوں سے مکمل طور پر پاک کردیا۔ نسل کے تحفظ کیلئے کیا کرنا چاہیے، اس کی اچھی مثال یہ کام ہے۔ جس سے ہندوستان کو بھی سبق حاصل کرنا چاہیے۔’’ (جاری)