فلسطینیوں اور کشمیریوں پر مظالم کیخلاف مسلم دنیا کی خاموشی لمحۂ فکریہ ہے

01 اپریل 2018

بیت المقدس پر صہیونی قبضہ کے 70 سال! غاصب اسرائیلی فوج کی بے دریغ فائرنگ سے 16 فلسطینیوں کی شہادتیں اور سینکڑوں زخمی

صہیونی قبضہ کے 70 سال مکمل ہونے پر سرحد کی بندش کیخلاف غزہ میں پرامن طریقے سے احتجاج کا آغاز کرنیوالے 30 ہزار نہتے فلسطینیوں پر گزشتہ روز اسرائیلی غاصب فوج نے بے دریغ فائر کھول دیئے جس سے 16 فلسطینی شہید اور پندرہ سو سے زائد زخمی ہوگئے۔ فلسطینی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی فوج نے مظاہرین پر ڈرون کے ذریعے آنسو گیس پھینکی۔ اسرائیلی فوج نے اپنی آزادی کیلئے مظاہرہ کرنیوالے فلسطینیوں کو روکنے کیلئے سرحد پر سینکڑوں نشانہ باز تعینات کردیئے ہیں۔ اسرائیلی ڈیفنس فورسز کے بقول سرحدی باڑ کے ساتھ پانچ مقامات پر 30 ہزار فلسطینی جمع ہیں جنہوں نے سرحد کے قریب پانچ مقامات پر احتجاجی کیمپ قائم کرلئے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق فلسطینی مظاہرین نے اپنے مارچ کو ’’واپسی کیلئے عظیم مارچ‘‘ کا نام دیا ہے۔ گزشتہ روز احتجاج کے دوران جب کشیدگی بڑھی تو مظاہرین کے پتھرائو کے جواب میں اسرائیلی فوجیوں نے ان پر سیدھے فائر کھول دیئے جبکہ اسرائیلی ٹینکوں کے ذریعے مظاہرین پر گولہ باری بھی کی گئی۔ مظاہرین کو ڈرانے کیلئے کی گئی اس گولہ باری سے ایک فلسطینی کسان شہید اور ایک زخمی ہوا۔ اسی طرح غزہ میں اسرائیلی طیاروں نے بھی تین مقامات پر بمباری کی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائی سے ہونیوالے فلسطینیوں کے جانی نقصان پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کرلیا ہے جس کیلئے کویت کی جانب سے درخواست دی گئی ہے۔
عرب سرزمین پر بیسویں صدی کے آغاز تک اسرائیلی ریاست کا کوئی وجود ہی نہیں تھا جبکہ مسلمانوں کے قبلۂ اول اور نہر سویز کی پٹی سے ملحقہ سارا علاقہ فلسطینی ریاست کا حصہ تھا جس پر صہیونیوں نے اپنا تسلط قائم کیا اور 1948ء میں اسرائیل کے نام سے اپنی ریاست کی تشکیل کا اعلان کیا۔ فلسطینی عوام اس وقت سے ہی اپنی ریاست کو اسرائیلی صہیونی تسلط سے آزاد کرانے کیلئے قربانیوں سے لبریز جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ اسرائیلی افواج اب تک لاکھوں فلسطینیوں کا خون ناحق بہا چکی ہیں۔ ان سارے مظالم کے باوجود اسرائیل کو مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) کو اپنا دارالحکومت بنانے کی جرأت نہیں ہوسکی تھی اور اسرائیل کو تسلیم کرنیوالے ممالک بشمول امریکہ نے اپنے سفارت خانے تل ابیب میں قائم کئے۔ اسی طرح آج تک اسرائیل کو بیت المقدس میں یہودی بستیاں قائم کرنے کی بھی جرأت نہیں ہوئی تھی۔ اسرائیل کو امریکی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کے منتخب ہونے کے بعد مقبوضہ بیت المقدس میں یہودی بستیاں بسانے کے اپنے اسلام دشمن ایجنڈے کو پایۂ تکمیل کو پہنچانے کا نادر موقع ملا جس کا وعدہ ٹرمپ نے انکے ساتھ اپنی انتخابی مہم کے دوران کیا تھا۔ اسی طرح ٹرمپ نے صہیونیوں کے ہاتھوں میں کھیلتے ہوئے اپنے اسلام دشمن منشور کو واشنگٹن انتظامیہ کی پالیسیوں میں تبدیل کیا اور پاکستان سمیت مسلم دنیا کو اپنے زیرنگیں کرنے کے ہتھکنڈے اختیار کرنا شروع کر دیئے۔ انہوں نے بھارت میں ہندو انتہاء پسندوں کے نمائندے نریندر مودی کے ساتھ گٹھ جوڑ کرکے دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کو کارنر کرنے کی حکمت عملی طے کی جس پر عملدرآمد کیلئے بھی آج واشنگٹن انتظامیہ سرگرم عمل نظر آتی ہے جبکہ ٹرمپ نے دیدہ دلیری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کے دارالحکومت کے طور پر تسلیم کرانے کے سازشی منصوبہ پر بھی عملدرآمد کا آغاز کردیا حالانکہ اس سے قبل کسی امریکی صدر کو انتہاء درجے کی مسلم دشمنی پر مبنی ایسی پالیسی وضع کرنے کی جرأت نہیں ہوئی تھی‘ اس پر عملدرآمد تو بہت دور کا معاملہ تھا۔
یہ ہنود و یہود گٹھ جوڑ کا ہی شاخسانہ ہے کہ ٹرمپ آج مسلم دنیا کو منتشر کرنے اور اس پر دہشت گرد ہونے کا لیبل لگانے کی اعلانیہ پالیسی پر عمل پیرا ہوچکے ہیں۔ اسی تناظر میں انہوں نے ممکنہ عالمی ردعمل کی پروا کئے بغیر بیت المقدس کو اسرائیل کے دارالحکومت کے طور پر تسلیم کرنے اور وہاں امریکی سفارتخانہ قائم کرنے کا اعلان کیا۔ انکے اس انتہاء پسندانہ اقدام کیخلاف مسلم دنیا ہی نہیں‘ مغربی‘ یورپی ممالک سمیت دنیا بھر میں احتجاج اور مذمتوں کا سلسلہ شروع ہوا مگر ٹرمپ انتظامیہ کسی بھی احتجاج کو خاطر میں نہ لائی۔ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت بنانے سے متعلق ٹرمپ کے اعلان کیخلاف سلامتی کونسل میںقرارداد پیش ہوئی تو امریکہ نے اپنا ویٹو کا حق استعمال کرتے ہوئے اسے رعونت کے ساتھ مسترد کرادیا اور ساتھ ہی قرارداد پیش کرنیوالے ممالک کی مذمت کرنا اور انہیں دھمکیاں دینا بھی ضروری سمجھا۔ اس سے قبل مسلم دنیا کی نمائندہ تنظیم او آئی سی استنبول میں منعقدہ اپنے سربراہی اجلاس میں ٹرمپ کے اعلان کو مسلم دنیا کے اتحاد کیخلاف سازش قرار دے کر مسترد کرچکی تھی مگر ٹرمپ انتظامیہ نے اسے بھی درخوراعتناء نہ سمجھا اور اپنی ہٹ دھرمی برقرار رکھی۔ بعدازاں یواین جنرل اسمبلی نے بھی بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت بنانے کے ٹرمپ کے اعلان کوغالب اکثریت کے ساتھ مسترد کرکے امریکہ کو دوٹوک الفاظ میں باور کرایا کہ اقوام عالم یواین چارٹر کے برعکس اٹھائے انکے کسی بھی جبری اقدام کے ساتھ نہیں ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ نے اپنے خلاف منظور ہونیوالی قرارداد کی بنیاد پر عالمی قیادتوں ہی نہیں‘ اقوام متحدہ کو بھی آنکھیں دکھانا شروع کردیںجس سے عالمی امن و سلامتی کو غارت کرنیوالے ٹرمپ انتظامیہ کے منصوبوں اور عزائم کی عکاسی ہوتی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے فلسطینیوں کا یواین جنرل اسمبلی میں ساتھ دینے کی پاداش میں ہی پاکستان پر سخت اقتصادی اور فوجی پابندیاں لگانے کی دھمکیاں دے کر اس سے ڈومور سے بھی کچھ زیادہ کرنے کے تقاضے کئے جارہے ہیں جبکہ بھارت کی سرپرستی کرتے ہوئے پاکستان کی سالمیت کیخلاف اسکے حوصلے مزید بلند کردیئے گئے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ اسرائیل فلسطینیوں پر اور بھارت کشمیریوں پر مسلم دشمن گٹھ جوڑ کے تحت ہی وحشت و بربریت کے نئے ہتھکنڈے اختیار کرکے ان پر مظالم کے پہاڑ توڑ رہا ہے۔ مسلم دنیا کو مغلوب کرنے کا اس گٹھ جوڑ کا مشترکہ ایجنڈا ہے مودی سرکار آج مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کی نئی مثالیں قائم کرتے ہوئے پیلٹ گنوں سے کشمیری نوجوانوں کو چھلنی کررہی ہے اور انہیں مستقل اپاہج بنا رہی ہے۔ اس حوالے سے کشمیری اور فلسطینی عوام کی جدوجہد آزادی میں بھی بہت مماثلت ہے۔ ان دونوں تحریکوں نے 1948ء میں جنم لیا تھا اور 70 سال پر محیط اس جدوجہد میں کشمیری اور فلسطینی عوام نے اب تک لاکھوں جانوں کی قربانیاں دی ہیں مگر انکے پائے استقلال میں کبھی لغزش پیدا نہیں ہوئی۔ ان پر غاصب فوجیں ظلم کے جتنے پہاڑ توڑتی ہیں‘ اس سے زیادہ ان میں اپنی آزادی کی منزل کے حصول کا جذبہ پیدا ہوجاتا ہے۔ ہمارا یہ المیہ ہے کہ کشمیر اور فلسطین میں شروع ہونیوالی آزادی کی ان تحریکوں کے حق میں غیرمسلم دنیا کی جانب سے تو تعصب اور بغض کی بنیاد پرآواز نہیں اٹھائی جاتی اور ان پر غاصب فوجوں کے مظالم پر بھی خاموشی اختیار کی جاتی ہے مگر اپنے اپنے مفادات کی اسیر مسلم دنیا کی قیادتوں نے بھی کشمیریوں اور فلسطینیوں کے معاملہ میں بے حسی کی چادر اوڑھ رکھی ہے۔ اب کویت کی جانب سے غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائی کیخلاف سلامتی کونسل سے رجوع کیا گیا ہے جو بہرصورت خوش آئند اقدام ہے۔
یہ صورتحال نمائندہ عالمی ادارے اقوام متحدہ کیلئے بھی بہت بڑا چیلنج ہے۔ اگر دنیا کو پہلی اور دوسری عالمی جنگوں جیسی خونریزی سے بچانا اور یواین چارٹر کے مطابق تحمل و برداشت کو اقوام عالم میں فروغ دینا مقصود ہے تو پھر انسانی معاشرے کو مسلم دشمن گٹھ جوڑ کے شر سے بچانے کیلئے تمام عالمی قیادتوں اور اداروں کو یکسو ہونا ہوگا۔اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ یواین جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل میں بیت المقدس کے حوالے سے ٹرمپ انتظامیہ کیخلاف اور کشمیری و فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کیلئے منظور کی گئی قراردادوں کو روبہ عمل لا کر عالمی امن و سلامتی کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔ بصورت دیگر دنیا انتشار کا شکار ہوگی تو تیسری عالمی جنگ سے خود کو نہیں بچا پائے گی جو لامحالہ ایٹمی جنگ ہوگی اور پوری دنیا کی تباہی پر منتج ہوگی۔ فلسطینیوں پر اسرائیلی فوجوں کی نئی یلغار مسلم دنیا اور اسکی قیادتوں کیلئے بہرصورت لمحۂ فکریہ ہے۔