معاشی پالیسیاں درست کر کے ملک کو مالی بحران سے بچایا جا سکتا ہے

01 اپریل 2018

شرح سود 6 فیصد برقرار۔برآمدات، کرنٹ اکائونٹ خسارے میں اضافہ روپے کی قیمت کم ہونے سے مہنگائی بڑھے گی: سٹیٹ بنک۔ آئندہ دو ماہ کے لئے مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا گیا۔ مہنگائی کی اوسط شرح 4.1 فیصد تک محدود رہے گی۔ بین الاقوامی ادائیگیوں کا دبائو چیلنج ہے۔
سٹیٹ بنک کی نئی مانیٹری پالیسی کے مطابق مالی سال کے گزشتہ 8 ماہ کے دوران معاشی نمو بلند ترین سطح پر رہی ہے اور صنعتی پیداوار میں 6.3 فیصد اضافہ ہوا۔ اس کے باوجود ہمارے کرنٹ اکائونٹ کا خسارہ 10.8 ارب ڈالر پہنچ گیا ہے جو 2017 کے مقابلے میں 50 فیصد زیادہ ہے۔ اس کے ساتھ روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے زرمبادلہ کے ذخائر میں جو کمی ہوئی ہے اس کے باعث ملک کے معاشی حالات اور معیشت میں ابتری دیکھنے میں آ رہی ہے۔ حکومت ملک کے معاشی حالات پر فوری توجہ دے۔ ملکی معیشت کی سمت درست کرے اگر ایسا نہ کیا گیا اور سارا زور آئی ایم ایف سے اس کی کڑی شرائط پرقرضوں کے حصول پر ہی لگایا گیا تو ملک کو ایک بہت بڑے مالی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ جس سے بچنا مشکل ہوگا۔ وافر غذائی سٹاک اور فصلوں کی بھرپور پیداوار کی وجہ سے مہنگائی کی شرح کچھ کنٹرول میں رہی۔ مگر اب روپے کی قیمت میں کمی کی وجہ سے یہ پھر بے قابو ہو رہی ہے۔ بیرونی قرضوں میں اضافہ اور روپے کی قدر میں کمی پر قابو پانے اور کرنٹ اکائونٹ خسارے سے نجات کے لئے سخت معاشی اقدامات کرنا اور بہترین معاشی اصلاحات لانا ہوں گی تاکہ ملکی معیشت کی حالت بہتر ہو۔ اس وقت سٹیٹ بنک نے معاشی نمو گیارہ برس کے دوران بلند ترین سطح پر رہنے کا جو امکان ظاہرکیا ہے اس کے ثمرات عام آدمی اور ملکی معیشت تک تب ہی پہنچ سکتے ہیں جب ہماری معاشی پالیسیاں درست خطوط پر استوار ہوں گی اور ہمیں کشکول اٹھا کر دوسروں کی کڑی شرائط پر قرضے لینے کی عادت چھوڑنا ہو گی۔