گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی لوڈشیڈنگ میں اضافہ عوام سراپا احتجاج

01 اپریل 2018

گرمی کی شدت بڑھتے ہی ملک بھر میں لوڈ شیڈنگ بے قابو، شہریوں کا احتجاج۔ مساجد میں وضو کے لئے پانی نایاب۔کراچی میں مظاہرین کا ٹیٹی جیٹی پل پر دھرنا، رواں سال شارٹ فال 6 ہزار میگاوٹ سے تجاوز کرجائے گا۔ حکومت کے شروع کے لئے کئی منصوبے تاحال بجلی فراہم کرنے میں ناکام ہوئے ہیں۔
گرمیوں کی آمد کے ساتھ ایک بار پھر ملک بھر میں اعلانیہ و غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ نے شہریوں کی زندگی دوبھر کردی ہے، تمام تر دعوئوں کے باوجود حکومت لوڈشیڈنگ ختم کرنے میں بری طرح ناکام نظر آرہی ہے۔ سندھ، بلوچستان، خیبر پی کے کے علاوہ پنجاب کے مختلف شہروں اور دیہات میں 12 سے 16 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ پر عوام سراپا احتجاج ہیں۔ کئی علاقوں میں مساجد میں وضو کے لئے بھی پانی دستیاب نہیں ہے۔ کراچی میں شہریوں نے ٹیٹی جیٹی پل پر ایم پی اے کی قیادت میں مظاہرہ بھی کیا اور کے الیکٹرک کے خلاف نعرے بازی کی اس دوران تین گھنٹے بندرگاہ پر جانے اور وہاں سے آنے والی ٹریفک بند رہی۔ حکومت کو احساس ہی نہیں کہ یہ الیکشن کا سال ہے۔ کیا حکومت اس بدترین لوڈشیڈنگ کے ساتھ آئندہ انتخابات میں ووٹ مانگنے عوام کے پاس جائے گی۔اور کیا حکمران عوام کے اس منفی اور شدید ردعمل کے لئے تیار ہیں جو سامنے آئے گا ۔ ابھی چند ماہ باقی ہیں، حکومت اس دوران کچھ کرکے دکھائے تاکہ لوڈشیڈنگ پر قابو پانے میں مدد ملے۔ ورنہ حکمرانوں کے لئے الیکشن مہم چلانا بھی مشکل ہوجائے گا۔ اور آئندہ الیکشن میں عوام انہیں بھی قصہ پارینہ بنا دیں گے۔ پیپلز پارٹی کی مثال ہمارے سامنے ہے۔