الیکشن کمشن کو درکار سہولتیں اور لوازمات فوری طورپر فراہم کئے جائیں

01 اپریل 2018

الیکشن کمشن نے آئندہ عام انتخابات عدلیہ کی نگرانی میں کرانے کیلئے متعلقہ ہائیکورٹس سے جوڈیشل افسروں کی فہرستیں مہیا کرنے کی درخواست کی ہے ۔ جوڈیشل افسران میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز‘ ایڈیشنل سیشن ججز‘ سینئر سول ججز اور سول ججز شامل ہیں۔
اب تک عام انتخابات میں ریٹرننگ افسران، سول سروسز سے لئے جاتے رہے ہیں‘ لیکن اس سیٹ اپ کے تحت ہونے والے انتخابات ہمیشہ متنازع بنتے رہے ہیں، جو اپنے جلو میں لڑائیاں‘ جھگڑے‘ دشمنیاں اور مقدمات لیکر آتے رہے۔ 2013ء کے عام انتخابات میں جیتنے اور ہارنے والے دونوں فریقوں نے ایک دوسرے پر دھاندلی کے الزامات لگائے اور پیپلزپارٹی نے انہیں آر اوز کا الیکشن قرار دیتے ہوئے’’ملک و قوم کے بہترین مفاد میں‘‘ تسلیم کر لیا البتہ تحریک انصاف نے نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے چار پانچ سال ریلیوں‘ جلوسوں اور دھرنوں کا سلسلہ جاری رکھا ۔ تحریک انصاف نے ایسی روش اپنائی کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو اطمینان اور دل جمعی سے کام کرنے کا موقع ہی نہیں دیا۔ اس تلخ تجربے کے بعد سیاسی جماعتیں آئندہ انتخابات کو صاف و شفاف بنانے کیلئے سر جوڑ کر بیٹھ گئیں۔ تمام جماعتوں کی نمائندگی پر مشتمل انتخابی اصلاحات کمیٹی بنائی گئی اور اس کی سفارشات کی روشنی میں قانون سازی کی گئی۔ اب اگر انتخابات نئے انتظامات کے تحت ہوئے تو اُمید ہے کہ ہارنے والے کم از کم دھاندلی اور عوام کا مینڈیٹ چوری ہونے کا الزام نہیں لگا سکیں گے۔ خوش آئند امر یہ ہے کہ چیف جسٹس سپریم کورٹ بھی آزادانہ اور شفاف انتخابات کیلئے اپنے عزم کا اظہار کرتے رہتے ہیں بلکہ وہ اس حوالے سے بڑے حساس ہیں۔ الیکشن کمشن کی طرف سے جوڈیشل افسروں کی فہرستیں طلب کرنا بھی صاف و شفاف انتخابات کرانے کے انتظامات کی ایک کڑی ہے۔ اس حوالے سے جہاں عدلیہ دھاندلی سے پاک انتخابات کرانے میں بھرپور دلچسپی لے رہی ہے اور الیکشن کمشن کی ہرضرورت پوری کرنے کا عزم کئے ہوئے ہے‘ وہیں انتظامیہ کا بھی فرض ہے کہ وہ الیکشن کمشن کو درکار تمام سہولتیں اور لوازمات فوراً فراہم کرے تاکہ انتخابات میں تاخیر کا کوئی جواز نہ نکل سکے۔ اگر ایک دن کی بھی تاخیر ہوئی تو ملک و قوم کو بہت نقصان پہنچے گا۔