اتوار ‘ 14؍ رجب المرجب ‘ 1439 ھ ‘ یکم اپریل 2018ء

01 اپریل 2018

مینار پاکستان گرائونڈ کو ہائیڈ پارک طرز پر مخصوص کرنے کی درخواست
مینار پاکستان ایک قومی یادگار ہے۔ پہلے اس کے اِردگرد ایک خوبصورت پارک تھا۔ بڈھا راوی اس کے پہلو میں بہتا تھا۔ بعدازاں گورنر پنجاب غلام جیلانی نے اس کے مغلیہ طرز پر بنے خوبصورت پارکوں کے سلسلہ کا ستیاناس کردیا۔ فواروں کے اِردگرد سرو شمشاد کے پیڑ ہی نہیں مینار پاکستان کے تین اطراف میں قائم پارکوں میں لگے سینکڑوں گھنے درختوں کو جن کے سائے میں یہاں سیروتفریح کیلئے آنیوالے بیٹھتے تھے کٹوا دئیے۔ ان پارکوں کو جاپانی طرز کے ٹنڈ منڈ بِنا درختوں کے پارکوں کی شکل دیدی۔ موصوف بھول گئے تھے کہ لاہور گرم ترین علاقوں میں شامل ہے ۔ جہاں صرف 3 ماہ دھوپ میں بیٹھا جا سکتا ہے۔ باقی9 ماہ لوگ سائے کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں۔ بہرحال یہ پارک پھر توسیع کی زد میں آیا۔ بڈھے راوی کی جگہ جھیل بنی پھر حالیہ توسیع ہوئی تو آج گریٹر اقبال پارک کے نام سے یہ خوبصورت تفریحی مقام بن چکا ہے مگر درختوں کی کمی‘ سائے کی تلاش میں تفریح کے لئے آنے والے لاکھوں شائقین کو بہت محسوس ہوتی ہے۔ اب ایک شہری نے ہائی کورٹ میں درخواست دی ہے کہ اسے ہائیڈ پارک کی طرح عوامی اجتماع گاہ بنانے کا حکم دیا جائے تاکہ لاہور کی سڑکیں بند کرنے والے اجتماعات سے جان چھوٹ جائے۔ مگر یہ درخواست حسن ظن کے باوجود اس عظیم تفریح گاہ کے ساتھ بدظنی محسوس ہوتی ہے۔ اس طرح اس قیمتی قومی یادگار کا حلیہ بگڑ جائے گا۔ جلسے جلوسوں کی بیماری اور احتجاج کرنے والوں کاعلاج یہی ہے کہ جس طرح بس سٹینڈ، ٹرک اڈے ، مویشی منڈی ، فروٹ منڈی ، راوی پار منتقل کرنے سے شہر کی ٹریفک کو بلاک ہونے سے بچایا جا رہا ہے۔ اسی طرح راوی پل کے پار بہت جگہ ہے۔ وہاں ایک ہائیڈ پارک بنا لیں جہاں جلسہ جلوس و احتجاج کرنے والے اپنا شوق پورا کر لیا کریں۔ ویسے بھی اب راوی لاہور پار نہیں لاہور کے درمیان سے ہی گزرتا ہے۔ راوی کے پار بہت جگہ دستیاب ہے جسے قبضہ گروپوں سے واگزار کروا کر ہائیڈ پارک بنایا جا سکتا ہے۔
٭……٭……٭
سورج دیو تاناراض ہو جائیں گے ۔ انتہا پسند ہندوئوں نے سولر پینل توڑ ڈالے
یہ ہے جدید بھارت میں رہنے والے انتہا پسند ہندوئوں کا حال۔ جہاں سورج دیوتا کی پوجا کرنے والے جاہلوں نے ہتھوڑوں اور ڈنڈوں سے مسلح ہو کر سولر پینلوں پر حملہ کر کے انہیں توڑ پھوڑ دیا۔ ان عقل مند پجاریوں کی لاجک یہ تھی کہ سولر پینل کے استعمال سے سورج دیوتا ناراض ہو جائے گا۔ اب اگر بے وقوفوں کے سینگ ہوتے تو بخدا یہ جاہل بیوقوف ہندو بارہ سنگے بن چکے ہوتے۔ کیونکہ سولر انرجی سسٹم کے استعمال سے بھلا سورج پر کیا اثر ہونا تھا۔ یہ سولر پینل تو بے چارے سورج کی وہ روشنی اور حرارت جمع کرتے ہیں جو ضائع ہی ہوتی ہے۔ ویسے ہی جیسے پاکستان میں ڈیم نہ ہونے کی وجہ سے سالانہ لاکھوں کیوسک فٹ پانی ضائع ہوتا ہے۔ مگر ہم ڈیم نہیں بنانے دیتے کہ اس سے سمندری حیات تباہ ہو گی یا ہمارا نوشہرہ جو ڈیم سے خاصی بلندی پر ہے ڈوب جائے گا۔جہالت کہیں بھی ہو اس کی انتہا ہوتی ہے مگر ہمارے ہاں اس صفت کی کوئی انتہا نہیں۔ سولر پینل سے سورج کی روشنی کم ہو سکتی ہے جس سے سورج ناراض ہو سکتا ہے۔ اسی طرح بند باندھنے سے دریائے سندھ ناراض ہوسکتا ہے اس کی روانی میں خلل آ سکتا ہے ۔ آبی حیات متاثر ہو سکتی ہے۔ نوشہرہ ڈوب سکتا ہے اس لئے نہیں بنے دے رہے۔سو جناب اب اس جہالت پر ماتم ہی کیا جا سکتا ہے، جس کے سوا ہم اور کیا کرسکتے ہیں۔…
٭……٭……٭
ایف بی آر ریجنل آفس میں آگ لگنے سے قیمتی ریکارڈ جلنے کا خطرہ
ایک تو یہ آگ بھی ہمارے اہم ریکارڈز کی دستاویزات کی سب سے بڑی دشمن ہے۔ کبھی یہاں کبھی وہاں۔ جہاں دیکھو موقع محل دیکھے بغیر یہ سرکش آگ ہماری اہم دستاویزات کو یوں بھسم کر ڈالتی ہے کہ باقی صرف ردی کے کاغذات ہی بچتے ہیں۔ معلوم نہیں اس اچانک بھڑکنے والی آگ کے پاس وہ کون سے ذرائع ہیں جو اسے اہم کاغذات والی جگہ تک رسائی دیتے ہیں۔ یا ایسے ریکارڈ کے محل وقوع سے آگاہ کرتے ہیں۔ کیونکہ جب بھی کسی سرکاری ادارے میں آگ بھڑکتی ہے اس سے صرف اور صرف اہم ضروری کاغذات اور ریکارڈ ہی جل کر راکھ ہوتا ہے۔ کبھی زمینوں کا اندراج کبھی ٹیکسوں کی چوری کبھی قرضوں کا ریکارڈ اور کبھی کرپشن اور گھپلوں کی دستاویزات۔ جہاں بھی آگ لگی یہ اہم چیزیں ہی اس کا نشانہ بنتی ہیں۔ ایل ڈی اے لاہور کی تو عمارت کو اس آگ نے کہیں کا نہ چھوڑا اس کی تو اُوپر والی دو تین منزلیں بھی منہدم کرنا پڑیں کہ کہیں وہ جلنے کے بعد کمزوری کی وجہ سے گر ہی نہ پڑیں۔ ویسے صرف کرپشن وغیرہ کے معاملات مٹانے کے لئے ہی نہیں کبھی کبھی یہ آگ مخالفین کو سبق سکھانے کے لئے بھی استعمال ہوتی ہے۔ جیسا کہ کراچی میں فیکٹری کو آگ لگا کر سینکڑوں انسانی زندگیوں کا خاتمہ کر کے سکھایا گیا۔ اب ٹیکس آفس میں جو آگ لگی ہے اس سے بھی کافی کارآمد کاغذات جلے ہوں گے۔ ویسے کہتے ہیں وہاں ایل ڈی اے کا ریکارڈ بھی تھا۔ ایل ڈی اے کے ریکارڈ کا کیا مطلب ہے یہ سب جانتے ہیں…
٭……٭……٭
وزیراعظم کا چیئرمین سینٹ کے بارے میں بیان افسوسناک ہے۔ شاہ محمود قریشی
قربان جائیے قریشی صاحب کی اس سادگی پر۔ کیا بھولا پن ہے ان کے چہرے پر بھی اور بیان میں بھی۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ’’لڑتے ہیں مگر ہاتھ میں تلوار نہیں ہے‘‘ والی شخصیت ہوتے ہیں۔ 2013ء کے الیکشن کو دھاندلی زدہ قرار دینے والی پی ٹی آئی کے سینئر رہنما کے منہ سے ایسی باتیں سجتی نہیں ہیں۔ 2013ء کے الیکشن میں مسلم لیگ (ن) کو کامیابی ملی مگر پی ٹی آئی والوں نے کبھی اسے قبول نہیں کیا۔ آج تک جب حکومت کی مدت بھی ختم ہو رہی ہے۔ اسے دھاندلی زدہ کہا گیا کبھی چار حلقوں کا رونا رو کر اور کبھی 35 پنکچر کا طعنہ دے کر اس کے نتیجے میں بننے والے حکمرانوں کیخلاف حکومت کیخلاف جو کچھ کہا گیا وہ سب کے سامنے۔ اب سینٹ الیکشن میں جو کچھ ہوا، وہ بھی سب کے سامنے ہے۔ پی ٹی آئی نے جس طرح پیپلز پارٹی کی مدد سے پہلے بلوچستان اسمبلی میں ہارس ٹریڈنگ کی۔ اسی حکمت عملی کے تحت چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینٹ کے الیکشن میں بھی خریداری کا دھندا عروج پر رہا۔ بقول شخصے پہلے گھوڑے بکتے تھے اب تو پورا اصطبل بکا ہے۔ زرداری صاحب ویسے بھی گھوڑوں کی خریداری میں خاصے ماہر ہیں۔ یقین نہ آئے تو ان کا ذاتی اصطبل دیکھ لیں جہاں گھوڑے قیمتی مربے بھی کھاتے ہیں۔ اب جو الزام آپ خود 5 برس لگاتے رہے۔ویسے ہی الزام دوسرے لگائیں تو افسوس کیسا‘ وہ غلط کیوں۔ سیاست تو نام ہی اسی کا ہے۔ اس لئے کراس کر یا برداشت کر…
٭……٭……٭