بھارت میں صحافیوں کی ہلاکتیں: پاکستان، انڈیا اور بنگلہ دیش کے 20 مدیروں کو تشویش

01 اپریل 2018

نئی دہلی (بی بی سی) انڈیا، پاکستان اور بنگلہ دیش کے 20 سرکردہ مدیروں صحافیوں اور کالم نگاروں نے بھارت اور پاکستان میں حالیہ دنوں میں صحافیوں کی ہلاکتوں پر سخت تشویش ظاہر کی ہے، صحافتی آزادی پر نظر رکھنے والی فرانس میں واقع بین الاقوامی تنظیم 'رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز' نے انڈیا میں صحافیوں کے خلاف پولیس کی زیادتیوں کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش ظاہر کی ہے۔ترجمان نے کہا بھارت میں اہلکاروں کو عموماً کبھی بھی سزا نہیں ملتی۔ تنظیم کے ایشیا پیسفک کے سربراہ ڈینئیل بسٹرڈ نے کہا ہے کہ بھارت میں صحافیوں کے خلاف پولیس نے جس نوعیت کا مخالفانہ ماحول بنا رکھا ہے وہ ناقابل برداشت ہے۔ ہم حکام سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ صحافیوں کے خلاف پولیس تشدد کی تفتیش کرائے اور جو اس کے ذمے دار ہیں انہیں مناسب سزا دے۔آزادانہ صحافت سنگین خطرے میں پڑ گئی۔ اس سے بھی اہم یہ کہ وزارت داخلہ پولیس کو یہ واضح ہدایت جاری کرے کہ پورے ملک میں صحافیوں کے تحفظ اور ان کے کام کا احترام کیا جائے۔ کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹ یعنی سی پی جے کے بھارت میں نمائندے آیوش سونی نے ایک پروگرام میں بتایا کہ گذشتہ دس برس میں ملک میں 33 صحافی مارے گئے ہیں۔ آیوش نے کہا کسی جمہوری ملک میں ایک بھی صحافی کا مارا جانا انتہائی شرمناک ہے۔ سی پی جے نے صحافیوں کے قتل کے معاملات میں سزائیں نہ ملنے والے ملکوں کی عالمی فہرست میں بھارت کو تیرہویں مقام پر رکھا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ گذشتہ دس برس میں ملک میں ایک بھی صحافی کے قتل کا معاملہ حل نہیں ہوا۔ بھارت میں آزادانہ صحافت سنگین خطرے میں ہے۔