ذمہ داریوں کیلئے ایک دوسرے کو دیکھنے کی بجائے مشترکہ کوششیں کرنا ہونگی: پرویز خٹک

01 اپریل 2018

پشاور(بیورورپورٹ)وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ اچھی اور شفاف حکمرانی کیلئے غیر متزلزل عزم کی ضرورت ہوتی ہے جو ہم نے صوبے میں دکھایا ہے ہم نے اس مقصد کیلئے ریکارڈ قانون سازی کی اور قابل عمل نظام دیا کیونکہ یہ ہمارا مشترکہ ملک ہے ہمیں اسے اپنے دل اورذہن سے تسلیم کرنا ہوگا جب ہمارا مستقبل مشترک ہے تو پھر ذمہ داریوں کیلئے ایک دوسرے کو دیکھنے کی بجائے مشترکہ کاوشیں کرنا ہو ںگی سب کے حقوق یکساں ہیں اگر ہم انسان ہے تو انسانوں کی طرح سوچنا اور انسانیت کی فلاح کیلئے کام کرنا ہے ہم نے یہی کچھ صوبے میں کر دکھایا ہے تبدیلی کے وعدے کے تحت اصلاحات کیں اس سے قبل سیاستدانوں نے اداروں کو کام سے ہٹا کر امیروں کی خدمت پر لگا دیا تھا جس کی وجہ سے لوگ جاگیرداروں اور خوانین کے پیچھے بھاگنے پر مجبور تھے سرکاری وسائل اور ادارے طاقتوروں کی جاگیر بن چکے تھے ہم نے اداروں کو سیاسی مداخلت سے آزاد کرنے کیلئے قانون سازی کی اور کامیاب ہوئے خیبرپختونخوا کی حکومت سے عوام مطمئن ہیں اور برملا اس اطمینان کا اظہار کرتے ہیں اور یہی اصل تبدیلی ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے قائداعظم لائبریری جناح گارڈن لاہور میں ایلاف کلب پاکستان کے صدر ڈاکٹر شفیق جالندھری کے لکھے گئے سفرنامہ گلگت بلتستان کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کیا ڈاکٹر شفیق جالندھری، مجاہد منصوری، رئوف طاہر، راجہ اسد علی خان، ڈاکٹر نوشینہ سلیم، جاوید نواز، سجاد میر، فواد چودھری اور دیگر نامور شخصیات نے بھی تقریب سے خطاب کیا اور خیبرپختونخوا میں تبدیلی کیلئے اٹھائے گئے اقدامات پر وزیراعلیٰ کو زبردست خراج تحسین پیش کیا انہوں نے کہا کہ جب سنتے ہیں کہ خیبرپختونخوا میں تبدیلی آچکی ہے تو خوشی بھی ہوتی ہے اور حیرت بھی کیونکہ تبدیلی ایک مشکل کام ہے مگر ترقی کا یہی واحد حل ہے خیبرپختونخوا میں تعلیم، صحت، پولیس اور دیگر اداروں نے تبدیلی کی جو بنیادیں پرویز خٹک نے رکھ دی ہے یہ واقع ہی قابل ستائش ہیں ہمیں پرویزخٹک کی شکل میں ایک امید کی کرن نظر آئی ہے ہر صوبے میں ایک پرویز خٹک ہونا چاہئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ المیہ یہ رہا ہے کہ اس ملک میں دولت کمانے والے کماتے چلے گئے او ر انہوں نے اس کیلئے سارے حر بے اور سرکاری مشینری استعمال کی تعلیم، صحت،پولیس، پٹوار اور دیگر تمام ادارے سیاست زدہ تھے اساتذہ اور ڈاکٹر سمیت سرکاری لوگ سیاست کرتے تھے۔ عوام کے مسائل پر دھیان نہ تھا جب کہ اس کے برعکس ہماری صوبائی حکومت نے اداروںکو سیاست سے آزاد کیا اور شیشے کی طرح شفاف حکمرانی کا نظام دیا اطلاعات تک رسائی، خدمات تک رسائی اور کنفلکٹ آف انٹرسٹ صوبائی حکومت کے ایسے قوانین ہے جن کے بارے میں کوئی حکمران سوچ بھی نہیں سکتا مگر ہم نے خود یہ قوانین بنائے تاکہ حکومت میں آکر کوئی ذاتی فائدہ نہ اُٹھا سکے ہم نے سفارش اور اقرباء پروری کو شکست دی میرٹ اور شفافیت کی بنیاد رکھی وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ قوانین بنانے میں وقت لگا کیونکہ سٹیٹس کوکی قوتیں روڑے اٹکاتی رہیں سٹیٹس کو کی قوتوں نے ہمارا پیچھا نہیں چھوڑا اور ہمیں عدالت تک لے گئیں مگر وہاں بھی انہیں ہزیمت اٹھانا پڑی انہوں نے کہا کہ آج کے خیبرپختونخوا میں لوگ خود کو زیادہ محفوظ سمجھتے ہیں یہی تبدیلی ہے جس کی ہم نے بنیاد رکھ دی ہے چونکہ ہم عوام سے ہیں اور خود کو عوام سے علیحدہ نہیں رکھ سکتے اسلئے ہمیں ادراک تھا کہ اداروں میں کیا ہورہا ہے اور کس طرح عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہمیں صوبے میں تباہ حال سٹرکچر ملا تھا جس کی بحالی کیلئے بہت زیادہ وقت اور سرمایہ خرچ کرنا پڑا اور دوسری طرف انگریزوں کا چھوڑا ہوا دوہرا نظام تعلیم بھی ہمیں ورثے میں ملا جو امیر اور غریب کے درمیان خلا اور اس میں اضافے کا بنیادی سبب ہے پوری دنیا میں تعلیمی نظام کے ذریعے امیر اور غریب کے درمیان فرق ختم کیا گیا مگر ہمارے ہاں حکمران اس ظالمانہ نظام کی سرپرستی کرتے رہے یہ واحد صوبائی حکومت ہے جس نے امیر اور غریب کے درمیان فرق ختم کرنے کیلئے ایک طرف پرائمری سکولوں کا معیار بلند کرنے کیلئے 30 ارب روپے خرچ کئے اور دوسری طرف انگلش میڈیم کا اجراء کیا جو اب چوتھی کلاس میں ہیں وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہم نے اپنے باصلاحیت اور ذہین لوگوں کو باہر جانے سے روکنا ہے تاکہ وہ ملک میں رہ کر اس کی ترقی اور خوشحالی میں کردار ادا کر سکیں پرویز خٹک نے شعبہ صحت میں بھی اصلاحات کا حوالہ دیا اور کہا کہ خیبرپختونخوا واحد صوبہ ہے جس کے تمام اضلاع میں سو فیصد ڈاکٹر موجود ہ ہیں پانچ سال پہلے صوبے میں کل 3500 ڈاکٹر تھے ہم اس تعدا کو 7000 تک لے گئے ہیں نادار خاندانوں کیلئے صحت انصاف کارڈ کا اجراء کیا اس اقدام سے مجموعی طور پر 24 لاکھ خاندان مستفید ہورہے ہیں جو آبادی کا تقریبا 69فیصد بنتا ہے پرویز خٹک نے کہا کہ اگر کوئی کہتا ہے کہ پولیس ٹھیک نہیں ہوسکتی تو ہماا ماڈل اپنائے پولیس بدمعاشوں کا ٹولہ نہیں ہونا چاہئے ہم نے اپنے اختیارات ختم کئے پولیس کو آزادی دی تاکہ وہ غریب سے انصاف کر سکیں بلین ٹری سونامی منصوبے کی کامیابی کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہمارے مخالفین گوگل پر جائیں چار سے پانچ ہزار سائٹس موجود ہیں اگر کسی کو نظر نہیں ّآتا تو آئیں ہم دکھا دینگے یہ ملک کے مستقبل کا منصوبہ ہے یہ پورے ملک میں ہونا چاہئے صوبائی حکومت نے ونڈفال کے نام پر درختوں کی بے دریغ کٹائی پر پابندی لگائی جس سے ٹمبر مافیا کے چیخیں نکل گئی وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کی حکومت نے سیاحت کے فروغ کیلئے بھی دیرپا اقدامات کئے ہیں سوات، ایبٹ آباد، مانسہرہ، چترال، دیر سمیت مختلف شہروں اور سیاحتی سپاٹس کی ترقی پر کام کیا ہے سی پیک کے تناظر میں صوبے بھر میں صنعتی سرگرمیاں تیز رفتاری سے جاری ہیں صوبے کا مستقبل روشن ہے غربت کم ہورہی ہے اور روزگار بڑھ رہا ہے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں اچھے کاموں پر بھی کیچڑ اچھالا جاتا ہے حوصلہ افزائی کوئی نہیں کرتا ہم چاہتے ہیں کہ کمزوریوں کی نشاندہی ہو مگر اچھے کاموں کو سپورٹ بھی کرنا چاہئے یہ ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔