فیصل آباد : طالبہ قتل اور زیادتی میں ملوث ملزمان کی عدم گرفتاری پر ورثا کا احتجاجی مظاہرہ

01 اپریل 2018

فیصل آباد+جڑانوالہ+اسلام آباد (نمائندہ خصوصی+ نمائندہ نوائے وقت+ آن لائن ) جی سی یونیورسٹی ایم اے انگلش کی طالبہ کے بہیمانہ قتل زیادتی میں ملوث ملزمان تاحال پولیس گرفت سے آزاد، ورثا کا روڈ بلاک کر کے احتجاجی مظاہرہ، چیف جسٹس سے ازخود نوٹس لینے کا مطالبہ، آر پی او فیصل آباد مقتولہ کے گھر پہنچ گئے۔ جڑانوالہ شیرازی پارک کی ایم اے انگلش کی طالبہ عابدہ احمد کو پانچ روز قبل جی سی یونیورسٹی سے باہر نکلتے ہوئے کار سوار افراد نے اغوا کیا زیادتی کے بعد قتل کر کے نعش نہر میں بہا دی۔ مظاہرین نے کہا سات روز میں ملزم گرفتار نہ ہوئے تحصیل بھر کے تمام اساتذہاور سول سوسائٹی احتجاج کریں گے۔ وزیراعلیٰ میاں محمد شہبازشریف کے نوٹس پر آر پی او فیصل آباد بلال صدیق کمیانہ جڑانوالہ مقتولہ کے گھر گئے ورثا سے ملاقات کرتے ہوئے کہا کہ واقعہ میں ملوث ملزمان کو فی الفور گرفتار کر لیا جائے گا۔ زرداری نے بھی مذمت کر دی ۔ذرائع کے مطابق پولیس نے مقتولہ کے موبائل کی کال لوکیشن اور ڈیٹا اکٹھا کر لیا ہے جبکہ ایک مشتبہ شخص کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے جسے تفتیش کے لئے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔مظاہرے میں شامل سول سوسائٹی ۃ ٹیچر یونین و واپڈا ہائیڈرو یونین کے نمائندوں کی سینما چوک میں احتجاجی ریلی۔ ملزمان کو 7روز میں گرفتار کر نے کا الٹی میٹم ، انصاف نہ ملا تحصیل بھر کے تمام سکولز کے ٹیچر ز سڑکوں پر سراپا احتجاج ہوں گے ۔ علاوہ ازیں تحریک انصاف کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل میاں فرخ حبیب ، سینئر نائب صدر تحصیل جڑانوالہ تحریک انصاف ملک یاسر رضا ٹیپو اعوان، ضلعی سینئر نائب صدر چودھری عمیر وصی و دیگر عہدیداران کے ہمراہ مقتولہ عابدہ احمد کے گھر گئے ۔ ان کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔ اس موقع پر صحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے پولیس فوری طور پر اس اندھے قتل کا سراغ لگائے ۔دریں اثنا پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین کے صدر اور سابق صدر آصف علی زرداری نے فیصل آباد میں طالبہ سے زیادتی کے بعد قتل کے واقعہ کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے متاثرہ خاندان سے دلی ہمدردی اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خواتین سے زیادتی ،تشدد اور اور قتل ناقابل برداشت ظلم ہے۔ خواتین کیلئے محفوظ معاشرہ پیپلز پارٹی کا مشن ہے۔

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...