شیخ حسینہ واجد کی ہرزہ سرائی ا و ر چند حقائق

01 اپریل 2018

دو روز قبل ایک ایسی خبر اخبارات کی زینت بنی جسے پڑھ کر محسوس ہوا کہ اس کا جواب دینا نہایت ضروری ہے تاکہ پاکستانی قوم کو حقائق سے آگاہ کیا جا سکے۔ بھارت نواز بنگلہ دیشی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے پاکستان کیخلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سے اب تک محبت کرنیوالے بنگلہ دیشیوں کو سزا ملنی چاہیے۔ ڈھاکہ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش کے وہ شہری جو ایک خودمختار ملک میں رہتے ہوئے اب تک پاکستان سے محبت کرتے ہیں‘ انہیں سخت سزا دینے کی ضرورت ہے۔ ہمیں ایسے اقدامات اٹھانے ہونگے جن کی مدد سے بنگلہ دیشی شہریوں میں پاکستان کی محبت ختم ہو جائے جبکہ عوام کو بھی ایسے لوگوں کو سخت جواب دینا چاہیے جو پاکستان سے محبت کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کے بقول ہم ایسا نہیں کر سکتے تو ہمارا وجود مٹ جائیگا۔ انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ بنگلہ دیش ناکامی کی طرف جائیگا تو اس سے پاکستان خوش ہوگا‘ بالکل ویسے ہی جیسے 1975ء میں بنگلہ دیش کے حکمران پاکستان کو خوش کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایسے عناصر کو نکالنے کیلئے ہر حد تک جائینگے۔
بنگلہ دیش کی کٹھ پتلی وزیراعظم حسینہ واجد نے یہ بیان دے کر دراصل اپنے آقا بھارت کو خوش کرنے کی ایک کوشش کی ہے ۔شیخ حسینہ واجد کو تاریخی حقائق کو مسخ نہیں کرنا چاہئے اور انہیں اپنے والد کا انجام یاد رکھنا چاہئے ۔ ان کے والد شیخ مجیب الرحمن نے بنگالیوں کو ورغلایا اور خود بابائے قوم بن بیٹھا تھا۔ بنگلہ بندھو شیخ مجیب الرحمان نے 1970ء کے انتخابات میں عوام کو جو سنہرے سپنے دکھائے تھے‘ وہ ایک ایک کرکے بھیانک شکل اختیار کرگئے۔ مجیب الرحمن 15اگست 1975ء کو اپنی ہی فوج کے ہاتھوں مارا گیا اورتین دن تک اس کی لاش اس کے مکان کی سیڑھیوں میں پڑی رہی اور کوئی اسے اٹھانے نہیں آیا۔ فوج اس کی لاش کو اٹھا کر آبائی گائوں لے گئی مگر کوئی بھی فرد اس کا جنازہ پڑھنے کو تیار نہیں تھا چنانچہ ایک گڑھا کھودا گیا اور قریبی ہسپتال سے چند نرسوں کی ساڑھیاں منگوا کر اسے کفن دیا گیا اور دور سے ہی اس کی بدبودار لاش پر پانی بہایا گیا ۔ بعدازاں چند پولیس والوں نے ایک مولوی کی امامت میں نماز جنازہ ادا کرکے اس کی تدفین کی۔ شیخ مجیب الرحمن کی ہلاکت پر بنگلہ دیش میں جشن منایا گیا تھا۔شیخ حسینہ واجد ان دنوں بیرون ملک ہونے کی وجہ سے بچ گئی تھیں ورنہ اس انقلاب میں ان کا خاتمہ ہو جانا تھا۔
بھارت نے تقسیم ہند اور پاکستان کے وجود کو آج تک دل سے قبول نہیں کیا اور وہ مسلسل پاکستان کیخلاف سازشوں میں مصروف ہے۔ پاکستان کیخلاف بھارتی سازشیں بے نقاب ہو رہی ہیں اور انہی میں سے ایک سازش بنگالی عوام کے دلوں میں پاکستان کیخلاف نفرت پیدا کرنا بھی ہے۔ پوری دنیا جانتی ہے کہ بھارت نے1971ء میں تمام بین الاقوامی قوانین اور ضابطوں کو پامال کرتے ہوئے ننگی جارحیت کے ذریعے مشرقی پاکستان کو ہم سے جدا کر دیا تھا اور اس بات کا اعتراف بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی نے بھی کیا کہ مکتی باہنی کی صورت میں ہماری فوج نے مشرقی پاکستان کو علیحدہ کیا۔ آج بعض عناصر یہ کہتے ہیں کہ 1970ء کے انتخابات بہت منصفانہ تھے، یہ بات مغربی پاکستان کی حد تک تو شاید درست ہو لیکن مشرقی پاکستان میں ایسا ہرگز نہیں تھا۔ آزادی کے بعد 1970ء میں بالغ رائے دہی کی بنیاد پر ہونیوالے انتخابات اس لحاظ سے غیر معمولی اہمیت کے حامل تھے کہ انتخابات کی طویل انتخابی مہم ایک سال پر محیط تھی۔ اس دوران شیخ مجیب الرحمان جب انتخابی مہم میں کسی جلسے میں جاتا تھا تو لوگ اس سے پوچھتے تھے کہ کیا تم پاکستان سے علیحدگی چاہتے ہو؟ وہ جیب سے قرآن پاک نکال کر اس پر ہاتھ رکھ کر قسم کھاتا تھا کہ قرآن پاک کی قسم میں پاکستان سے علیحدگی نہیں چاہتا۔ دوسری طرف عوامی لیگ کے کارکنوں نے غنڈہ گردی سے ایسے حالات پیدا کردیے کہ دوسری جماعتوں کے لیے انتخابی مہم چلانا مشکل ہوگیا۔ قومی اسمبلی کیلئے عام انتخابات کے روزمشرقی پاکستان میں صرف ستاون(57)فیصد لوگوں نے ووٹ ڈالے۔ باقی لوگ ہنگاموں اور غنڈہ گردی کے خوف سے اپنی رائے کا استعمال نہ کرسکے۔ پولنگ اسٹیشنوں پر پولیس کے علاوہ فوج بھی تعینات تھی مگر اسے کسی کارروائی کی اجازت نہیں تھی۔ عوامی لیگی غنڈوں نے خوف و ہراس کی فضا قائم کرکے کھلم کھلا دھاندلی کی اور لوگوں کو پولنگ اسٹیشنوں پر آنے سے روکا۔ ان انتخابات میں ڈالے گئے ووٹوں میں سے صرف (42)بیالیس فیصد لوگوں نے عوامی لیگ کے حق میں ووٹ ڈالے۔ ان میں سے 23فیصد ہندو باشندوں کے ووٹ تھے۔ یہ حقیقت آج ساری دنیا بالخصوص بنگالی بھائیوں پر آشکار ہوچکی ہے کہ مشرقی پاکستان میں مٹھی بھر لوگوں نے وہاں کے عوام کو گمراہ کیا۔ وہاں کے لوگوں کی اکثریت کسی قیمت پر علیحدگی نہیں چاہتی تھی۔ اب کئی بنگالی دانشور برملا اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ 1970ء کے انتخابات منصفانہ نہیں تھے۔ اس کے علاوہ ان سچے پاکستانی بنگالیوں سے 1970ء میں یا اس کے بعد ہونے والے کسی انتخاب میں یہ نہیں پوچھا گیا کہ کیا تم پاکستان سے علیحدگی چاہتے بھی تھے یا نہیں؟۔ اس طرح دھونس دھاندلی کے ذریعے عوامی لیگ برسر اقتدار آئی تھی ۔ مشرقی پاکستان کو ہم سے جدا کر کے بھارت آج تک فتح کے شادیانے تو بجا رہا ہے لیکن وقت اس بات کو ثابت کرے گا کہ یہ بھارت کی ایک تاریخی غلطی تھی ۔ مشرقی پاکستان جدا ہو کر بھارت کا حصہ نہیں بنا بلکہ اس نے اپنا الگ اسلامی تشخص برقرار رکھ کر دوقومی نظریہ کی حقانیت کو ثابت کیا کہ مسلمان اور ہندو کبھی اکٹھے نہیں رہ سکتے ہیں۔ بنگلہ دیشی عوام کی اکثریت آج بھی بھارت کو اپنا نجات دہندہ نہیں بلکہ دشمن نمبر ایک سمجھتی ہے۔
کیا ان تاریخی حقائق کو جھٹلایا یا تاریخ کی کتاب سے نکالا جا سکتا ہے کہ آل انڈیا مسلم لیگ اور تحریک پاکستان کے سرکردہ قائدین میں زیادہ تر بنگال سے تعلق رکھتے تھے جنہوں نے نہ صرف انگریز اور ہندو کی غلامی سے برصغیر کے مسلمانوں کو نجات دلانے کیلئے آل انڈیا مسلم لیگ کی تشکیل میں نمایاں کردار ادا کیا بلکہ وہ تحریک پاکستان میں قائداعظمؒ کے ہراول دستے میں شامل رہے۔ بنگلہ دیش میں پاکستان سے محبت کرنیوالوں کو نام نہاد ٹربیونل کے ذریعے سزائیں دی جا رہی ہیں اور ان پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں لیکن ہر ظلمتِ شب کے بعد سپیدۂ سحر ضرور نمودار ہوتی ہے۔ بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ واجد کی بھارت نواز حکومت کے خاتمہ کے بعد بنگالی عوام کھل کر اپنے جذبات کا اظہار کریں گے۔ اب وہاں بھارت اور اس کی کٹھ پتلی حکومت کیخلاف نفرت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اگر آج بھی ایک غیر جاندارانہ ریفرنڈم کروایا جائے تو بنگالی بھائیوں کی اکثریت بھارت کیخلاف نفرت کا اظہار کریں گے اورپاکستان کے ساتھ رہنے کو ترجیح دیں گے ۔