ہم ساہو تو سامنے آئے !…پاکستان کا سیاسی منظرنامہ

01 اپریل 2018

ملک کا سیاسی اور عدالتی ماحول اس وقت خوب گرما گرم ہے۔ اخبارات کے صفحا ت اور ٹیلی ویژن سکرین عدالتی خبروں اور سیاسی بیانات سے ہمہ وقت مزین ہے۔ ایک طبقہ فکر اس صورت حال سے سخت پریشان اور دل برداشتہ ہے جبکہ دوسرے طبقہ فکر کا خیال ہے کہ یہ سب کچھ ایک پراسس کا حصہ ہے۔ ہمارا سیاسی اور معاشرتی نظام قیام پاکستان سے لے کر اب تک ایسے ہچکولوں اور انقلابات سے گزررہا ہے جن کے باعث نہ تو ہمارا سیاسی اور نہ ہی معاشرتی نظام مستحکم ہو سکا ہے۔ قیام پاکستان سے لے کر 1958میںایوبی مارشل لاء تک گیارہ سال کے دوران اس تیزی سے وزرائے اعظم تبدیل ہوئے کہ بھارت کے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو کو کہنا پڑا کہ میں اتنی بار اپنا لباس بھی نہیں بدلتا جتنی بار پاکستان میں وزیر اعظم تبدیل ہو جاتے ہیں۔ ایوبی مارشل لاء کے بعد یحییٰ خان ، ضیاء الحق اور پرویز مشرف کے مارشل لاء کے دوران فوجی حکمران بلا شرکت غیرے ملک کے وسائل اور اختیارات استعمال کرتے رہے۔ درمیان میں مختصر وقت کے لئے بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کو اقتدار ملا لیکن یہ دونوں وزیر اعظم حکومتی اختیارات مکمل طور پر حاصل نہ کر سکے۔آصف علی زرداری کا پانچ سالہ دور اور موجودہ حکومت کا حالیہ دور جو چند ماہ بعد پانچ سالہ دور کہلائے گا بھی اختیارات اور سول حکمرانی کے خواب کی مکمل تعبیر حاصل کرنے میں ناکام رہا۔یہ سب کچھ کیوں ہو رہا ہے پاکستان کی سیاسی تاریخ پر نظر رکھنے والے ماہرین سیاسیات اور تجزیہ نگار اس پر بہت کچھ کہہ اور لکھ رہے ہیں اس موضوع کی علمی اور عملی بحث اپنی جگہ بڑی اہمیت کی حامل ہے لیکن آج میں قارئین کی توجہ ہمارے سیاسی قائدین اور حکمرانوں کی ایک ایسی روش کی طرف دلانا چاہتا ہوں جو انتہائی دلچسپ ہے۔ ایوب خان نے اپنے دور میں بنیادی جمہوریت کے فلسفے پر عمل کرتے ہوئے ایسا انتخابی نظام تشکیل دیا کہ مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح، جماعت اسلامی کے بانی مولانا ابو اعلیٰ مودودی اور مشرقی پاکستان کے لیڈر شیخ مجیب الرحمن اور مولانا بھاشانی کی" سٹی گم" ہو گئی اور ایوب خان کہتے رہے کہ" ہم سا ہو تو سامنے آئے" ،پھر یحییٰ خان کا دور آیا جنہوں نے اپنے" حرم" کو ایسا سجایا کہ" قومی ترانے "کا استعارہ ہی بدل کر رکھ دیا۔ مشرقی پاکستان کا بنگلہ دیش بنانے میں ان کا کردار کیا تھا اس کا اظہار حمود الرحمن کمیشن رپورٹ میں تفصیل سے پڑھا جا سکتا ہے۔ ان ایام میں صدر مملکت سے دن اور رات میں ملنے والے افراد کی فہرست اور اعمال پر تو ایک تحقیقی مقالہ لکھا جا سکتا ہے اگر ان کے دور کا تجزیہ کریں تو بھی یہی لکھا جائے گا کہ "ہم سا ہو تو سامنے آئے"۔پھر ذوالفقار علی بھٹو صاحب آئے وہ دنیا کی تاریخ کے پہلے سویلین چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بنے،بیک وقت صدر چیف ایگزیکٹو، سپریم کمانڈر اور وزیرا عظم رہے،جلسہ عام میں مائیک پر گالی دینا،عوام اور سیاستدانوں کو برا بھلا کہنا ان کے لیے کوئی نئی بات نہ تھی، ملک کو ایٹمی طاقت بنانے کے عمل کو شروع کرنا اور 1973کے آئین کو دینا بھی ان ہی کا کارنامہ ہے۔ وہ اپنی قبر کھودنے میں بھی یکتا تھے اسی بناء پر تختہ دار پہ چڑھے ان کو دنیاسے دفنائے ہوئے 41سال گزر گئے لیکن مجال ہے کہ ان کے پیروکار تسلیم کرلیں کہ وہ اس دنیا سے چلے گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ "زندہ ہے بھٹو زندہ ہے"اسی لیے بھٹوصاحب خود بھی کہتے تھے کہ "ہم سا ہو تو سامنے آئے" اور واقعی ہماری تاریخ میں ان جیسااب تک کوئی دوسرا نہیں آیا۔ بھٹو صاحب کے بعد جنرل ضیاء الحق آئے انہوں نے پاکستان کو دنیائے اسلام کا قائد بنانے کی کوشش میں پاکستانی معاشرت کی ڈرائی کلینگ کا آغاز کرتے ہوئے ایسے اقدامات کئے کہ پورا معاشرہ "آدھا تیتر اور آدھا بٹیر "بن گیا اور ان کا دور اسلام کی "نشاۃ ثانیہ"کے حصول کا دور تھا یا اس خطے میں امریکی بساط بچھانے کا عمل اس پر بھی پی ایچ ڈی کی جا سکتی ہے۔ اس لئے ان کے لیے بھی یہ کہنا درست ہے کہ "ہم سا ہو تو سامنے آئے"۔ضیاء الحق کے بعد بے نظیر بھٹو نے ضیا ء الحق کی باقیات ختم کرنے کا عزم کیا تو میاں نواز شریف جو اس وقت پنجاب کے وزیر اعلیٰ تھے نے ایسا طرز عمل اختیار کیا کہ بے نظیر صاحبہ کے اقتدار کی گاڑی بھرے چوراھے میں "چوک "ہو گئی اور صدر مملکت غلام اسحق خان نے اپنی ہی وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کو بر طرف کر کے ثابت کر دکھایا کہ "ہم سا ہو تو سامنے آئے"۔وزیر اعظم نواز شریف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے جس طرح صدر غلام اسحق خان کو للکارا اس پر بھی یہ یہی جملہ صادق آیا کہ "ہم سا ہو تو سامنے آئے"۔صدر غلام اسحق خان ،وزیر اعظم نواز شریف دنوں نے اس دور کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل کاکڑ کے سامنے جس طرح مشترکہ استعفیٰ دستاویز پر ایوان صدر میں دستخط کئے اور چھاتہ بردار کی طرح آنے والے معین قریشی نے وزارت اعظمیٰ کا حلف لیا(یہ سب کچھ میری آنکھوں کے سامنے ہوا جب میں پی ٹی وی رپورٹر کے طور پر وہاں موجود تھا)تو میں سوچتا رہا کہ جنرل کاکڑ بھی کہتے ہوں گے کہ "ہم سا ہو تو سامنے آئے"۔
پھر نواز شریف دو تہائی اکثریت سے آئے انہوں نے اس فقرے کے مصداق کہ "ہم سا ہو تو سامنے آئے" جنرل مشرف کو بیک قلم سبکدوش کر دیا جواباً جنرل مشرف نے وزیرا عظم نواز شریف کو گرفتار کر کے پابند سلاسل کر دیا اور کہا کہ "ہم سا ہو تو سامنے آئے" مشرف نے اپنے دور میں سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ لگایا لیکن انہوں نے امریکہ کے ساتھ مل کر ایسی حکمت عملی اختیار کی بظاہر سب ٹھیک تھا لیکن ملک کے سیاسی نظام اور معاشرتی ڈھانچے میں عدم برداشت اور دہشت گردی کی ایسی فضا کو جنم دے دیا کہ نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کو ان سے این آر اوکر کے ملک سے جانا پڑا۔
بے نظیر کی شہادت کے بعد آصف علی زرداری نے وکٹ کے چاروں طرف کھیلتے ہوئے پانچ سال کمال ہنر مندی سے سب کچھ حلال کیا اور "منی ٹریل"کے سرے تک کا کسی کو علم نہ ہو سکا۔ان کے اقتدار کا خاتمہ ہوا تو انہوں نے "اینٹ سے اینٹ بجانے" کا اعلان کر تے ہی ملک سے راہ فرار اختیار کی اور اب واپس آکر بلوچستان میں جس طرح مسلم لیگ ن کی اینٹ سے اینٹ بجائی توان کے چاہنے والے کہنے لگے کہ "ہم سا ہو تو سامنے آئے"۔نواز شریف صاحب تیسری بار مقبول وزیر اعظم کے طور پر سامنے آئے لیکن پہلے ہی سال ان کے سینے پر طاہر القادری اور عمران خان نے بیٹھ کر کہا کہ "ہم سا ہو تو سامنے آئے" پھر پانامہ کا ایسا جال ان پر پھینکا گیا جسے کاٹنا تو درکنار بلکہ اس میں اپنے ہاتھوں سے لگائی گئی گرہیں بھی اپنے منہ سے نہ کھول سکے۔اب اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کو جس انداز میں انہوں نے بیک وقت للکارہ ہے وہ بھی اس بات کی علامت ہے کہ "ہم سا ہو تو سامنے آئے" ۔اسی طرح عمران خان نے جس طرح نواز شریف اور آصف علی زرداری کو بھرے بازار میں للکار کر نوجوانوں کو ساتھ لگایاتو انہوں نے بھی کہا"ہم سا ہو تو سامنے آئے" لیکن حالیہ سینیٹ الیکشن میں وہ جس طرح استعمال ہوئے تو یوں لگا کہ انہوں نے اپنی بیس سالہ سیاسی زندگی پر پانی پھیر دیاہو۔ اس پر بھی یہی کہا جا سکتا ہے کہ"ہم سا ہو تو سامنے آئے"۔ لکھنے کو تو اور بھی بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے لیکن پاکستانی سیاسی تاریخ میں یہ فقرہ سب سے زیادہ جس قوت پر پوری طرح چھایا ہوا ہے "وہ ہے وہ استعارہ"کہ جس کے لگائے ہوئے زخموں کو تمام سیاستدان چاٹتے بھی ہیں اور ان کے پائوںبھی دھو کر پیتے ہیں اور وہ بھی کہتے ہیں کہ "ہم سا ہو تو سامنے آئے"اس پر پھر کسی وقت بات ہو گی۔