پختونوں کیساتھ امتیازی رویہ اور وسائل میں انہیں نظرانداز کرنا مزید قابل برداشت نہیں: آفتاب شیرپائو

01 اپریل 2018

پشاور(بیورورپورٹ) قومی وطن پارٹی کے مرکزی چیئرمین آفتاب احمد خان شیرپائونے کہا ہے کہ پختون قوم آنے والے انتخابات میںاپنے ووٹ کے ذریعے ایسے نمائندوں کا چنائو کرے جو ان کے مسائل کوحل کرنے کی اہلیت رکھتے ہوں۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے ضلع چارسدہ میںپارٹی کے جاری مختلف ترقیاتی منصوبوں کے جائزہ کے دوران بات چیت اور خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر پارٹی کے صوبائی چیئرمین سکندر حیات خان شیرپائو ،پارٹی ایم پی ایز،ضلعی و تحصیل ممبران اور چارسدہ کے پارٹی عہدیدار بھی موجود تھے۔آفتاب شیرپائو نے کہا کہ ہمارا منشور پختونوں کی ترقی پر مبنی ہے ۔انھوں نے کہا کہ قومی وطن پارٹی پختونوں کی جماعت ہے اور وہ شروع دن سے ان کی ترقی ،بہبوداور فلاح کے کاموں میں مصروف عمل ہے۔انھوں کہا کہ پختون باشعور قوم ہیں اور وہ جدید چیلنجز کا مقابلہ کرنا جانتی ہے اور قومی وطن پارٹی کے وجود میں آنے کا مقصد ہی پختونوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرکے قومی دھارے میں شامل کرنا ہے۔انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے صوبہ کے عوام کے ووٹ کا تقدس پامال کرتے ہوئے پانچ سال حکومت کی مگر پختونوں کی فلاح کیلئے کچھ نہیں کیا ۔انھوں نے کہا کہ صوبہ کو اندھیروں میں دھکیلنے والوں کے چہرے ان کے سامنے بے نقاب ہو چکے ہیں اور اس بار ووٹ کے ذریعے ان کو مسترد کرکے اپنے لئے مخلص لیڈر شپ کا انتخاب کریں گے۔انھوں نے کہا کہ پختونوں کے ساتھ امتیازی رویہ اور وسائل میں ان کو نظر انداز کرنے کا سلسلہ مزید کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا انھوں نے کہا کہ ایک طرف وفاقی حکومت کی امتیازی پالیسیوں کی بدولت پختونوں کی مایوسیوں میں اضافہ ہوا تو دوسری طرف پی ٹی آئی حکومت نے پختونوں سے تبدیلی کے نام پر ووٹ لے کر بے یا ر و مدد گار چھوڑ دیا اور ان کے حق اور تحفظ کو یقینی بنانے کی بجائے نان ایشوز میں الجھ کر پختونوں کے ساتھ کئے گئے وعدے ایفا نہیں کئے۔ انھوں نے کہا کہ صوبہ کو اپنے وسائل سے محروم رکھنا کسی طور قابل نہیں ۔انھوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا اپنی ضرورت سے زیادہ بجلی اور گیس پیدا کر رہا ہے لیکن تعجب کی بات ہے کہ ابھی گرمیاں شروع ہی نہیں ہوئی اور ان پر لوڈشیڈنگ جیسا عذاب مسلط کیا گیاجو کہ سراسر ناانصافی ہے۔انھوں نے کہا کہ یہ صوبے کے عوام کی ایک بہت بڑی بدقسمتی تھی کہ پی ٹی آئی جیسے غیر سنجیدہ اور غیر دانشمندانہ حکمران ان پر مسلط ہوئے ۔انھوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی ناقص پالیسیوں کی بدولت آج صوبہ کے یہ حالات ہیں کہ یہاں کے تاجر اپنے کاروبار دوسرے صوبوں میں منتقل کر نے پر مجبور ہورہے ہیں۔