عہد ِ شکن

01 اپریل 2018

دل کا روگ ہے جناب
اور پھر یہ کْل گلاب
آرزو کی بے کسی
بے کلی کا بھی حساب
دست ِ آتشی سہی
چاہتوں کا ہو خواب
موسم ِ خْمار سْن
بخت دشت کی سی تاب
کس قدر ہے دشمنی
دشمنی کا لا جواب
تنگ دست ساگری
مشکلوں میں ہے چناب
جل رہی ہتھیلیاں
رکھ سکو گے ماہتاب
شوق کی نگاہوں سے
دیکھتے نہیں سیلاب
کون کیا کدھر ہوں میں
لذتِ نا کمخواب
وقت " بے نظیر" کا
بے نظیر انقلاب
موج ، رنگ ، مستیاں
آب ِ کوثری کا باب
!! روبرو ئے ِ آئینہ ۔۔۔
آپ ہیں یا ہم جناب