کئی عدالتی فیصلے تاریخ بھی نہیں مانتی‘ عوام کے درست ہوتے ہیں: وزیراعظم شاہد خاقان

01 اپریل 2018

ڈیرہ غازیخان (خبرنگار+ نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے سینٹ کے الیکشن میں کرپشن نہیں کی گئی تو جو لوگ میرے بیان پر باتیں کررہے ہیں وہ بیان حلفی دیں ایوان بالا کے چیئرمین کے انتخاب میں کرپشن نہیں ہوئی۔ نواز شریف عوام کے دلوں میں بستے ہیں آنے والے الیکشن میں اپنی عوامی کارکردگی کی وجہ سے شاندار کامیابی حاصل کریں گے۔ وہ ڈیرہ غازیخان میں نادرن بائی پاس اور سخی سرورتابواٹہ روڈ کی سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیراعظم نے کہا چیئرمین سینٹ اور سینٹرز پریس کانفرنس کرکے بیان حلفی دیں انہوں نے سینٹ کے الیکشن میں ممبران کو نہیں خریدا۔ بعض لوگوں کو میرے اس بیان سے تکلیف ہوتی ہے لیکن میں ہر حال میں ایوان بالا کے تقدس کی بات کرتے ہوئے سینٹ الیکشن میں ہونے والی کرپشن کی بات ضرور کروں گا۔ انہوں نے کہا آنے والے الیکشن میں بھرپور کا میابی حاصل کریں گے۔ کبھی ہمیں عدالتوں میں گھسیٹا جاتا ہے اور کبھی دھرنوں کے ذریعے حکومت گرانے کی کوشش کی جاتی ہے لیکن مسلم لیگ (ن) اور نواز شریف کو عوام کے دلوں سے کوئی بھی نہیں نکال سکتا۔ اس وقت 200 ارب کے منصوبے سوئی گیس کے شروع کے گئے ہیں جبکہ دس لاکھ سوئی گیس کے نئے کنکشن دئیے جارہے ہیں جبکہ سڑکوں کے ذریعے پورے ملک میں عوام کو زبردست سہولتیں دی جا رہی ہیں۔ ہم عدالتوں کا احترام کرتے ہیں لیکن عوام کی عدالت میں نواز شریف سرخرو ہونگے۔ انہوںنے کہا 2008ء سے قبل ملک میں آمریت تھی اور 2008ء کے الیکشن میں آصف زرداری کی حکومت آئی کی آصف زرداری نے جو ملک کے ساتھ کیا وہ سب کے سامنے ہے پھر عوام نے 2013ء کے الیکشن میں میاں نوازشریف کو منتخب کیا۔ نواز شریف نے اس ملک اور قوم کو اندھیروں سے نکالا۔ انہوں نے بجلی، سوئی گیس اور سی پیک کے منصوبے ملک کو دئیے جس سے ملک آج خوشحالی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ وزیراعظم نے ڈیرہ غازیخان ایئرپور ٹ کا نام سابق صدر سردار فاروق خان لغاری کے نام پر رکھنے جبکہ چوٹی، سخی سرور اور ڈیرہ غازیخان شہر کے مضافاتی علاقوں کے لیے سوئی گیس فراہم کرنے کا اعلان کیا اور کہا غازی یونیورسٹی کو مستقل وائس چانسلر بھی دیا جائے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ آج میں 20سال بعد ڈیرہ غازیخان آیا ہوں یہ ضلع چاروں صوبوں کے سنگم میں واقع ہے۔ قبل ازیں انہوں نے اپنے خطاب میں کہا ہم ووٹ کے ذریعے تبدیلی کے حق میں ہیں۔ وفاقی وزیر مواصلات ڈاکٹر حافظ عبدالکریم نے کہا مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے ملک میں ترقیاتی کاموں کا جال بچھا دیا ہے۔ میاں نواز شریف نے جنوبی پنجاب کی تقدیر بد ل کر رکھ دی ہے۔ ملتان تا سکھر موٹر وے کا افتتاح بہت جلد کیا جائے گا جبکہ شور کوٹ اور گوجرہ موٹروے کا افتتاح مئی میں کیا جائے گا۔ انہوںنے ڈیرہ غازیخان میں خواتین کے علیحدہ نادرا سنٹر اور غازی یونیورسٹی کے لئے مستقل وائس چانسلر دینے کا اعلان کیا۔ وفاقی وزیر سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا عمران خان ایک طرف آصف زرداری کو کرپٹ کہتے ہیں اور دوسری طرف سینٹ کے الیکشن میں آصف زرداری سے اتحاد کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا ڈیرہ غازیخان کو انڈسٹریل ایریا بنایا جائے جبکہ چوٹی اور سخی سرور کو سوئی گیس دی جائے جبکہ کوہ سلیمان کی رودکوہی کے پانی کو کنٹرول کرنے کے لیے ڈیمز بنائے جائیں۔آئی این پی کے مطابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے سینٹ انتخابات کے معاملے پر آخری دم تک دخل دیتا رہوں گااس برائی کے خاتمے کو جہاد سمجھتا ہوں، ،چیئرمین سینیٹ اور سینیٹر حلفیہ بیان دیں کہ انہوں نے کسی ایم پی اے کو نہیں خریدا ،جس ایوان کی بنیاد کرپشن پر ہو وہ قیادت پاکستان کے مفاد کیلئے کیسے کام کر سکتی ہے،مسلم لیگ (ن) کو کام نہیں کرنے دیا گیا،ملک میں کام کرنے والوں کو عدالت میں گھسیٹنا روایت بن گئی ہے، کبھی دھرنے ہوئے، کبھی عدالتوں میں گھسیٹا گیا،عدالتوں کا احترام کیا لیکن سیاست کے فیصلے عوام پر چھوڑ دیں،عوام نے 2008 میں ایک فیصلہ کیا جس کے نتیجے میں آصف زرداری ملا، اس نے جو ملک کے ساتھ کیا وہ سب جانتے ہیں،جس ملک میں سیاستدان کی عزت نہیں ہوگی وہ ملک ترقی نہیں کرسکتا، سیاست کے فیصلے پولنگ اسٹیشن پر ہوتے ہیں عدالتوں میں نہیں،کچھ فیصلوں کو تاریخ قبول نہیں کرتی، 15 سال کی خرابیاں 5 سال میں دور نہیں ہوتیںمگر ہم نے کوشش ضرور کی، کبھی کسی کی ذات پر تنقید نہیں کی، جس نے ہمیں پتھر مارا ہم نے اسے پھول دیا،ملک سے اگلے 20سال کیلئے گیس کی کمی کو دور کر دیا گیا ،10لاکھ کنکشن دیئے جا چکے 10لاکھ لگائے جا رہے ہیں بغیرسفارش کے، ہمیشہ عدالتوں کی عزت کی اور کرتے رہیں گے، عوام کا فیصلہ کبھی غلط نہیں ہوتا، ہمیشہ شرافت کی سیاست کی۔ اس موقع پر وزیراعظم نے ڈیرہ غازی خان کی مختلف آبادیوں میں گیس فراہمی ،انڈس ہائی وے کو چار رویہ کرنے کا بھی اعلان کیا۔ وزیراعظم نے کہا ہمارے بدترین مخالف بھی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ملک میں ہر جگہ کام صرف مسلم لیگ (ن) ہی کر رہی ہے، اگر کسی سیاستدان نے ملک کے مسائل حل کرنے کی کوشش کی ہے تو وہ محمد نواز شریف ہیں۔ دھرنوں اور عدالتوں کے ذریعے ہمیں کام سے روکنے کی کوشش کی گئی لیکن ہم کام کرتے رہے اور آپ کے ووٹ کو عزت دی، یہ عجیب روایت بن گئی ہے کہ جو آدمی کام کرے اسے عہدے سے ہٹادیا جائے اور عدالتوں میں گھسیٹا جائے، یہ روایت پاکستان کو عزت نہیں دے گی۔ انہوں نے کہا کہ سیاست کے مستقبل کے فیصلے پولنگ سٹیشن پر ہوتے ہیں، عدالتوں میں نہیں،ہم نے ہمیشہ عدالتوں کی عزت کی ہے اور کرتے رہیں گے، سیاست کے فیصلے پولنگ سٹیشن پر ہونے دیں۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ عوام کا فیصلہ کبھی غلط نہیں ہوتا، عدالتوں کے فیصلے پر اپیل بھی ہوتی ہے ،کچھ فیصلوں کو تاریخ بھول جاتی ہے، کچھ فیصلے متنازعہ ہوتے ہیں لیکن عوام کے فیصلے کبھی غلط نہیں ہوتے۔ آج اس بات کی ضرورت ہے کہ ہم اس بات کو سمجھیں کہ جس ملک میں سیاستدان کی عزت نہیں ہو گی، عوام کا اعتماد نہیں ہو گا، وہ ملک ترقی نہیں کر سکتا، آج ہم مہنگائی، ترقی کی بات کرتے ہیں اس کی بنیادی ضرورت ہے کہ ملک میں سیاست مضبوط ہو، عوام کا اعتماد حاصل ہو تو ملک ترقی کرے گا۔ این این آئی کے مطابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ چیئرمین سینٹ اور سنیٹر حلفیہ بیان دیں کہ کسی کو نہیں خریدا ٗ آخری دم تک سینیٹ انتخابات کے معاملے میں دخل دیتا رہوں گا۔ سازشوں اور حکومت ہٹانے کا جواب پولنگ سٹیشن میں دینگے، سیاست جیبیں بھرنے والوں کے حوالے کر دی تو پاکستان ترقی نہیں کریگا ٗ عام انتخابات میں مسلم لیگ ن ہی کامیاب ہوگی ٗجب تک سیاسی استحکام نہیں ہو گا وہ ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن اور نوازشریف کے کام عوام کے سامنے ہیں۔ٗ ہم وہ منصوبے مکمل کررہے ہیں جو ماضی کی حکومتیں بھی کرسکتی تھیں۔ ہمارے پاس وسائل وہی ہیں لیکن کیا وجہ ہے کہیں بھی جائیں کام ہمارے ملتے ہیں۔ ہمارے بدترین مخالف بھی یہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی جماعت ملک کے مسائل حل کرسکتی ہے تو وہ (ن) لیگ ہے۔ اگر کسی نے پاکستان کے مسائل حل کرنے کی کوشش کی تو وہ نواز شریف ہے۔انہوں نے کہاکہ ہم نے مشکل حالات کے باوجود کامیابی حاصل کی۔ سب نے کوشش کی کہ مسلم لیگ ن کام نہ کرسکے، کبھی دھرنے ہوئے، کبھی عدالتوں میں گھسیٹا، کبھی فیصلے ہوئے، ہم نے سب برداشت کیا لیکن کام کرتے رہے۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ بڑا عجیب طریقہ اور روایت بن گئی ہے، جو ملکی مسائل حل کرے اسے عدالتوں میں گھسیٹیں، عہدوں سے ہٹائیں اور عوام سے دور کرنے کی کوشش کریں، یہ روایت پاکستان کی نہیں، یہ چیز سیاست کو عزت نہیں دیگی اور مسائل حل نہیں کریگی۔وزیر اعظم نے کہا کہ سیاست کے فیصلے پولنگ سٹیشن پر ہوتے ہیں عدالتوں میں نہیںبراہ راست اسے ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ عوام نے اس کا جواب الیکشن میں دینا ہے۔ انہوں نے کہا اگر ہم نے سیاست پھر ان لوگوں کے حوالے کردی جو صرف جیبیں بھرنا جانتے ہیں تو ملک ترقی نہیں کریگا۔ اگر عوام گالیاں دینے والوں کو ووٹ دینا چاہتے ہیں تو دیں لیکن ان سے خیر کی توقع نہیں رکھیں، جو سازشیں ہوئیں اور جس طرح حکومت کو ہٹایا گیا، یقین ہے عوام اس کا جواب پولنگ سٹیشن پر ضرور دیں گے۔ وزیراعظم نے ایک بار پھر سینٹ انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سینٹ کا معاملہ آج کل اخباروں کی زینت بنا ہے۔ عوام سے پوچھتا ہوں کیا ہمارے سنیٹر وہ لوگ ہونے چاہئیں جو پیسے دے کر سینٹ میں آئیں، ہمارا وہ ایوان جو ایوان بالا ہے کیا اس کا چیئرمین وہ ہو جو ووٹ خرید کر وہاں پہنچا ہو، یہ سیاست کا معیار ہے، یہ وہ برائی ہے جسے ہم نے دور کرنا ہے۔ دعوے سے کہتا ہوں مسلم لیگ ن نے سینٹ الیکشن پر ایک پیسہ خرچ نہیں کیا، ایم پی اے کے ضمیر کو نہیں خریدا۔ وزیراعظم نے کہا کہ بڑے لوگوں نے کہا کہ وزیراعظم کو اس معاملے میں دخل انداز نہیں ہونا چاہیے لیکن میں آخری دم تک دخل دیتا رہوں گا۔ اس برائی کا خاتمہ جہاد سمجھتا ہوں۔ چیئرمین سینٹ اور سنیٹر حلفیہ بیان دیں کہ کسی کو نہیں خریدا۔ جس ملک میں دو نمبر لوگ اعلیٰ عہدوں پر ہوں ملک ترقی نہیں کرسکتا۔ اس برائی کو آج ختم کرنا ہے، اگر اس برائی کو ختم نہیں کیا تو ضمیر خریدنے والے اور جیبیں بھرنے والے ہی ہمارے نمائندے ہوں گے ٗہم کسی سے جنگ نہیں کرنا چاہتے۔