پاکستان میں روایتی طریقے سے آبپاشی، اربوں روپے کا پانی ضائع ہونے لگا

01 اپریل 2018

لاہور(نیوز رپورٹر)پاکستان میں روایتی طریقے سے آبپاشی کے باعث اربوں روپے کا میٹھا پانی ضائع ہونے لگا، ملک میں دستیاب مجموعی پانی کا 90 فیصد زراعت کیلئے استعمال ہوتا ہے، تاہم اس پانی کا نصف فیصد آبپاشی کا پرانا طریقہ اپنانے کے باعث ضائع ہو جاتا ہے، زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقل میں پانی کی سنگین قلت کے پیش نظر پاکستان کو آبپاشی کے جدید نظام ”ڈرپ اریگیشن سسٹم“ کو اپنا نا اشد ضروری ہے، بصورت دیگر آنیوالے 10 برسوں میں پاکستان کی زراعت کو شدید خطرات لاحق ہو جائیں گے۔ ڈرپ اریگیشن نظام کی افادیت کے حوالے آگاہی پروگرام کے تحت نیسلے پاکستان نے ایگری کلچرل جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے اراکین کو شیخوپورہ میں ماڈل فارم کا دورہ بھی کروایا،اس موقع پرزرعی ماہر اللہ بخش اور مصطفی یوسف نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ڈرپ اریگیشن وقت کی اہم ترین ضرورت ہے جو کم پانی کے ذریعے زیادہ زرعی پیداوار حاصل کرنے کی ٹیکنیک کا نام ہے ، نیسلے نے گزشتہ برس مقامی فارمرز کے تعاون سے 68 ایکڑ زرعی رقبے پر ڈرپ ارگیشن کا نظام شروع کیا جس کے باعث 140 ملین لیٹر پانی بچایا گیا، علاوہ ازیں مانوالہ، شرقپور، مریم آباد،حبیب آبا د اور ڈوکے ، الہ آباد کے قریب میں بیسیوں ایکڑ لینڈ پر ڈرپ اریگیشن سسٹم شروع کیا گیا ہے ، 2019 ءکے آخر تک 67 ایکڑ ڈرپ اریگیشن رقبے کو بڑھا کر 185 ایکڑ کر دیا جائے گا جس سے 400 ملین لیٹر پانی کی بچت ہوگی۔کمپنی کے نمائندہ زرعی ماہرین نے مزید بتایا کہ ڈرپ اریگیشن کے علاوہ پاکستان ایگریکلچر ریسرچ کونسل کے تعاون سے ماحول دوست سولر پمپ بھی متعارف کروائے جا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ ”واٹر سینس پراجیکٹ“ کے ذریعے ایسا سافٹ ویئر ڈیزائن کیا جا رہا جو مٹی میں نمی(پانی ) کی معلومات حاصل کر کے سسٹم میں بھیجے گا جس کے ذریعے کسانوں کو پتہ چلے گا کہ زمین کو کب اور کتنے پانی کی ضرورت ہے۔