سیاسی قیادت‘ عدلیہ‘ اشرافیہ‘ ریاستی اداروں سے توقعات ہیں: شہبازشریف

01 اپریل 2018

لاہور+لندن(خصوصی رپورٹر+نمائندہ خصوصی)وزیراعلیٰ شہباز شریف نے کہا ہے کہ عوام نے ڈرامے اورتماشے بہت دیکھ لئے، اب کام کرنے کا وقت ہے۔ سب مل جل کر کام کرینگے تو پاکستان ترقی کریگا،عوام خوشحال ہونگے اور پاکستان کا نام سربلند ہوگا۔عوام جھوٹ اورسچ کے درمیان تمیز کا ادراک رکھتے ہیں۔ شہباز شریف نے لندن میں اوورسیزکارکنوں سے گفتگومیں کہا کہ سیاست کرسی کیلئے نہیں،عوام کی خدمت کا اورفلاح وبہبود کیلئے کرتے ہیں۔ تبدیلی اورانقلاب کے جھوٹے دعووں سے عوام کو دھوکہ نہیں دیا جاسکتا۔ خیبر پی کے میں کچھ نہ کرسکے وہ ملک میں تبدیلی کا دعویٰ کیسے کرسکتے ہیں۔ تبدیلی ترقی سے آتی ہے اورعوام جانتے ہیں صرف مسلم لیگ کا ایجنڈا عوام کی ترقی اورخوشحالی ہے۔ پنجاب میں ترقی اورتبدیلی عوام کے سامنے ہے اورعام انتخابات میں مقابلہ سچ اورجھوٹ کے درمیان ہوگا۔ جھوٹ بولنے کا ریکارڈ قائم کرنیوالے عوام کا دل نہ جیت سکے۔ دھرنوں، جلسوں اورجلسوں کی رکاوٹوں کے باوجود پنجاب میں ترقی کا سفر جاری رکھا۔ 2018ء کے الیکن میں ترقیاتی ایجنڈا کی بدولت پہلے سے زیادہ سیٹیں جیتیں گے۔آخری سانس تک عوام کی خدمت کے عزم پرکاربند رہوں گا۔ علاوہ ازیں شہباز شریف برطانیہ کا دس روز نجی دورہ مکمل کرکے اتوار کی صبح 4 بجے لاہور واپس پہنچ گئے۔ شہبازشریف نے غزہ میں فلسطینیوں کے پرامن مارچ پر فائرنگ کی مذمت کی ہے۔ انہوںنے غزہ کے سانحہ کے بعد اپنے ٹویٹ میں فلسطینی بھائیوں سے اظہار یکجہتی کیا اوران کے جذبہ حب الوطنی کو خراج تحسین پیش کیا۔ شہباز شریف نے مطالبہ کیا ہے کہ اقوام متحدہ فلسطینیوں کی حفاظت کیلئے مناسب اقدامات کرے۔ فلسطین کے مسئلے کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دیکھا جانا چاہیے۔ اقوام متحدہ فلسطین میں اسرائیلی مظالم کا فوری نوٹس لے۔ انہوںنے شاعری کی زبان میں اپنے جذبات اوراحساسات کا اظہار یوں کیاہے۔
گرم ہوجاتا ہے جب محکوم قوموں کا لہو
تھر تھر اتا ہے، جہان چار سوو رنگ وبو
زربت پہیم سے ہوجاتا ہے آخر پاش پاش
حاکمیت کا بت سنگین،دل و آئینہ رو
شہباز شریف نے نواب شاہ میں کشتی حادثے میں 5 بچوں اور خاتون کے جاں بحق ہونے پر اظہار افسوس، ڈی آئی خان پولیس پر بم دھماکے کی مذمت کی ہے۔ دریائے نیلم میں جیپ گرنے سے قیمتی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس کیا ہے۔میرے معالج یہاں پر ہیں‘ الزام خان کو کچھ خیال ہونا چاہئے کچھ احساس ہونا چاہئے۔ شہبازشریف سے سوال کیا گیا کہ آپ نے اپیل کی ہے کہ تمام قوتیں آپس میں اتحاد کریں‘ شہبازشریف نے کہا کہ اس کے بغیر پاکستان آگے چل نہیں سکتا‘ سیاسی لیڈر شپ‘ اشرافیہ‘ ریاستی اداروں اور عدلیہ سے توقعات ہیں۔ الزام خان میری بیماری اور علاج معالجہ پر بھی سیاست کر رہے ہیں۔ چند عناصر کے سوا تمام قوم و سیاسی جماعتیں پاکستان کی ترقی کیلئے متحد ہونا چاہتی ہیں۔ اداروں اور حکومت کے درمیان اتحاد کے بغیر مل نہیں چل سکتا۔ مقررہ وقت پر الیکشن قوم و ملک کی ضرورت ہے۔ لندن سے وطن روانگی سے قبل شہبازشریف سے سوال کیا گیا کہ وزیراعظم بنے تو سب سے بڑی ترجیح کیا ہو گی؟ جس پر شہبازشریف نے کہا کہ موقع آئے گا تو ترجیحات کے بارے میں پوری قوم کو بتائوں گا۔ لیڈر سے قوم سچ کی توقع کرتی ہے جھوٹ کی نہیں۔