نئی حلقہ بندیاں مسترد‘ پرانی پر الیکشن کے لئے آئینی ترمیم کی جائے‘ قومی اسمبلی ورکنگ گروپ

01 اپریل 2018

اسلام آباد (آئی این پی) قومی اسمبلی کی انتخابی حلقہ بندیوں سے متعلق ورکنگ گروپ کی خصوصی کمیٹی نے حد بندیوں کے حوالے سے 5سفارشات تیار کرلیں،کمیٹی نے سفارش کی کہ مردم شماری کے عبوری نتائج کی حلقہ بندیوں کے حوالے سے کی جانے والی آئینی ترمیم واپس لیتے ہوئے نئی آئینی ترمیم کی جائے،آئینی ترمیم کے تحت آئندہ عام انتخابات کے تحت پرانی حلقہ بندیوں پر کروائے جا سکیں گے،حلقہ بندیوں کے اعتراضات سننے کیلئے الیکشن ایکٹ کے سیکشن 20 میں ترمیم کی جائے،حکومت وفاقی انکوائری کمیشن تشکیل دیتے ہوئے حلقہ بندیاں کرنے والی الیکشن کمیشن کی کمیٹیز کے دائرہ اختیار اور ان ارکان کے حوالے سے مکمل تحقیقات کرے،آئین کے آرٹیکل 184 کے تحت سپریم کورٹ حلقہ بندیوں میں ہونیوالی بدانتظامی کاازخود نوٹس لے اور قومی اسمبلی ورکنگ گروپ کی سفارشات پر قرارداد پاس کرے ،پانچ سفارشات اسپیشل کمیٹی کو بھیجی جائیں گی۔ہفتہ کو ورکنگ گروپ کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس کنوینئر دانیال عزیز کی زیر صدارت ہوا۔کنوینئر کمیٹی دانیال عزیز نے مرتب کردہ رپورٹ کے حوالے سے ارکان کو آگاہ کیا کہ پنجاب کے سارے قومی اور صوبائی حلقوں میں حد بندیوں سے متعلق الیکشن کمیشن کے اپنے ہی قوانین کی خلاف ورزی کی گئی ہے،پنجاب کے قومی اسمبلی کے 141 اور صوبائی اسمبلیوں کی 297 انتخابی حلقوں میں قوانین کی خلاف ورزی کا انکشاف ہوا ہے،سندھ کے قومی اسمبلی کے61میں سے 15 جبکہ صوبائی اسمبلی کے 130میں سے 121 حلقوں میں حد بندیوں کے قواعد کی خلاف ورزی کا پتہ لگایا گیا ہے،الیکشن کمیشن نے خیبرپی کے کے قومی اسمبلی کے 39میں سے 18 جبکہ صوبائی اسمبلی کے99 میں سے 88 حلقوں میں رولز کی خلاف ورزی کی ،بلوچستان اسمبلی کے قومی اسمبلی کے 16 میں سے 3 جبکہ صوبائی اسمبلی کے50 میں سے 10 حلقوں میں رولز کی خلاف ورزی بھی سامنے آئی،قوانین کے تحت انتخابی حدود شمال سے مشرق کی جانب اور "زگ زیگ " طرز پر کی جانی ضروری ہیں ،تاہم الیکشن۔کمیشن کی جانب سے کئی حلقوں میں اس مروجہ طریقہ کار پر عمل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ورکنگ گروپ کے قیام کا مقصد حد بندیوں کے حوالے سے اپنی سفارشات تیار کرنا تھا ،ہمارا مقصد کسی بھی دوسرے ادارے کے کام میں مداخلت ہرگز نہیں نہ ہی ہم انتخابات میں تاخیر چاہتے ہیں،ایسے کئی شواہد سامنے آئے کہ الیکشن کمیشن نے انتخابی حد بندیوں کے لئے مقامی سطح پر جائزہ ہی نہیں لیا بلکہ صرف نقشوں کا سہارا لیا گیا،ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ نقشے ساتویں جماعت کے بچوں نے تیار کئے ہیں،الیکشن کمیشن کے نقشوں کا معیار بھی ناقص تھا،معلوم ہوا کہ قانون گوہی اور تحصیل کے الفاظ الیکشن ایکٹ اور قواعد میں شامل نہیںتاہم الیکشن کمیشن نے جو نوٹیفیکشن جاری کیا گیا اس میں یہ دونوں اصلاحات استعمال ہوئے جس سے حد بندیاں بہت متاثر ہوئیں۔الیکشن کمیشن حکام نے حد بندیاں کرنے والی کمیٹی کے ارکان کے نام بھی نہیں بتائے،الیکشن کمیشن نے حد بندیاں کرنے والی کمیٹی کے ارکان کی قابلیت اور ماضی کے تجربے کے بارے میں بھی نہیں بتایا،ہمارے کئی سوالات کے بعد الیکشن کمیشن کے حکام نے ورکنگ گروپ کے اجلاس میں شرکت کرنا ہی چھوڑ دیا۔کمیٹی ارکان نے جو مینہ کاری کی ہے اسے عوام کے سامنے لایا جائے گا، کمیٹی ارکان حقائق چھپا نہیں سکتے، الیکشن کمیشن کو کمیٹی ارکان کے انتخاب میں اختیار کیا جانے والا طریقہ کار بتانا ہو گا۔ورکنگ گروپ نے سفارش کی ایک وفاقی انکوائری کمشن نیا دیا جائے ۔ حلقہ بندی کرنے والی کمیٹی کے مقاصد کی تحقیقات کرے، انکوائری کمشن حلقہ بندیاں کرنے والے ارکان کو گرفتار کر کے تحقیقات کر سکتی ہے۔ قومی اسمبلی ورکنگ گروپ کی سفارشات پر قرار داد پاس کرے انکوائری کمشن پانامہ طرز پر صدارتی آرڈیننس کے ذریعے بنایا جائے۔آئی این پی کے مطابق وفاقی وزیر نجکاری دانیال عزیز کے پھوپھا اے کے خالد کی رسم قلکے باعث ورکنگ گروپ کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس 4گھنٹے تاخیر سے شروع ہوا۔