عالمی برادری نے ایران کو محدود کرنے کی کوشش نہیں کی تو خطے میں ایک نئی جنگ چھڑ سکتی ہے سعودی ولی عہد

01 اپریل 2018

ریاض (آن لائن+نوائے وقت رپورٹ)سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے خبردار کیا ہے کہ اگر عالمی برادری نے ایران کو محدود کرنے کی کوشش نہیں کی تو خطے میں ایک نئی جنگ چھڑ سکتی ہے۔امریکی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے شہزادہ محمد بن سلمان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ایران پر سیاسی اور اقتصادی دباو¿ ڈالے تاکہ خطے کو عسکری محاذ آرائی سے بچایا جاسکے، ورنہ یہ بعید نہیں کہ آئندہ 10 سے 15 سالوں میں ایران کے ساتھ جنگ چھڑ جائے۔ان کا کہنا تھا کہ ایران خطے کے ممالک میں اثرورسوخ بڑھا کر اپنا بلاک مضبوط کرنا چاہتا ہے جو خطے کو انارکی کی طرف دھکیل دے گا جب کہ شام میں امریکی فوج کی موجودگی اس ایرانی منصوبے کو ناکام بنانے کے لئے ناگزیر ہے۔ان کا خیال ہے کہ شامی صدر اپنے عہدے پر موجود رہیں گے تاہم انہیں چاہئے کہ وہ ایران کے اشاروں میں ناچنے والی ڈمی نہ بنیں اور نہ ہی ایران کو اپنی مرضی چلانے کی آزادی دیں۔حوثی باغیوں پر یمن کو بحران اور جنگ کی جانب دھکیلنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اگر 2015 میں سعودی عرب مداخلت نہ کرتا تو آج یمن حوثی باغیوں اور القاعدہ کے درمیان تقسیم ہوچکا ہوتا۔یاد رہے کہ گزشتہ دنوں امریکی اخبار کو انٹرویو میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے سرد جنگ میں مغرب کی درخواست پر وہابیت پھیلانے کے لیے فنڈز دینے کا اعتراف کیا تھا۔ادھر سعودی عرب افغان امن عمل میں اہم کردار ادا کرنے پر رضا مند ہو گیا۔ امریکی میڈیا کے مطابق افغان امن عمل کوششوں میں سعودی عرب، یو اے ای بھی شامل ہے۔ امریکی نیشنل سکیورٹی کونسل نے 4فریقی کوششیں شروع کر دی۔ امریکہ ، افغانستان پر امید ہیں۔ سعودی عرب طالبان کو امن مذاکرات کیلئے میز پر لا سکتا ہے۔سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ہفتے کی صبح مائیکروسوفٹ کے بانی بل گیٹس سے ملاقات کی۔ کئی مشترکہ پروگرام اور ترقیاتی منصوبے زیر بحث آئے۔ امریکہ میں سعودی عرب کے سفیر شہزادہ خالد بن سلمان اور سعودی ولی عہد کے ہمراہ امریکہ جانے والا سرکاری وفد بھی موجود تھا۔سعودی ولی عہد اپنے امریکہ کے حالیہ دورے کی چوتھی منزل میں اس وقت سیاٹل شہر میں موجود ہیں۔ بن سلمان اس سے قبل واشنگٹن، بوسٹن اور نیویارک جا چکے ہیں۔ سیاٹل شہر کو سیاحت اور ٹیکنالوجی کے علاوہ اقتصادی پہلو سے بڑی اہمیت حاصل ہے۔ یہاں 500 ضخیم کمپنیاں موجود ہیں جن میں بوئنگ، مائیکروسوفٹ، ایمازون اور اسٹار بکس شامل ہیں۔
ملاقات