الوداع ائرچیف مارشل سہیل امان

01 اپریل 2018

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے ۔بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میںدیدہ ور پیدا۔ زمین کا وہ خطہ کس قدر خوش نصیب ہے جہاں اس پائے کا لیڈر نمودار ہوتا ہے۔ اسی نوعیت کے لیڈر ائرچیف مارشل سہیل امان تھے جو19 مارچ2018 کو اپنی کمان کی مدت مکمل ہونے کے بعد عہدے سے سبکدوش ہوئے۔ تین سال کے قلیل عرصے میں انہوں نے بے شمار کارنامے انجام دیئے ۔18 مارچ2015 کو ائر چیف مارشل طاہر رفیق بٹ سے سہیل امان نے پاک فضائیہ کی کمان اس وقت حاصل کی جب پاکستان انتہائی کٹھن دور سے گزر رہا تھا۔ پاک فوج جس نے دہشت گرد حملوں میں شمالی وزیر ستان میں آپریش ضرب عضب کا آغاز کیا تھا کو دشواریوں کا سامنا تھا۔ عمیق غاروں ،گہری کھایوں اور گھنے جنگلوں میں چھپے دشمن نے گوریلا جنگ میں مہارت حاصل کرلی تھی۔گھات لگا کر حملے کرنا پھر اپنی پوشیدہ کمین گاہوں میں چھپ جانا دہشت گردوں کا وطیرہ تھا۔ سہیل امان نے پاک فضائیہ کے سی ون تھرٹیC-130ائر ٹرانسپورٹ طیاروں پر اپنے انجینئر اور ٹیکنیشن کی مدد سے ایسے آلات نصب کرائے جو رات کے اندھیر ے میں بھی دشمن کے ٹھکانوں ،رسدگاہ اور کمین گاہوں کا پتہ چلا لیتے۔ ان آلات کی مدد سے پاک فضائیہ نے دشمن پہ ٹھیک ٹھیک حملے کئے اور پاک فوج کو بھی انکے ٹھکانے اورگھات میں بیٹھے دشمن کا پتہ بتاد یتے۔ پاک فضائیہ کی اس جدت فرازی سے جنگ کا پاسہ پلٹ گیا اور متعدد دہشت گرد ہلاک ہوگئے باقی پسپا ہونے پہ مجبور ہو گئے۔ سہیل امان نےF-16لڑاکا طیاروں سے دشمن پہ حملوں کی خود قیادت کی اور اپنے ماتحتوں کا مورال بلند کیا اور سرخرو ہوئے۔ سہیل امان کی پاک فضائیہ کی کمان سنبھالنے سے قبل دہشت گردی کے خلاف فضائیہ کے استعمال سے متعلق کوئی لائحہ عمل یا منصوبہ بندی نہیں تھی۔ پاک فضائیہ کونئے سر ے سے فوجی دائو پیچ اور پنیترے بدل کروار کرنے کے انداز اختیار کرنے پڑے۔ سہیل امان نے اپنی آپریشنر ٹیم کو یہ کام سونپا کہ تحقیق کرکے اور اب تک آزمائے گئے حملہ کرنے کے طریقوں کا بغور مطالعہ کرکے پاک فضائیہ کو فعال بنایا جائے کہ وہ ملک کو دہشت گردی سے پاک کرسکے۔ کمان سنبھالتے ہی سہیل امان نے ایک نئے ادارے کا سنگ بنیاد رکھا جسکا نام ائر پاور سنیٹر آف ایکسلینس تجویز کیا گیا۔ اس ادارے نے دہشتگردی کیخلاف فضائیہ کے استعمال کے اپنے حربی دائو پیچ وضع کئے۔جس سے پاک فضائیہ نے نہ صرف کامیابی حاصل کر لی بلکہ دنیا بھر میں اسکی دھاک بیٹھ گئی۔ دوسرے ممالک نے پاکستان سے درخواست کی کہ پاک فضائیہ کو اپنے حاصل شدہ تجربے سے انہیں بھی مستفید کرے۔ پاکستان نے متعدد جنگی مشقوں سے انکی درخواست پہ عمل کیا۔
سہیل امان کو احساس تھا کہ فضائی حملوں سے زمین پہ نقصانات بھی ہوتے ہیں گو اس امر کا خاص خیال رکھا گیا کہ معصوم جانیں ضایع نہ ہوں لیکن زمینی تباہ کاریوں کا ازا لہ کرنے کی خاطر سہیل امان نے جنگ سے متاثرہ علاقوں میں نئے گھر ، اسکول ، ہسپتال اور سڑکیں تعمیر کیں۔ گمراہ نوجوانوں کو مثبت اور کارآمد زندگی گزارنے اور دہشت گردی ترک کرنے کی خاطر ایسے ٹیکنیکل ادارے قائم کئے جہاں نوجوانوں کو نئے ہنر سیکھنے کے مواقع فراہم کئے جاتے ہیں۔ دہشت گردوں نے کامرہ پہ حملے کے دوران سی ون تھرٹی طیاروں کو نظر انداز کرکے ہینگر میں بند فضا ئی نگرانی کرنے والے طیاروں کو تباہ کیا۔ یہ دانستہ حملہ دشمن کی ایماء پرتھا۔ ساب SAAB 2000 طیاروں کی مرمت پہ سویڈن کی حکومت جس رقم کا مطالبہ کر رہی تھی اس قیمت میں نئے طیارے آجاتے ، سہیل امان نے اپنے انجینئر اور ٹیکیشن کو آمادہ کیا کہ وہ اس نیک کام کا بیٹرا اٹھائیں الحمد اللہ ایک چوتھائی خرچ پہ دونوں طیارے دربارہ آپریشنل ہوگئے۔ Certification کا معاملہ آیا تو سویڈن نے انکا کردیا۔ پاک فضائیہ نے یہ مہارت بھی خود حاصل کرلی۔
ملک کے دفاعی نظام کو خود کفیل بنانے اور دفاع کے میدان میں اپنے پائوں پہ کھڑے ہونے کی خاطر سہیل امان نے کا مرہ میں ایوی ایشن سٹی کا سنگ بنیاد رکھا جہاں طیارہ ساز فیکٹری اور ائر یونیورسٹی ہم رکاب ہوکر تحقیق کے ذریعہ جدید ہتھیار ،خود تیار کرسکیں گے۔مستقبل کے لڑاکا طیارے کی تعمیر کے کام پر خاصی پیش رفت ہو رہی ہے۔کسی بھی ملک کا مستقبل سنوار نا ہوتو اسکے تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ اس حقیقت کو عملی جامہ پہناتے ہوئے سہیل امان نے جدید سکول اور کالج قائم کئے خاص طورپر پسماندہ علاقوں میں۔ سبیّ ، کوئٹہ ،ڈیرہ غازی میںاسکے علاوہ سہیل امان نے اساتذہ کو بیرون ملک جاکر تعلیم حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا تاکہ وہ واپس آکر نئی نسلوں کو جدید تعلیم کے زیور سے آراستہ کرکے ملک کا مستقبل سنواریں۔پاک فضائیہ کے ادنیٰ کارکن خاص طورپر مسیحی برادری کے افراد کے رہائشی کوارٹر ، انکی عبادت گاہیں اور کھیلوں کے میدان کو ترقی دی گئی۔ مذہبی تہواروں پہ سہیل امان خود شریک ہوتے تاکہ انکے حوصلے بلند ہوں۔امر یکہ نے پاکستان کے وزیراعظم جو اس وقت میاںنوازشریف تھے، سے اجازت طلب کی کہ وہ پاکستان کی بالائی فضا کو اپنے جاسوسی طیاروں کی آمدورفت کیلئے استعمال کرے، نواز شریف نے سہیل امان سے رائے طلب کی تو انہوں نے انکار کردیا۔ نواز شریف نے امر یکی انتظامیہ کو بتادیا کہ مجھے کوئی عذر نہیں لیکن میراائر چیف نہیں مانتا ۔امر یکی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام سہیل امان کے دفتر پہنچ گئے اور جدید ہتھیار اور لڑاکا طیاروں کی پیشکش کی لیکن سہیل امان نے انکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر انکار کردیا۔ انہیں بخوبی یاد تھا جب1960 میں پشاور کے قریب بڈھ بیرسے پرواز کرنیوالے U-2امریکی جاسوس طیارے کو روسی میزائل نے ما رگرایا تھا اور پاکستان کی شامت آگئی تھی۔ سہیل امان کویقین تھاکہ امریکی طیارے چین کی جاسوسی کرنا چاہتے ہیں لہذا وہ اپنے موقف پہ ڈٹے رہے۔
ہمت مرداں مدد خدا۔ پاک فضائیہ کو کرپشن سے پاک کرنے کی کوشش میں سہیل امان نے بہت سے افسروں کو سزادی جس پر انہیں جان کی دھمکی بھی ملی لیکن وہ ڈٹے رہے۔ ہر افسر کو راہ راست پہ رکھنے اور اپنی سمت مقرر کرنے کی خاطر انہوںنے کمپاس Compass مہیا کیا۔ الغرض وہ پاک فضائیہ کی ڈگرایسی سیٹ کرگئے ہیں کہ وہ اگر اس پہ قائم رہی تو انشا ء اللہ دن دوگنی رات چوگنی ترقی کریگی۔انکے جانشین ائر چیف مارشل مجاہد انور ایک قابل افسر ہیں ۔جب وہ کیڈٹ تھے تو مجھے ان کا استاد ہونے کا شرف حاصل ہے۔ رسالپور سے فارغ التحصیل ہوتے وقت انہوں نے اعلیٰ کا کردگی پہ اعزازی شمشیر حاصل کی تھی اور بہترین پائلٹ کی ٹرافی۔ آپ ایک اعلی ہواباز، بہترین ایڈمنسٹر یڑ اور نیک دل انسان ہیں ۔ مجھے امید ہے کہ پاک فضائیہ کومزید کا میابیوں سے ہم کنار کرائیں گے۔