ایگزیکٹو کے کام میں مداخلت کا تصور نہیں رکھتا‘ مجبوراً کرنا پڑتی ہے: چیف جسٹس

01 اپریل 2018

کراچی (آئی این پی+ این این آئی+ آن لائن) چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے مٹھی، تھرپارکر میں 5 بچوں کی ہلاکت سے متعلق معاملے کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے میں مداخلت کا تصور نہیں رکھتا لیکن ہمیں مجبوری میں مداخلت کرنا پڑتی ہے، لاڑکانہ ہسپتال کی ویڈیو دیکھ کرشرم آرہی ہے، ویڈیو دیکھی، بہت دکھ ہوا۔ سوچ رہا ہوں خود لاڑکانہ جائوں۔ ہفتہ کو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس کی سربراہی میں مٹھی، تھرپارکر میں 5 بچوں کی ہلاکت سے متعلق معاملے کی سماعت کےآغاز پر سیکرٹری صحت نے بچوں کی ہلاکت سے متعلق رپورٹ پیش کی اور بتایا کہ کم عمر میں شادی اور زائد بچوں کی پیدائش وجہ اموات ہے جبکہ ڈاکٹرز مٹھی تھرپارکر جیسے اضلاع میں جانے کو تیار نہیں۔ سیکریٹری صحت کی رپورٹ پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے رپورٹ سے لگتا ہے آپ کا قصور ہی کوئی نہیں۔ لکھ کہ جان چھڑا لی کہ کم وزن والے بچے مرجاتے ہیں۔ سندھ میں صحت کے بہت مسائل نظرآرہے ہیں، سیکرٹری صاحب آپ کسی اور محکمے میں خدمت کے لیے کیوں نہیں چلے جاتے عدالت نے رپورٹ مسترد کردی۔ سیکرٹری صحت نے عدالت کو بتایا بچوں کی 50 فیصد اموات نمونیہ اور ڈائریا سے ہوتی ہیں جبکہ اس موقع پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے عدالت کو بتایا مٹھی میں بہترین ہسپتال بنادیا اور تھر میں مفت گندم تقسیم کرتے ہیں۔ جسٹس سجاد علی شاہ نے ریمارکس دیئے سب معلوم ہے کتنی گندم مفت تقسیم ہوئی، سب کرپشن کی نذر ہو گیا۔ عدالت میں سابق چیئرمین سینٹ رضا ربانی بھی موجود تھے۔ چیف جسٹس نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا رضا ربانی بیٹھے ہیں۔ آپ ہماری مدد کریں، آپ خود دیکھ کرآئیں۔ ہسپتال میں کیا ہورہا ہے۔ پھول جیسے بچے والدین کے بعد سرکاری ہسپتالوں کے مرہون منت ہیں۔ بچہ ہسپتال میں داخل ہوتا ہے اور تھوڑی دیر بعد نعش تھما دی جاتی ہے۔ والدین کے پاس رونے کے سوا کچھ نہیں رہ جاتا۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا لاڑکانہ کتنی دور ہے، یہاں سے کتنا فاصلہ ہے۔ ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا بذریعہ جہاز ایک گھنٹے میں لاڑکانہ پہنچ سکتے ہیں۔ اس پر جسٹس ثاقب نثار نے کہا دیکھتے ہیں خود لاڑکانہ جاکر ہسپتال کا جائزہ لوں۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا ادویات فراہم کرنا کس کا کام ہے؟ سندھ کے سرکاری ہسپتالوں میں فضلے کو ختم کرنے والے (انسنریٹر) کس کے حکم پرلگ رہے ہیں۔سیکرٹری صحت نے بتایا کہ یہ کام اور پیشرفت آپ کے حکم پر ہو رہی ہے۔ اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پھر کہتے ہیں کہ ہم بیوقوف ہیں جو ایگزیکٹو کے کام میں مداخلت کرتے ہیں، ہمیں مجبوری میں مداخلت کرنا پڑتی ہے۔سماعت کے موقع پر ڈاکٹرز کی بڑی تعداد عدالت میں موجود تھی جنہوں نے کہا کہ محکمہ صحت میں بڑی کرپشن ہے۔ آپ محکمہ صحت پر کرپشن کی جانچ کے لیے جے آئی ٹی بنائیں۔ چیف جسٹس نے ڈاکٹروں کی درخواست پر کہاکہ یہ اہم معاملہ ہے۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے انسانی اعضاکی غیر قانونی پیوندکاری سے متعلق کیس کی سماعت میں کہا کہ میری بیٹی فاطمہ نے بھی اعضا عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ایس آئی یو ٹی کے بانی اور معروف ڈاکٹرادیب رضوی کی کمیٹی کی جانب سے منیر اے ملک عدالت میں پیش ہوئے۔ منیر اے ملک نے بتایا کہ انسانی اعضا کی سمگلنگ کے حوالے سے ابھی سفارشات مرتب نہیں ہو سکیں، انسانی اعضا کی غیر قانونی روک تھام اور قوانین کے لیے کانفرنس کی جا رہی ہے۔ کانفرنس کے بعد سفارشات مرتب کرکے عدالت میں پیش کی جائیں گی۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا مرحوم اقبال حیدر نے اعضا عطیہ کرنے کا اعلان کیا تو کافی شور ہوا، میرے اعلان پرکوئی شور نہیں ہوا اس کا مطلب شعور بیدار ہوچکا ہے۔ سپریم کورٹ نے سندھ بینک اور سمٹ بینک کا انضمام روکتے ہوئے گورنر سٹیٹ بینک کو نوٹس جاری کر دیئے۔ سپریم کورٹ رجسٹری میں، سندھ بینک اور سمٹ بینک کے انضمام کیس کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کی اجازت کے بغیر دونوں کا بینکوں کا انضمام نہیں ہوسکتا ۔عدالت نے سندھ بینک اور سمٹ بینک بیلنس شیٹ بھی طلب کر لی۔ کلفٹن میں قائم فٹ پاتھ سکول کے معاملے کی بھی سماعت ہوئی۔درخواست گذار سید ہ انفاس شاہ زیدی نے موقف اختیار کیا ہم حکومت سے اچھا کام کر رہے ہیں۔ مجھے کسی کی بھی سپورٹ نہیں ہے۔ میں غریب بچوں کو فری میں تعلیم دیتی ہوں۔چیف جسٹس نے کہا کہ بچوں کو فٹ پاتھ پر پڑھنے نہیں دیں گے۔بچوں کا مستقبل ہمارے لیے بہت اہم ہے ۔ میں یہ چاہتا ہوں کہ بچوں کے لیے جلد عمارت بنائی جائے۔ بچوں کو تعلیم کے لئے مناسب سہولت فراہم کی جائیں۔عدالت نے محکمہ تعلیم اور سندھ حکومت کو این جی او کی خاتون کے ساتھ ایک ہفتے میں میٹنگ کر کے معاملہ حل کرنے کا حکم دے دیا۔میٹنگ کے لئے بیرسٹر صلاح الدین کی سربراہی میں عدالت نے کمیشن تشکیل دینے کا حکم دے دیا۔صاف پانی کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے صحافی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا آپ لوگ سمجھتے ہیں میں ٹیک اوور کرنے کے چکر میں ہوں جو کچھ کررہا ہوں شہریوں کو سہولت فراہم کرنے کیلئے کررہا ہوں۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا میں نے کراچی کو تبدیل دیکھا ہے۔ ساحل سمندر بھی صاف ہوگیا‘ کچرا بھی اٹھ رہا ہے۔ دریں اثناء سپریم کورٹ میں پی آئی اے میں مسافروں کا سامان غائب ہونے سے متعلق سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ مسافروں کو سہولتیں دینا ہمارا مقصد ہونا چاہیے۔ سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران سول ایوی ایشن، کسٹم اور اے این ایف حکام نے رپورٹ پیش کی جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ادارے الگ الگ رپورٹ نہ دیں، ایک رپورٹ دی جائے کہ آسانی کے لیے کیا اقدامات اٹھائے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ بعض تجاویز پراے ایس ایف کا اعتراض سامنے آیا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ انا کا معاملہ ہے۔ ادارے اپنا اپنا کنٹرول چاہتے ہیں، اس طرح توادارے اپنی اپنی چلائیں گے، مسافروں کا کیا ہوگا؟ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اداروں کی انا میں مسافر کہاں جائیں؟ سول ایوی ایشن کیوں مرکزی کردارادا کرتی ہے؟ چیف جسٹس نے کہا ایوی ایشن بورڈ کیوں نہیں بناتی جو سارے معاملات حل کرے۔ مسافروں کو سہولتیں دینا ہمارا مقصد ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ڈی جی سول ایوی ایشن اجلاس کریں اورفیصلوں سے آگاہ کیا جائے۔ سیکرٹری قانون نے کہا کہ 18 گھنٹے میں ایک مرتبہ کھانا دیا جاتا ہے۔ قانون ہے ہر3 گھنٹے بعد کھانا دیا جاتا ہے۔چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سول ایوی ایشن نے کیا ایکشن لیا، مسافروں کی تکالیف برداشت نہیں کریں گے۔ سپریم کورٹ نے سیکر ٹری صحت کو ایک ماہ میں سندھ کے ڈاکٹرز کیلئے سروس سٹرکچر ترتیب دینے کا حکم دے دیا۔سندھ کے سر کاری ڈاکٹرزکی ترقیوں سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔سیکرٹری صحت فضل اللہ پیچوہو، ایڈوکیٹ جنرل سندھ ضمیر گھمرو اور متعلقہ حکام عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔دوران سماعت متاثرہ ڈاکٹرز نے عدالت میں مؤقف اپنایا کہ ڈاکٹرزریٹائرڈہوچکے،کچھ کا انتقال ہوگیا مگرسندھ حکومت نے پروموشن کا فیصلہ نہیں کیا۔سندھ حکومت جانبدارانہ ترقیاں کر رہی ہے۔اس موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ڈاکٹرز کے جوجائز مطالبات ہیں وہ ان کو دلوانے کی کوشش کررہے ہیں۔آپ لوگ غیر متعلقہ مطالبات مت کریں ورنہ کیس واپس کر دیں گے۔سماعت کے دوران ایڈوکیٹ جنرل سندھ ضمیر گھمرو نے عدالت کو بتایاسندھ کے ڈاکٹرز کے مسائل حل کیے جا رہے ہیں۔ 300 ڈاکٹرز کی مستقلی پر کام جاری ہے جبکہ ڈاکٹرز کو الاؤنسز دینے کیلئے بھی کمیٹی بنائی جارہی ہے۔انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ڈاکٹرز کو ان کی ملازمت کی مدت کے لحاظ سے ترقیاں دی گئی ہیں۔ اس موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ عدالتی فیصلے پر عملدرآمد یقینی بنائیں۔ ایک ماہ میں سلیکشن کمیٹی تمام متاثرہ ڈاکٹرزکے مسائل حل کرے۔چیف جسٹس نے سیکرٹری صحت کو ایک ماہ میں سروس سٹرکچر ترتیب دینے کا حکم دے دیا۔