بھارتی وزیر گڈکری کی پاکستان مخالف ڈگڈگی!

01 اپریل 2018

کیکر پر گُلاب اُگائے جاسکتے ہیں نہ نیم کے درخت پر شیریںپھل لگ سکتے ہیں بعینہ جو ہندو محض دلت ہونے کی بنا پر ہندو کو عزت کی نگاہ سے دیکھنے کا روادار نہ ہو وہ بالکل مختلف عقیدہ رکھنے والے مسلمان کو کیسے گوارا کرسکتا ہے اسی ہندو تعصب اور تنگ نظری نے برصغیر میں دو قومی نظریہ کے پھلنے پھولنے کی راہ ہموار کی ‘ پاکستان کا قیام جس کا منطقی نتیجہ ہے اس لئے اگر بھارتی ہندوئوں نے اول روز سے پاکستان کے خلاف سازشوں کا سلسلہ شروع کررکھا ہے تو یہ عین فطری ہے بھارت میں حکمران کوئی بھی رہے ہوں یا ہوں پاکستان کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ پاکستان کے دریائوں کا پانی روک کر اسے بنجر بنانے کے قلیل المدت اور طویل المدت منصوبے ان ہی سازشوں کے سلسلے کی کڑی ہے پہلے عیاری اور مکاری کو بروئے کار لاکر خاموشی سے سازشوں کو پروان چڑھایا جاتا تھا نریندر مودی کے آنے سے بھارت میں ہندو انتہا پسندی کی جو آگ پھیلی ہے اس کے نتیجے میں اب کھلی جارحیت کے ارادوں کا برملا اظہار کیا جارہا ہے۔بھارت کے وزیر مملکت برائے پانی نیتن گڈکری نے پوری ڈھٹائی سے بڑماری ہے اتر کھنڈ سے گزرنے والے تین دریائوں پر ڈیمز بنا کر پاکستان میں پانی نہیں جانے دیں گے ان تین دریائوں پر تین ڈیموں کا پانی خشک سالی کے زمانے میں پانی کے بحران کے وقت استعمال کیا جائے گا یعنی پنجاب، ہریانہ اور راجستھان میں پانی کی کمی پوری کی جائے گی۔یاد رہے اتر کھنڈ سے گزرنے والے ان دریائوں میں مغربی ہمالہ کے گلیشئر کا پانی آتا ہے جس پر پاکستان کا حق زیادہ ہے یہ ماضی کا طویل وطیرہ ہے بھارت کی پاکستان دشمن حکومتیں خشک سالی کے موسم میں پانی روک کر پاکستان میں قحط کی صورتحال پیدا کرنے اور بارشوں کے موسم میں فالتو پانی چھوڑ کر سیلاب لانے کی کوششیں کرتی آرہی ہیں اب اتر کھنڈ سے گزرنے والے تین دریائوں پر ڈیموں کا جو منصوبہ بنایا گیا ہے یہ نہ صرف غیر قانونی بلکہ پاکستان دشمنی کا مظہر ہے 1960 ء میں سندھ طاس معاہدہ کے تحت ستلج، بیاس اور راوی سے بھارت کو زیادہ حصہ ملنا طے پایا تھا جبکہ جموں وکشمیر سے نکلنے والے سندھ، چناب اور جہلم کے زیادہ پانی پر پاکستان کا حق تسلیم کیا گیا عالمی بنک اس معاہدہ کا ضامن بنا تھا لیکن بھارت اسی معاہدہ کی مسلسل خلاف ورزیاں کررہا ہے اور ان پاکستانی دریائوں پر ڈیم بنا کر اور پانی کا رُخ موڑ کر پاکستان کو اس کے پانی سے محروم کرتا چلا آرہا ہے اس سلسلے میں پاکستان انڈس واٹر کمیشن کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی ہے اس کے سابق چیئرمین سید جماعت علی شاہ کے دور میں ہونے والے مذاکرات میں پاکستان کے مفاد میں ایک انچ پیش رفت نہیں ہوئی مختلف حربے اختیار کرکے ان مذاکرات کے تمام فائدے بھارت ہی سمیٹتا رہا ہے جب یہ سطور شائع ہوں گی پاکستان اور بھارت کے مابین ان دریائوں کے حوالے سے ہونے والے مذاکرات مکمل ہوچکے ہوں گے پاکستانی وفد کی قیادت نئے چیئرمین سید محمود مہر علی شاہ کررہے ہیں ایک ’’شاہ‘‘ تو مذاکرات کرتے رہ گئے اور بھارت نے کشن گنگا اور بگلیہار ڈیم کی راہ ہموار کرلی اب دیکھتے ہیں یہ دوسرے ’’شاہ‘‘ کس کارکردگی کے گُل کھلاتے ہیں۔ تاہم اب اگر اتر کھنڈ کے دریائوں پر ڈیمز بنانے کے بھارتی منصوبے کو نظر انداز یا برداشت کرلیا گیا تو آئندہ برسوں میں بھارت پاکستان کو بے آب و گیاہ بنانے میں خدا نہ کرے کامیاب ہوسکتا ہے لہٰذا اس بھارتی آبی جارحیت کے خلاف عالمی بنک سمیت ہر فورم پر پوری قوت سے آواز اٹھائی جائے اس سلسلے میں سرکاری ملازموں پر انحصار کرنے کی بجائے محب ِ وطن آبی ماہرین پر مشتمل خصوصی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں جو اسی حوالے سے عالمی رائے عامہ بیدار کرنے میں ضرور کامیاب ہوں گی اور اس طرح بھارت کو آبی جارحیت سے باز رکھا جاسکتا ہے۔ ادھر بھارت نے دریائے چناب کا 65 ہزار کیوسک پانی روک کر پاکستان کو صحرا میں تبدیل کرنے کی سازش کا آغاز کردیا ہے اس مقصد کے لئے بگلیہار ڈیم اور سلاسل ڈیم میں 57 ہزار 600 کیوسک پانی ذخیرہ کرنا شروع کردیا ہے مگر یہ کوئی پہلی بار نہیں ہے بلکہ پاکستانی دریائوں پر ڈیم تعمیر کرنے کا سلسلہ تو برسوں سے جاری ہے بلاشبہ بھارت کی نیت ٹھیک نہیں ہے اور پاکستان کو پانی کی قلت کا شکار کرنے کے منصوبوں پر عمل پیرا ہے اس حوالے سے مذاکرات کو ہر صورت نتیجہ خیز بنانا ضروری ہے بصورت دیگر بھارت پاکستان کے خلاف آبی جارحیت میں اضافہ کردے گا جو پاکستان کی زرعی معیشت کے لئے تباہ کن ہوگا جو بعض اندرونی صورتحال کے باعث پہلے ہی دبائو میں ہے۔بھارت میں مودی کے وزیراعظم بننے کے بعد ہندو مذہبی انتہاپسندی کا گراف مسلسل بڑھ رہا ہے جس نے اقلیتوں کو عدم تحفظ کا شکار کردیا ہے اور ان کا ہر لمحہ خوف و ہراس کے عالم میں گزر رہا ہے۔ بھارت میں آج نام نہاد لبرل ازم کا دامن چاک ہوچکا ہے اور ہندو ازم کے پھیلائو کے اقدامات تیز کئے جارہے ہیں۔ حتیٰ کہ فیڈریشن آف ویسٹرن انڈیا سائن ایمپلائز نے پاکستانی اداکاروں اور ٹیکنیشنز کے بھارتی فلموں میں کام کرنے پر پابندی عائد کردی انتہا پسند ہندو جماعت ایم این ایس (مہاراشٹر نونرمان سینا) کے جنرل سیکرٹری شامئی ٹھاکرے نے پاکستانی اداکاروں اور فنکاروں کو اڑتالیس گھنٹے میں بھارت چھوڑنے کی دھمکی دی دوسری انتہا پسند جماعت شیو سینا کاکہنا ہے وہ ایسے میں جب ہمارے فوجی مرررہے ہوں ہم پاکستان سے ثقافتی تعلقات نہیں رکھ سکتے اس کے برعکس وہ پاکستانی کتنے بے حمیت ہوچکے ہیں جو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ظلم و تشدد کے خلاف احتجاج میں بھارتی فلموں کا بائیکاٹ تک نہیں کرسکتے جبکہ پاکستان میں لگنے والی بھارتی فلموں کی آمدنی کا آٹھ فیصد مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کو بطور عطیہ دیا جارہا ہے گویا یہ فلمیں دیکھ کر پاکستانی کشمیریوں پر مظالم کے پہاڑ توڑنے والی بھارتی فوج کو مالی امداد بہم پہنچا رہے ہیں۔ بھارت کے پہلے وزیراعظم جواہر لعل نہرو نے اپنی پاکستان دشمن ذہنیت کا اظہار ان الفاظ میں کیا’’پاکستان چھ ماہ سے زیادہ باقی نہیں رہے گا‘‘ یہ دراصل پاکستان کو ختم کرنے کی شعوری و لاشعوری خواہش کا اظہار تھا یہی خواہش بھارت کے ہر حکمران کو بے کل کئے ہوئے ہے اور ان کے پاکستان مخالف اقدامات کا پس منظر یہی ہے ان کی تمام تر جنگی تیاریوں کے پس پشت بھی یہی خبث کار فرما ہے تاہم پاکستان کے دفاعی ادارے اس سے غافل نہیں ، دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر فیصل نے بھارت پر واضح کیا ہے کہ وہ ’’ہماری طاقت کا غلط اندازہ نہ لگائے ہم طے شدہ وقت اور مقام پر اسے سبق سکھانے کی پوری اہلیت رکھتے ہیں‘‘ ادھر امریکہ پاکستان کو دبائو میں لانے کے لئے افغانستان میں بھارت کے کردار کو بڑھانے کی جس غلط حکمت عملی پر عمل پیرا ہے اس سے امریکہ کو کوئی فائدہ ہوا نہ ہوگا امریکہ کے سوچنے سمجھنے کی اہلیت رکھنے والے حلقوں نے اس حقیقت کو سمجھنا شر وع کردیا ہے۔