سید علی گیلانی کو 8 برس بعد نماز جمعہ پڑھنے کی اجازت دیدی گئی

01 اپریل 2018

سرینگر (این این آئی) مقبوضہ کشمیر میں کٹھ پتلی انتظامیہ نے کل جماعتی حریتکانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی کو تقریباً آٹھ برس کے بعد نماز جمعہ کی ادائیگی کیلئے سرینگر میں اپنے گھر سے باہر آنے کی اجازت دی۔ کٹھ پتلی انتظامیہ نے سید علی گیلانی کو گزشتہ آٹھ برس سے گھر میں نظر بند کر رکھا ہے ۔کشمیر میڈیاسروس کے مطابق سید علی گیلانی تحریک حریت جموں وکشمیر کے نو منتخب صدر محمد اشرف صحرائی اور دیگر حریت رہنمائوں اور کارکنوں کے ہمراہ جلوس کی صورت میں حیدرپورہ سرینگر میں واقع اپنے گھر سے جامع مسجد حیدر پورہ پہنچے جہاں انہوںنے نماز جمعہ ادا کی۔ حریت چیئرمین کی حیدرپورہ جامع مسجد میں نماز جمعہ ادا کرنے کی اطلاع آناً فاناً حیدرپورہ کے اطراف واکناف میں پھیل گئی اور لوگوں بالخصوص نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد جامع مسجد پہنچی اور انکا والہانہ استقبال کیا۔ نمازجمعہ کی ادائیگی کے بعد نوجوانوں نے سید علی گیلانی کو اسلام اور آزادی کے حق میں فلک شگاف نعروں کی گونج میں اپنی رہائش گاہ تک واپس پہنچا دیا۔سید علی گیلانی نے جامع مسجد حیدر پورہ میں ہزاروں لوگوں پر مشتمل اجتماع سے اپنے مختصر خطاب میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہیں 8سال کی نظربندی کے بعد نماز جمعہ ادا کرنے کی سعادت حاصل ہورہی ہے۔انہوںنے کہا کہ کشمیریوں کو اپنی مبنی برحق جدوجہد کو اسکے منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے ثابت قدمی اور صبر و استقلال کا مظاہرہ کرنا ہوگااور اپنی صفوں کے اندر مضبوط اتحاد پیدا کر کے انتشار سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔ سید علی گیلانی نے کہا کہ بھارت تنازعہ کشمیر کے حوالے سے مسلمہ بین الاقوامی ضابطوں، عالمی برادری کے سامنے کئے گئے معاہدوں اور کشمیری عوام کے ساتھ کئے گئے وعدوں کا مذاق اڑاتے ہوئے جموں کشمیر کی متنازعہ ریاست پر فوجی طاقت کے بل پر غیر قانونی طور پر قابض ہے۔

نفس کا امتحان

جنسی طور پر ہراساں کرنے کے خلاف خواتین کی مہم ’می ٹو‘ کا آغاز اکتوبر دو ...