غزہ: شہدا 20 ہو گئے‘ سلامتی کونسل کا اجلاس بے نتیجہ‘ آزادانہ تحقیقات کرائی جائے: انتونیو گوئٹرس

01 اپریل 2018

غزہ (اے این این +آن لائن +نیٹ نیوز ) غزہ کی پٹی میں احتجاجی کیمپ پر اسرائیلی گولہ باری سے شہید فلسطینیوں کی تعداد 20 ہوگئی ہے فلسطینیوںنے عظیم واپسی کے نام سے چھ روز احتجاجی کیمپ لگا دیا ہے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کیمطابق چھ مقامات پر فلسطینی مظاہرین نے سرحد کی طرف مارچ کیا۔ قابض فوج نے نہتے فلسطینی مظاہرین پر براہ راست فائرنگ شروع کی جس کے نتیجے میں 20 فلسطینی شہید ہوگئے ۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوئتریس نے اسرائیلی سرحد کے قریب شیلنگ سے 20 فلسطینیوں کی شہادت کے واقعے کی آزاد انہ تحقیقات کرانے کا کہا ہے ۔اسرائیلی فوج نے مظاہرین پر پتھرائو کرنے اور بم پھینکنے کا الزام لگایا ہے جبکہ اسرائیلی ڈیفنس فورسز کا کہنا ہے کہ سرحدی باڑ کے ساتھ پانچ مقامات پر 17 ہزار فلسطینی جمع ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا ریلوے کو روکنے کے لئے جس میں ٹائروں کو آگ لگائی جارہی ہے فوجی صرف ان پرفائر کر رہے ہیں جو دوسروں کو ترغیب دے رہے ہیں۔فلسطینیوں نے سرحد کے قریب پانچ مقامات پر احتجاجی کیمپ قائم کیا ہے۔ انہوں نے اس مارچ کو واپسی کیلئے عظیم مارچ کا نام دیا ہے ۔فلسطینی میڈیا نے کہا کہ سرحد پر سات ہزار لوگ احتجاج کر رہے ہیں۔ بعدازاں اسرائیلی حکام نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے انتہا پسند گروہ حماس کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔1500 سے زائد فلسطینی زیر علاج ہیں اور ہسپتال زخمیوں سے بھر گئے ہیں۔یوم الارض کے موقع پر غزہ اور اسرائیل کی سرحد پر شروع ہونے والے یہ مظاہرے شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں ۔جامعہ الازھر کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا بیالیسویں یوم الارض پر اسرائیلی فوج کا فلسطینیوں کی پرامن ریلیوں کے خلاف طاقت کا اندھا دھند استعمال نا قابل قبول ہے۔ جامعہ الازھر نے اپنے بیان میں فلسطینی قوم کے دیرینہ مطالبات اور آئینی حقوق کی پر زور حمایت کا اعادہ کیا ہے اور کہا ہے کہ فلسطینیوں کو اپنی سرزمین میں واپس جانے ، اس میں آباد ہونے اور اپنے حق خودار ایت کے حصول کا حق حاصل ہے۔ سلامتی کونسل نے غزہ پٹی اور اسرائیل کے درمیان سرحد پر کشیدہ صورت حال پر بحث کیلئے ایک بند کمرے کا ہنگامی اجلاس منعقد کیا تاہم یہ اجلاس ارکان کے مشترکہ بیان پر عدم اتفاق کے ساتھ اختتام پذیر ہو گیا۔اجلاس میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے معاون برائے سیاسی امور تائیبروک زیریہون نے کہا کہ آئندہ دنوں میں صورت حال مزید بگڑ جانے کا اندیشہ ہے۔سلامتی کونسل نے کویت کی درخواست پر غزہ پٹی کی حالیہ صورت حال پر بحث کے لیے اجلاس بلایا۔ اقوام متحدہ میں فرانسیسی مندوب کا کہنا تھا "یقینا اس وقت حقیقی جارحیت (کشیدگی) کا سامنا ہے۔ غزہ پٹی میں ایک نیا تنازع جنم لینے کا امکان ہے۔امریکا اور برطانیہ نے اجلاس کے انعقاد کے وقت کے حوالے سے افسوس کا اظہار کیا کیوں کہ جمعے کی شام سے یہودیوں کے تہوار کی تقریبات کا آغاز ہو گیا ہے اور اس کے سبب ہنگامی اجلاس میں کوئی بھی اسرائیلی سفارت کار یا نمائندہ موجود نہیں تھا۔امریکی نمائندے نے کہا کہ جانی نقصان پر گہرا رنج محسوس کر رہے ہیں۔ادھر اقوام متحدہ میں اسرائیلی سفیر نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے قبل ایک بیان میں حماس تنظیم پر الزام عائد کیا کہ پرتشدد کارروائیوں کے پیچھے اس کا ہاتھ ہے۔فلسطینی صدر محمود عباس نے فلسطینی مظاہرین کی ہلاکتوں کی "تمام تر ذمے داری" اسرائیلی حکومت پر عائد کی ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا نہتے فلسطینی عوام کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ترک صدر رجب طیب اردگان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے جس میں دونوں سربراہان نے دو طرفہ اور علاقائی معاملات پر تبادلہ خیال کیا۔غیرملکی میڈیا کے مطابق انسداد دہشت گردی کے معاملے پر غور کرنے والے دونوں سربراہان نے اتحادی شان کے مطابق باہمی تعاون کو فروغ د ینے پر اپنے اپنے عزم کا اظہار کیا ہے۔اس بات چیت میں غزہ میں شہید کیے جانے والے فلسطینیوں کے واقع پر بھی غور کیا گیا۔اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاو نے یوم الارض کے موقع پر ہونے والے فلسطینی مظاہروں کی روک تھام کے لیے فوج اور خفیہ اداروں سے خصوصی مشاورت کی۔ فلسطینی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کو فلسطینی مظاہروں کے حوالے سے خصوصی بریفنگ بھی دی گئی۔قابض صہیونی فوج نے فلسطین کے مقبوضہ بیت المقدس شہر سے دو کم عمر فلسطینی بچوں کو حراست میں لیا ہے۔ ان پر شمالی بیت المقدس میں بیت حنینا میں یہودی آبادکاروں کی ایک بس پر سنگ باری کا الزام عائد کیا گیا ہے۔غزہ میں ان کے آبائی علاقوں میں سپردخاک کر دیا گیا ۔ فلسطینی میڈیا کے مطابق شہید ہونے والے فلسطینیوں کے جنازوں میں ہزاروں فلسطینیوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر انتہائی رقت آمیز مناظر دیکھنے کو ملے اور شہری سخت مشتعل دکھائی دے رہے تھے ۔ ملک بھر میں سوگ منایا گیا ملک بھر میں کاروباری اور تعلیمی سرگرمیاں معطل رہیں۔