پنجاب کا آدھا بجٹ لاہور پر لگانے والے اچھا اسپتال نہ بنا سکے، شریفوں کے جیل جانے کا وقت آگیا: عمران

01 اپریل 2018

لاہور (خصوصی نامہ نگار+ نوائے وقت رپورٹ) عمران خان نے29اپر یل کو مینار پاکستان پر مسلم لیگ (ن) کو ‘‘مجھے کیوں نکالا ‘‘کا جواب اور انتخابی منشور کیلئے جلسہ کر نے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ شہبا زشر یف کے 2بیٹے پاکستان میں اور نوازشر یف کے بچے لندن میں اربوں کے مالک بن چکے ہیں ‘شر یف خاندان ایک مافیا ہے اور احد چیمہ جیسے لوگ مسلم لیگ (ن) کے بیوروکریسی میں فرنٹ مین ہوتے ہیں‘ فیصل سبحان آج تک بازیاب نہیں ہوسکا۔ شہبازشریف پنجاب میں ون مین شو ہے جو تمام فیصلے میرٹ کی بجائے اپنی مرضی سے کرتا ہے ‘لاہور سمیت پنجاب کے دیگر شہروں میں شہبازشریف حکومت صرف حبیب کنٹر کیشن کمپنی کو زیادہ ٹھیکے دیتے ہیں اور لاگت میں اضافے کے ذریعے مال بنایا جاتا ہے اور ہم اس حوالے سے نیب کو ثبوت دے رہے ہیں وہ پتہ کر یں کہ حبیب کنٹر کیشن کمپنی کے پیچھے شریف خاندان ہی ہوگا ہم میٹرو ملتان کی کرپشن کا معاملہ نیب کے پاس لیکر جائیں گے ‘ نوازشریف یا آصف زرداری جیسے کرپٹ لیڈروں سے اتحاد نہیں ہو سکتا‘پہلے سے کہہ رہا ہوں کہ سینٹ کے الیکشن میں پیسہ چلتا ہے، اب یہ ہار گئے ہیں تو کہتے ہیں کہ سینٹ الیکشن میں پیسہ چلتا ہے‘ لاہور آنے کا اصل مقصد ممبر سازی کے لیے مختلف علاقوں کا دورہ کرنا ہے ،پنجاب کے بجٹ کا 55فیصد لاہور پر خرچ کیا گیا ،لاہور پر خرچ کی جانے والی رقم کے پی کے پر خرچ رقم سے 3گناہ زیاد ہ ہے ‘ لاہور اور پنجاب کے لوگوں کا آدھا بجٹ سڑکوں پر خرچ ہو جاتا ہے ۔پریس کانفر نس سے خطاب میں عمران خان نے کہا کہ کلثوم نواز عرصے سے لندن میں علاج کرا رہی ہیں ،اسحاق ڈار بھی علاج کرانے باہر چلے گئے ، مسلم لیگ ن نے پاکستان میں ایسا کوئی ہسپتال نہیں بنایا جہاں ان کا علاج ہو سکے پشاور میں 4ارب روپے سے کینسر کا جدید ترین ہسپتال بنا یا گیا ،شریف خاندان نے ایک بھی ہسپتال نہیں بنایا ۔ شہباز شریف نے 635ارب روپے ایک سال میں خرچ کیے ،ملتان کے لوگوں کو میٹرو کی ضرورت ہی نہیں تھی لیکن وہاں زبردستی میٹرو بنا دی۔ شہباز شریف نے 3,4بڑے کنٹریکٹرز لے رکھے ہیں جو نیلامی کے وقت کم پیسوں میں پراجیکٹس کے کنٹریکٹ حاصل کرلیتے ہیں لیکن پھر بعد میں ان پراجیکٹس پر اضافی اخراجات ہوتے ہیں اور پیسے بنائے جاتے ہیں۔ شہبازشریف نے سارے پیسے اپنی تشہیر پر لگا دیئے لیکن 4 ارب روپے کا ایک ہسپتال نہ بنا سکے۔ حکمران ہسپتالوں‘ تعلیم او رصاف پانی کے منصوبے نہیں لگاتے کیونکہ ان میں پیسہ نہیں بنتا۔ وزیراعظم کا ون پوائنٹ ایجنڈا ہے کہ کسی نہ کسی طرح نوازشریف کو کرپشن سے این آر او مل جائے‘ اب بھی وہی کوشش ہو رہی ہے۔ 2018ء نئے پاکستان کا سال ہے۔ شریف خاندان 30سال سے لاہور پر حکومت کر رہا ہے‘ آج ہر پاکستانی ایک لاکھ 30ہزار روپے کا مقروض ہے۔ شہبازشریف نے پولیس میں اصلاحات کی بجائے وردیاں بدل دیں‘ پاکستان کے ادارے ٹھیک کرکے دکھائیں گے‘ ادارے ٹھیک ہونے سے بیرون ملک پاکستانی اپنا پیسہ لیکر آئیں گے ‘ اورنج لائن ٹرین عوام کی ‘ شہبازشریف خادان کی ضرورت ہے اورنج ٹرین کا مقصد کرپشن کرکے اربوں روپے باہر لے جانا ہے۔ شہبازشریف لندن سے جلدی واپس آئیں کیونکہ حساب لینا ہے۔ شریف برادران اور آصف زرداری کا پیسہ واپس لائیں گے‘ چوری کا پیسہ واپس لاکر ملک کو ٹھیک کریں گے۔ برادران کے اڈیالہ جیل جانے کا وقت آ گیا ہے۔ عمران خان اعجاز احمد چودھری کی رہائش گاہ فیصل ٹائون گئے اور ان کو بیٹے کی شادی پر مبارکباد دی۔ دوپہر کا کھانا ان کے ساتھ کھایا اور ان کے والد کی عیادت بھی کی۔
عمران