پاکستان چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے پالیسی بنائے‘ صدر آزاد کشمیر

01 اپریل 2018

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سینٹر فار پیس‘ سییورٹی اینڈ ڈویلپمنٹ مینٹل اسٹڈیز کی جانب سے کراچی میں سیمینار کا انعقاد کیا گیا سیمینار میں دو سیشنز رکھے گئے جن کی صدارت صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان اور لیفٹیننت جنرل (ر) آغا محمد عمر فاروق نے کی۔ سیمینار میں شرکت کرنے والوں میں کاروباری حضرات‘ اکیڈیمیا‘ پالیسی پریکٹیشنرز‘ میڈیا اور سول سوسائٹی کے افراد شامل تھے۔ سینٹر فار پیس‘ سیکورٹی اینڈ ڈویلپمنٹ مینٹل اسٹڈیز (سی پی ایس ڈی) کے چیئرمین عبداللہ دادابوئے نے شرکاء کو خوش آمدید کہا اور سیمینار کے مقصد اور اس سی پی ایس ڈی کی کاوش کے بارے شریک افراد کو آگاہ کیا۔ سردار مسعود خان نے ورلڈ آرڈر کہاکہ پاکستان کو ایسی حکمت عملی اپنانا ہو گی کہ سیاسی اور معاشی طور پر چیلنجز سے نمٹتے ہوئے بہتری کے مواقعوں سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہاکہ اکیسویں صدی ایشین صدی ہے جو کہ پاکستان بنانے والوں کی خواہش تھی۔ مشاہد حسین کا کہنا تھا کہ پاکستان سی پیک سے بھرپور فائدہ اٹھائے گا جس میں ترقی کے بے شمار مواقع موجود ہیں۔ سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر سلمان شاہ نے کہاکہ پاکستان جغرافائی لحاظ سے اہم ملک ہے اور اب وقت آ چکا ہے کہ پاکستان اپنی پوزیشن سے فائدہ اٹھاتے ہوئے معاشی اور معاشرتی ترقی تیزی سے حاصل کرے۔ مشہور اسکالر ڈاکٹر اشفاق حسن خان نے کہاکہ اکنامک ریفارمز کے بغیر معاشی ترقی ممکن نہیں ہے انہوں نے کہاکہ آئی ایم ایف سے قرضوں کے باعث مالیاتی معاملات میں ملک پیچھے جا رہا ہے۔ سیمینار کے دوسرے سیشن کا آغاز سابق وفاقی وزیر جاوید جبار نے کیا انہوں نے کہاکہ ہمیں ایسا تعلیمی نظام وضع کرنا ہے جس میں ایک قوم پیدا کی جا سکے۔ سیشن سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے رہنمائ‘ اسد عمر کا کہنا تھا کہ ایڈمنسٹریٹو اور گورننس سٹرکچر میں بڑی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ مسائل کے حل کیلئے ہمیں پبلک پالیسی میں تبدیلیاں لانا ہوں گی۔ ایف ڈبلیو او کے کمانڈنٹ لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل کی جانب سے انفرسٹرکچر میں بہتری کے باعث سوشو اکنامک ڈیولپمنٹ کے حوالے سے بات کی گئی جب کہ ڈی جی این ایل سی‘ میجر جنرل مشتاق فیصل نے سی پیک کے گوادر پر مثبت اثرات کے حوالے سے بات کی۔ سیمینار کے اختتام پر سینٹر فار پیس‘ سیکورٹی اینڈ ڈویلپمنٹ مینٹل اسٹڈیز کے صدر لیفٹیننٹ جنرل (ر) آغا محمد عمر فاروق نے تمام شریک افراد کا شکریہ ادا کیا اور کہاکہ سیمینار میں زیر بحث اانے والی باتیں عملی طور پر سامنے لانے سے کامیابی حاصل ہو سکے گی۔