ویٹو پاور پانے کی جنگ

01 اپریل 2018

اقوام متحدہ کے ادارے سیکورٹی کونسل میں اصلاحات پر گفت و شنید اور اجلاس پچھلے 25 برس سے ہورہے ہیں۔ سیکورٹی کونسل کے طریقہ کار میں تبدیلی پر بات ہوتی ہے، سیکورٹی کونسل اور جنرل اسمبلی کے تعلقات کے بارے میں بات ہوتی ہے لیکن سب سے زیادہ اہمیت سیکورٹی کونسل کے ارکان کی تعداد، مستقل ارکان کی تعداد اور ویٹو والے ارکان کی تعداد کو حاصل ہے۔ سیکورٹی کونسل میں اس وقت ارکان کی کل تعدا د 15 ہے۔ اس میں 5 مستقل ارکان ہیںامریکہ، برطانیہ،فرانس ،روس اور چین ۔10 ارکان 2 سال کیلئے دنیا کے مختلف حصوں کی نمائندگی کی بنیاد پرمنتخب ہوتے ہیں۔ کسی بھی قراردادکو پاس کرنے کیلئے کم از کم 9 ارکان کی ضرورت ہوتی ہے اور ضروری یہ ہوتا ہے کہ مستقل ارکان میں سے کوئی مخالفت میں ووٹ نہ ڈالے ۔مستقل ارکان کے مخالف ووٹ ڈالنے کو ویٹو کرنا کہتے ہیں۔ اس لئے ان ارکان کو ویٹو پاور بھی کہا جاتا ہے۔ 27 مارچ کوسیکورٹی کونسل میں اصلاحات کے سلسلے میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کی نمائندہ ملیحہ لودھی نے کہا کہ G-4 کے ممالک اپنے مفادات کے تحفظ اور ان کو آگے بڑھانے کیلئے مستقل رکن بن کر ویٹو پاور حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ انکا سیکورٹی کونسل کے اصل مقصد یعنی دنیا میں امن و امان قائم رکھنے سے کوئی تعلق نہیں۔
G-4 چار ملکوں کا ایک گروہ ہے جو سیکورٹی کونسل کا رکن بننے کے لئے کوشاں ہیں۔ ا ن میں ہندوستان ، جاپان،جرمنی اور برازیل شامل ہیں۔ وہ ایک دوسرے کی حمایت بھی کرتے ہیں اور افریقہ سے بھی ایک ملک کو مستقل رکن بنانا چاہتے ہیں۔ انکی مخالفت میں انکے مخالف ارکان کا بھی ایک گروپ ہے۔ جس میں پاکستان ، اٹلی ، میکسیکو ، سائوتھ کوریا اور مصر شامل ہیں۔ یہ (Consensus ) گروپ کہلاتا ہے۔ یہ کہتے ہیں کسی کی ویٹو پاور نہ ہو بلکہ تمام ارکان کی رضامندی سے فیصلے ہوں۔ G-4 ممالک کافی عرصہ سے لابنگ کررہے ہیں اور ان کو کسی حد تک کامیابی بھی حاصل ہورہی ہے۔ برطانیہ اور فرانس تمام G-4 ممالک کی حمایت کرتے ہیں۔ امریکہ ،جاپا ن اور ہندوستان کی حمایت پر راضی ہے۔ روس ہندوستان کی حمایت کرتا ہے۔ چین بھی ہندوستان کی بغیر ویٹو کے مستقل ممبر بننے پر راضی ہے۔
یہ صورت حال جس میں نظر آرہا ہے کہ ہندوستان کو سیکورٹی کونسل کا ممبر بننے کیلئے حمایت ہوتی جارہی ہے۔ ہمارے لئے یقینا بہت تشویش ناک ہے۔ اگر ہندوستان ویٹو پاور حاصل کرلیتا ہے تو پاکستان کی پوزیشن بہت کمزورہوجائے گی اور ہم بین الاقوامی طور پر ہر معاملے میں ہندوستان کی مرضی کے محتاج ہونگے۔ پاکستان کی موجودہ پوزیشن یعنیConcensus گروپ میں شمولیت سے پاکستان اس بات کی حمایت کررہا ہے کہ کوئی ویٹو پاور نہ ہوفیصلے تمام ممبران کی رضامندی سے ہوں۔ یہ موقف کچھ زیادہ کامیاب نظر نہیں آتا کیونکہ موجودہ ویٹو ممالک کسی بھی طور پر اپنی اس حیثیت سے دستبردار نہ ہونگے اور ان کی مرضی کے بغیر کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی۔ ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہندوستان کا راستہ روکا جائے۔ اس کیلئے جارحانہ خارجہ پالیسی کی ضرورت ہے۔ میرے خیال میں ان 3 معاملات پر پاکستان کو خاص زور دینا چاہئے۔
سب سے پہلے تو سیکورٹی کونسل میں ویٹو پاور والے ممالک کی تعداد میں اضافہ کی مخالفت تاریخی حقائق کی بنیاد پرکرنی چاہئے۔ لیگ آف نیشن کا ادارہ پہلی جنگ عظیم کے بعد 1920 میں وجود میں آیا تھا۔ اس کا مقصد بھی دنیا میں امن قائم رکھنا تھا۔ اس کی کونسل کے ممبران کی تعداد 8 تھی جو 1936 میں بڑھا کر 16 کردی گئی ۔ اس وقت کسی بھی معاملہ میں فیصلہ کرنے کیلئے ضروری تھا کہ کونسل کے تمام ارکان متفق ہوں۔ اتنی بڑی تعداد میں ممالک کا کسی بھی مسئلہ پر متفق ہونا تقریباًناممکن ہوتا ہے۔ اس لئے یہ ادارہ ناکام ہوگیا۔ کسی بھی معاملہ پر کوئی فیصلہ نہ ہوپاتا تھا اس لئے ادارہ ختم ہوگیا ۔اس وقت بھی بہت سے معاملات پر پانچ مستقل ارکان متفق نہیں ہوپاتے اور سینکڑوں معاملات ویٹو ہوجانے کی وجہ سے حل طلب رہ جاتے ہیں۔اگر ویٹو ارکان کی تعداد بڑھا کر 10 یا اور زیادہ کردی گئی تو اسکا حشر بھی لیگ آف نیشنز سے مختلف نہ ہوگا۔ دوسرے نمبر پر پاکستان کو جارحانہ خارجہ پالیسی اپناتے ہوئے ہر فورم پر اس بات کا ڈھنڈورا پیٹنا چاہئے کہ ہندوستان ایسا ملک ہے جو خود سیکورٹی کونسل کی پاس کردہ قراردادوں پر عمل درآمد کے لئے راضی نہیں کیسے ویٹو پاور بن سکتا ہے۔ اس کا تو مطلب ہوگا جن قراردادوں پر وہ عمل نہیں کرنا چاہتا وہ بالکل غیر موثر ہوجائینگی۔ اس کا مطلب ہوگا مسئلہ کشمیر جس کو دنیا نیوکلیئر فلیش پوائنٹ سمجھتی ہے۔ اسکے حل کیلئے اقوام متحدہ یا سیکورٹی کونسل کوئی کردار نہ ادا کرسکے گی۔ اس بات کو ہر فورم پر اٹھایا جائے کہ جب تک ہندوستان کشمیر پر منظور کی گئی قراردادوں پر عمل نہیں کرتا کسی بھی طور اس کو مستقل رکن بننے کیلئے زیر غور نہ لایا جائے ۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ G-4 کے ممالک دنیا کے مختلف حصوں کی نمائندگی کرنے کے لئے جغرافیائی بنیادوں پر اور اپنی آبادی یا معیشت کی بنیاد پر سیکورٹی کونسل کے مستقل رکن بننا چاہتے ہیں۔ جبکہ جو ممالک ابتدا سے ویٹو پاور ہیں وہ جغرافیائی طور پر دنیا کے مختلف علاقوں کی نمائندگی نہیں کرتے ۔ سیکورٹی کونسل بنانے کا مقصد دنیا میں امن قائم رکھنا تھا۔ اس لئے دوسری جنگ عظیم کے بعد جو بڑی قوتیں فاتح بن کر ابھریں انہوں نے ویٹو پاور حاصل کیا۔ اس کے دو مقاصد تھے اول تو یہ پانچوں بڑے اپنے مفادات کا تحفظ چاہتے تھے تاکہ انکے خلاف کوئی فیصلہ نہ ہوسکے اور دوئم یہ کہ جس معاملہ پر یہ پانچوں متفق ہوجائیں گے اس فیصلہ پر عملدرآمد ممکن ہوسکے گا۔ یہ ویٹو پاور والے ممالک اس وقت بھی سب سے بڑی عسکری قوت تھے اور بعد میں بھی انہوں نے ہی ایٹمی قوت اور میزائل ٹیکنالوجی حاصل کرکے اس مقام کو قائم رکھا۔ اگر نمائندگی علاقائی بنیادوں پر ہوتی تو برطانیہ اور فرانس دونوں ممبر نہ ہوسکتے تھے۔ اسی طرح اگر ملک کارقبہ یا آبادی بنیاد ہوتی تو بھی برطانیہ اور فرانس سے بڑے یقینا بہت ملک موجود تھے۔ لیکن یہ درست فیصلہ تھا کہ امن قائم رکھنے کیلئے طاقتور ممالک کو ہی مستقل رکن ہونا چاہئے اور ویٹو پاور بھی انہی کے پاس ہونی چاہئے۔ پاکستان کوجارحانہ پالیسی اختیار کرتے ہوئے ایٹمی قوت اور میزائل ٹیکنالوجی کا حامل ہونے کے ناطے مستقل نشست کا مطالبہ کرنا چاہئے۔ اس سلسلے میں OIC ممالک سے خصوصی حمایت حاصل کرنے کی بھی کوشش کرنی چاہئے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہی وہ بنیاد ہے جس کی وجہ سے امریکہ ، روس ، چین ، برطانیہ اور فرانس کو ویٹو پاور کا حق ہے۔ اور ہم ایک بڑی عسکری قوت ایٹمی قوت اور میزائل قوت کے ہونے کی وجہ سے بجا طور پر اس کے حقدار ہیں۔ پاکستان اپنے اوپر دہشتگردوں کی حمایت کے الزام کی وجہ سے بین الاقوامی معاملات میں زیادہ قوت کے ساتھ حصہ نہیں لیتا رہا۔ لیکن اب جبکہ ہم نے دہشتگردوں سے نجات حاصل کرلی ہے اور ہمارے ہاں دہشتگردوں کے کوئی ٹھکانے بھی نہیں ہم کو زیادہ زوردار طریقہ سے امور خارجہ میں کردار ادا کرناچاہئے۔ہماری وزارت خارجہ کو احساس کمتری سے نکل کر ایک ایٹمی قوت جیسا کردار ادا کرنا چاہئے۔ اپنے لئے ان بنیادوں پر سیکورٹی کونسل میں مستقل نشست کا مطالبہ کرنے سے ہم ایک طرح ہندوستان کیلئے بھی یہ نشست مانگ رہے ہونگے۔لیکن اگر ہم کو مستقل نشست نہ ملی تو ہندوستان کا راستہ روکنا ضرور آسان ہوجائے گا