’’ ہائے ۔رے۔ میاں سے محبت۔۔ ‘‘

01 اپریل 2018

سینٹ انتخابات میں جو کچھ ہوا ۔ اسے دنیا نے دیکھا۔۔ بولی لگانے والوں نے بولی لگائی۔ اور ضمیر فروشوںنے خوش ہو کر اپنا سودا کیا۔۔ اور خوب کیا۔۔ اس بات کو دیکھتے ہوئے ۔ ہمیں یہ بات باآسانی سمجھ آجانی چاہیے کہ۔ضرورت انسان سے کیا کچھ کروا دیتی ہے۔۔ بلاتامل کہا جا سکتا ہے۔کہ۔ خریدنے اور بکنے والے۔اب بھی کرپشن کے ذریعہ پیسہ کمانے سے مایوس نہیں۔۔ انہیں اپنا مستقبل۔ روشن اور تابناک نظر آ رہا ہے۔۔ ریا ست ۔اور ۔ اسکے اداروں کو۔ حکومتی کرپٹ مافیا۔ کی۔ جانب سے واضح پیغام ہے کہ ہم بیدار بھی ہیں اور جاندار بے خوف بھی اب بھی ہم۔ ملک کے معاملات۔ اسی طرح چلائیں گے جس طرح ماضی میں چلتے رہے۔۔ !، ہمارئے ذاتی خیال میں پیسہ لگانے والے تو پیسہ لگا چکے لیکن تماشہ اب قوم دیکھے گی بہر کیف وقت بہت کچھ عیاں کرنے جا رہا ہے اب آتے ہیںمیاں صاحب کی جانب میاں صاحب کی ملکی اور جماعتی سیا ست اگر چہ عدالتی فیصلوں میں ڈوب چکی ہے۔ لیکن میاں صاحب نے لائف بوٹ پر چڑھ کر پورئے نظام ہی کو چیلنج کر تے ہوئے۔ بغاوت کا نعرہ ۔ لگا دیا ہے میاں صاحب کے ا ِ قتدار کے خاتمے پر سب سے زیادہ مولا نا فضل الر حمان دُ کھی تھے اور اب بھی ہیں سچ پوچھا جائے تو مو لا ناکا دُکھی ہونا جائزہے !مو لا نا صاحب بھی کر یں تو کیا کر یں اِن کی سیا ست محتاج ہے مسلم لِیگ نواز یا پھر۔پیپلز پا ر ٹی کی ! مو لانا کو خوب ادِراک ہے کہ جب تک یہ دونوں سیاسی جما عتیں اپنے اپنے سر بر اہو ں کی زیرِسرپرستی اس ملک میں قائم ہیںاِن کی سیاست پر کوئی آنچ نہیں آ سکتی کوئی اِن کی سیاسی دکان کو نقصان نہیں پہنچا سکتا! مولا نا صاحب کی سیا ست کو یہ دونوں جماعتیں خوب اور مولانا اِن کی سیاست کو بہت خوب جانتے اور سمجھتے ہیں مولانا فضل وفاقی سیاست نہ رکھنے کے با وجود ہر دور میں ملکی سیاسی کھیل میں کسی نہ کسی طرح کھیلتے رہے مولانا کی سیا ست کا محور سرحد سے شروع ہوکر موجودہ پختون خواہ ہی میں رہا پر کھلنڈرے عمران نے پختون خواہ میں اپنی حکو مت جما کر مولانا کی اس آبائی سیاست کو ہلا کر رکھ دیا مولانا اور عمران خان کی سیا ست میں اسکول اور مدرسے کا فرق ہے۔
ایسے میںمولا ناکے پاس کوئی چار ہ نہیںرہا کہ وہ پرانے یاروں ہی سے یاریَ بنا کر رکھیں مو لانا کے تعلقات میاںصاحب اور جناب آصف علی زرداری سے عموماََیکساں اور خوش گوار رہے لیکن خاص کر سینٹ کے انتخابا ت کے موقع پر یہ دونوں جماعتیں ہی دومختلف سمتوں میں تھیں اور مولانا کیلئے یہ بہت مشکل تھا کہ وہ دونوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کریں لیکن مولانا کو بہرحال فیصلہ کرنا تھا سُو انہوں نے کیازرداری سے ہاتھ چھڑاتے ہوئے بغاوت کا نعر ہ لگانے والے میاں صاحب کے گمراہ کن جلسوں کا زور دیکھتے اور دیگر سیاسی باغیوں کو میاں صاحب کے گرد جمع ہوتے دیکھ کر اپنی جماعت کی بقا کو سامنے رکھتے ہوئے بہت دور اندیشی سے اپنے آپ کو جا شامل کیا اور خاص کر مولانا فضل اور محمود خان اچکزئی کی بھرپور حمایت نے میا ںصاحب کو وزارت عظمی اور جماعت کی سر براہی سے محرومی کے غم غلط کرنے کیلئے سینٹ کے ا نتخابات کو ایک اُمید کاچراغ بنا دیا ہونے والے اس انتخابات میں ایک بارپھر میا ں صاحب نے اپنی یقینی جیت کیلئے گنتی کر کے کھلائی پلائی کے وعدوں پر گھوڑئے تیار کیئے لیکن چشم زدن میں سینٹ کی سیا ست میں دونوں نشستوںسے۔ محرومی نے میاں صاحب کی مستقبل کی سیاست کو بالکل ہی چوپٹ کرکے رکھ دیا میا ں صاحب کے وہم و گمان میںبھی نہ تھا کہ انکی جانب سے بچھائی گئی سینٹ کی بساط کوکوئی اس طرح تلپٹ کر کے رکھ دے گا پھر آخر یہ کیا ہوا کس نے جسا رت کی کے وہ شیر کے منہ سے نوالا چھینے میا ں صاحب کی سوچ مولانا کی جانب جاتے ہوئے بھی شرماتی تھی لیکن پھر میاں صاحب ہی کی جماعت کے اندر سے آوازیں آنی شروع ہو گیئں کہ سینٹ کے ایوان میں امیدوار کے انتخاب سے کچھ دیر قبل مولانا فضل الرحمان کے لوگ سینٹ کے ایوان سے اچانک غائب ہو گئے کہاںگئے کدھر گئے معلوم نا ہو سکا اور کچھ دیر بعدجب مولانا کے ارکان ایوان میںواپس آئے اور انتخابات میں حصہ لیا اور پھر جب نتائج کا اعلان ہوا اور صادق سنجرانی بطور چیر مین اور نائب کیلئے سلیم مانڈوی والا کے نام ایوان میں گونجے تو میاں صاحب کیلئے بہت کچھ بدل چکا تھا یہ وہ لمحہ تھا جس میں میاں صاحب کی سیاست چاروں شانے چت ہو چکی تھی میاں صاحب کے یوں لمحوں میں چلے جانے سے ملک میں برسہا برس سے سیاسی منظرپر نظر آنے والی جماعتوں کے درمیان ایک خلا ساپیداہو گیا ہے جسکی وجہ سے آنے والے وقتوں میں ملکی انتخابات کے موقع پر ملکی سیاسی منظر کافی حد تک تبدیل رہے گا کچھ نئی کچھ پرانی کچھ دیسی کچھ۔ ودیشی سے بازار میں دستیاب رہے گی۔
اب اس بات پر کیاافسوس کریں کہ میاں صاحب خود تو گئے ہی لیکن ساتھ ہی مولانا کی سیاست کو پانی میں بہا اور محمود اچکزئی کی چادر بھی ہوا میں اُڑا گئے۔