کیا الیکشن وقت پہ ہونگے ؟۔۔۔

01 اپریل 2018

پاکستان میں سیاسی افراتفری اور انتشار کی کیفیت کچھ وہ رخ اختیار کرچکی ہے جہاں اگر ایک مرحلہ ختم ہوتا ہے تو دوسرے مرحلے میں شدت سے سوال و جواب اور شکوک و شبہات پیدا ہو جاتے ہیں۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ یہ شکوک و شبہات جس تواتر سے پیدا ہورہے ہیں وہ کسی گرینڈ اسکیم کا حصہ ہیں۔ لیکن اگر کچھ دیر کے لیئے اس رائے کو مسترد بھی کردیا جائے تو دوباتیں بالکل واضح ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ سینیٹ کے الیکشن جس انداز میں منعقد کیئے گئے اس نے ہمارے پورے سیاسی ڈھانچے کے اوپر بے اعتمادی کی فضا قائم کردی ہے۔اسی لیے اب ہر جگہ یہ سوال شروع ہوگئے ہیں کہ کیا اب عام انتخابات اپنے وقت پر ہونگے۔عام انتخابات سے قبل ایک عبوری حکومت قائم ہوگی ؟ جس کی صرف اور صرف ذمہ داری یہ ہوگی کہ وہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کرائیں؟ اگر حکومت اپنی مدت پوری کرئے گی تو یہ کام اسے دومہینوں میں کرانا پڑے گا۔اور اگر اس مدت میں کمی ہوئی تو اسے اس کام کے لیئے 3 ماہ ملیں گے۔یہ آئین میں واضح طور پر موجود ہے اور اس سے انحراف کی کوئی گنجائش ممکن نہیں۔ لیکن جو تماشہ اس ملک میں گزشتہ 70 برسوں میں ہوتا رہا ہے اس نے ایک عام آدمی کا اعتماد ان جمہوری اور آئینی طریقوں پر سے متترلزل کردیا ہے۔الیکشن کمیشن ،عبوری حکومت سب اپنی جگہ لیکن یہ بہت ضروری ہے کہ ملک میں جو انتظامی حکومت قائم ہو اس کی نہ صرف اندرون ملک ساکھ ہو بلکہ بیرون ملک بھی اسے مانا جائے۔ آخر دن تک ایک منتخب حکومت اور اس کے سربراہ کو وہ طاقت حاصل رہنی چاہیئے جو عوام اپنے ووٹوں کے ذریعے لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں کی تعداد میں ہر 5 سال بعد اسے دیتے ہیں۔مشکل یہ ہوگئی ہے کہ ملک میں جو موجودہ صورت حال پیدا ہوئی ہے اس میں خود سیاسی جماعتوں کا کردار وہ نہیں جو کہ جمہوری ملکوں میں پایا جاتا ہے۔ کیونکہ یہ کام سیاسی جماعتوں کا ہی ہے کہ وہ ایک منتخب حکومت کی راہ ہموار کریں اور اسے طاقت بخشیں چاہے ان کا تعلق حکمران پارٹی سے ہو یا اپوزیشن سے ہو۔ بہرحال یہی اس نظام کے لازمی ستون ہیں ان کا کردار ووٹر کی مرضی کے ساتھ بدلتا رہتا ہے۔لیکن جو صورتحال ہمارے ملک میں پیدا ہوئی ہے اور اس میں سے ساری سازش کی تھیوری کو نکال بھی دیا جائے تو یہ پتا چلتا ہے کہ اقتدار کی خواہش میں وہ ان ساری جمہوری روایات اور اصولوں کو پامال کیئے دے رہے ہیں جن کے بغیر اس نظام کا چلنا بہت مشکل ہے۔ہم ایک بات بھلا بیٹھیے ہیں کہ اصل طاقت حکومت کے پاس ہونی چاہیئے۔ سب سے زیادہ مضبوط حکومت کو ہونا چاہیئے اور پھر اس طاقت کو خود بہ خود آئین کے تحت مختلف اداروں کو منتقل ہونا چا ہیئے۔ اگر حکومت ہی کمزور ہوگی تو یہ کیسے ممکن ہے کہ باقی ادارے بھی مضبوط رہیں۔شاید یہ بات اندرون ملک کسی میڈیا فلسفے کے ذریعے پہنچائی جاسکتی ہو لیکن بیرون ملک اسے کوئی ماننے کو تیار نہیں ہوگا۔اور ہم اس کے نتائج بھگت رہے ہیں۔ جس تنہائی کا آج پاکستان شکار ہے اس کی ایک وجہ اس میں بھی تلاش کی جاسکتی ہے۔سیاسی جماعتیں جب خود ہی سیاسی حکومت کو کمزور تر کر بیٹھیں ،اس پر فخر کریں ، منتخب وزیر اعظم اور کابینہ کو کٹھ پتلی کے خطابوں سے نوازیں اور تمام ان لوگوں پر جن کی ذمہ داری بیرون ملک معاملا ت طے کرنے سے ہو۔انہیں لٹیرا اور ڈاکو قرار دیں تو یہ کیسے تصور کیا جاسکتا ہے کہ پاکستان کا ایک مضبوط امیج دنیا کے سامنے ابھر کے آئے گا۔کیا دنیا ہر وقت یہ انتظار کرتی رہے کہ پاکستان میں مختلف اداروں کے انتخابات ہونگے ،حکومتیں بدلیں گی ،نئی شخصیات آئیں گی تب جا کے وہ اقتصادی اور دوسرے شعبوں میں معاملات طے کریں گے؟۔یہ سینیٹ کے انتخابات ، صوبائی اور قومی اسمبلیوں کے انتخابات یا دیگر اداروں میںتقرری یا ان کی تنظیم نو ایک خالص ملکی گورننس کا مسلہ ہے۔اس کا بیرون ملک کچھ لینا دینا نہیں۔آپ جس نمائندے کو بھی دنیا کے مختلف فورمز پر بھیجیں اسے پورے اختیارات سے لیس ہونا چاہیئے۔ چاہے وہ وزیر اعظم ہو ، چاہے کسی شعبے کا وزیر ہو ، چاہے وہ کسی محکمے کا سربراہ ہی کیوں نہ ہو۔در حقیقت وہ پاکستان کا نمائندہ ہوتا ہے۔اگر وہ اپنے ہی ملک میں کوئی اوقات نہیں رکھتا تو وہ بیرونی سطح پر دنیا کے سامنے نمائندگی یا کوئی پذ یر ائی حاصل کرسکے گا۔مختصر یہ کہ اب الیکشن میں چند ماہ رہ گئے ہیں۔سیاسی جماعتیں خم ٹھوک کر میدان میں اتر آئی ہیں۔انہیں پورا حق حاصل ہے کہ وہ اپنے منشور کو لوگوں کے سامنے پیش کریں ، ان سے اختیار حاصل کریں یا پھر وہ عوام کی جانب سے مسترد کر دیئے جائیں۔ لیکن یہ بہت ضروری ہے کہ الیکشن کے بعد آنے والی حکومت آئندہ 5 سال پھر سے کسی نہ ختم ہونے والے سرکس میں مبتلا نہ ہوجائے۔ملک کے لوگ اور دنیا اس کے تماشبین بن جائیں سیاسی جماعتیں اس کے کھلاڑی یا فنکار اور ملک کا پورا نظام پھر سے ٹھپ ہو کر رہ جائے