کسے وکیل کریں

01 اپریل 2018

پاکستان کے پہلے چیف جسٹس ’ سر عبدالرشید‘ جنہوں نے قائد اعظم سے حلف لیا تھا۔ ان سے منسوب دو واقعات بہت اہم ہیں لیکن نہ جانے کیوں انہیں ہائی لائیٹ نہیں کیا جاتا۔حالانکہ دونوں ہی واقعات ایسے ہیں کہ تاریخ میں سنہرے الفاظ میں درج ہو نہ ہوں اسکولوں کے نصاب میں عموماً اور لاء کالج کے نصاب میں خصوصاً درج ہونا چاہئیں۔نصاب کو تو چھوڑیئے میڈیا جو کہ ہر قسم کے واقعات کی تلاش میں رہتا ہے وہ بھی اس کا کبھی ذکر نہیں کرتا۔ایک واقعہ تو یہ ہے کہ حلف اٹھانے سے پہلے جب قائد اعظم گورنر جنرل کی مخصوص کرسی پر بیٹھنے لگے تو چیف جسٹس نے روک دیا کہ ابھی آپ نے حلف نہیں اٹھایا اس لیئے ابھی گورنر جنرل کی کرسی پر نہیں بیٹھ سکتے ۔سوال ہو سکتا ہے کہ کیا قانون کے ایکسپرٹ قائد اعظم کو اس کا علم نہیں تھا۔قائد جو قانوں کی باریکیوں پرگہری نظر رکھتے ان سے ایسی غلطی سہواً بھی نہیں ہو سکتی۔انہوں نے یہ جان بوجھ کر کیا تا کہ دیکھ سکیں کہ چیف جسٹس کتنے پانی میں ہیں۔کہیں وہ شخصیت سے مرعوب تو نہیں ہو جاتے۔جسٹس سر رشید قائد کے معیار پر پورے اترے اور قوم کو پیغام بھی دے دیا کہ پاکستان میں قانون کی حکمرانی ہو گی۔اس ہی طرح پرچم کشائی کے وقت مولانا شبیر احمد عثمانی ( اگر ہماری یاد داشت دھوکہ نہیں دے رہی) کو ساتھ رکھ کر یہ پیغام دیا کہ ملک کا نظام اسلامی ہو گا۔ یہ اور بات کہ بعد میں آنے والوں نے ان دونوں باتوں کو فراموش کردیااور شاید یہ ہی وجہ ہے کہ میڈیا بھی ان کا ذکر کرنے سے کتراتا ہے کیونکہ دونوں باتوں سے اس کے مفاد کو زک پہنچتی ہے۔ سر رشید سے منسوب دوسرا واقعہ یہ ہے کہ آپ نے وزیر اعظم لیاقت علی خان کی ایک دعوت میں شرکت سے یہ کہہ کر انکار کردیا تھا کہ حکومت کے کئی مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں اس لیئے دعوت میں شریک ہونا غلط روایت کی نظیر بن سکتا ہے ہمارا آج کا موضوع چیف جسٹس سے منسوب ان دو واقعات تک محدود رہنا تھا لیکں ضمناً پرچم کشائی کاذکر نکل آیا جس سے پاکستان کے نظام کی طرف اشارہ ملتا ہے تو سوچا کیوں نہ ایک اور واقعہ بھی سنادیں کہ جس سے حکومت میں فوج کے کردار کی بھی نفی ہو جائے۔قائد کو فوج کے کمانڈر انچیف نے حکومت کے لیئے کوئی مشورہ دینے کی کوشش کی تو جواب ملا کہ جنرل آپ کا کام سرحدوں کی حفاظت ہے نہ کہ حکومتی معاملات میں مداخلت!!ان واقعات سے واضح اشارہ ملتا ہے کہ قائد ملک میں اسلامی نظام، قانون کی بالا دستی اور فوج کی عدم مداخلت چاہتے تھے۔ لیکن افسو س اب قانون کی بالادستی سے ہم محروم ہیں۔لبرل سر پر کود رہے ہیں اور فوج مداخلت کجا فوج بلا شرکت غیرے بھی کئی سال حکومت کرتی رہی ہے۔اسلامی نظام تو خواب میں بھی مشکل لگتا ہے۔ایک عدالت کا واقعہ بتاتے چلیں کہ کسی جج نے یہ ریمارک دیا کہ ’’ میں نے خود دیکھا تھا‘‘۔ اس پر وکیل نے کہا جناب پھر تو آپ کوکرسی عدالت پر ہونے کی بجائے گواہوں کے کٹہرے میں ہو نا چاہیئے۔اس پر جج کو اپنے ریمارک واپس لیتے ہیں بنی۔۔ ایسے بھی واقعات ہیں کہ جج صاحبان نے از خود اپنے آپ کو کیس سننے سے الگ کر لیا کہ کہیں جانبداری کا الزام نہ لگ جائے۔۔جس طرح فوج کے لیئے قائد نے سرحدوں کی حفاظت کا کہا تھا اس طرح جسٹس سر رشید نے بھی واضح کردیا تھا ججوں کو عدالت تک محدود رہنا چاہیے۔