پاکستان میں مارشل لا کی حمایت نہیں کرینگے ، سویلین حکومت ہی بہترین ہے: امریکہ

واشنگٹن ( نمائندہ خصوصی +اے این این) امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان فلپ جے کراو¿لی نے پاکستان کے سیلاب زدہ علاقوں میں سرگرم غیر ملکی امدادی کارکنوںپرطالبان کے ممکنہ حملوں سے متعلق رپورٹ پرتشویش کااظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ امریکہ اس خطرے سے نمٹنے کےلئے پاکستانی حکومت کے ساتھ مل کرکام کررہاہے جبکہ صورتحال پر محتاط انداز میں نظررکھی جارہی ہے ،پاکستان میں مارشل لا کی حمایت نہیں کرینگے سویلین حکومت قائم ہے اوریہی بہترین طرزحکومت ہے ۔ گزشتہ روزمعمول کی پریس بریفنگ کے د وران ترجمان نے کہاکہ یو ایس ایڈ کے ایڈمنسٹریٹر راجیو شاہ نے سیلاب کی صورتحال میں پاکستان کی فوری ضروریات سے نمٹنے کےلئے 5کروڑڈالر اضافی امداد کا اعلان کیا ہے اوریہ رقم کیری لوگر بل سے منتقل کی جائے گی۔ راجیوشاہ نے یہ بھی کہاہے کہ یہ فنڈز سیلابی پانی اترنے کے بعد ریلیف کی ضرورتوں کو پوراکرنے کے لیے فراہم کئے جائیںگے پانچ کروڑ ڈالر کی رقم کیری لوگر بل میں بلاک کردی گئی ہے اور اس کے لیے نئی ہدایت جاری ہوگی کہ اسے سیلاب کے بعد کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوری طورپرکام میں لایا جائے۔ راجیو شاہ کے مطابق امریکی حکومت ایسے منصوبوں پر دوبارہ غورکرے گی جو حقیقی معنوں میں پانی میں ڈوب چکے ہیں اس میں زرعی اورمعاشی انفراسٹرکچر کو اہمیت دی جائے گی جو پہلے ہی طویل المیعاد امداد کے منصوبے کا حصہ ہیں۔ ترجمان کے مطابق پانچ کروڑ ڈالر اضافی امداد کے اعلان کے بعدامریکہ کی جانب سے سیلا ب سے متاثرہ علاقوں میں ریلیف اوربحالی کےلئے مجموعی طورپر 20 کروڑ ڈالر کی رقم استعمال کی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کے سیلاب زدہ علاقوں میں مصروف غیرملکی رضا کاروں کو ممکنہ طور پر نشانہ بنائے جانے سے متعلق اطلاعات ہیں اور امریکی حکام اس خطر ے سے نمٹنے کےلئے پاکستانی حکومت سے رابطے میں ہیں اوراس کے ساتھ مل کرکام کررہے ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ امریکی اور پاکستانی امدادی سرگرمیاں جاری رہ سکےں۔متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین کی جانب سے ملک میں مارشل لاءکے مطالبے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ پاکستان میں اس وقت سویلین حکومت قائم ہے اوریہی بہترین طرزحکومت ہے۔