امریکہ: ہیلری کلنٹن اور شاہ محمود قریشی کی بند کمرے میں ملاقات

واشنگٹن (ندیم منظور سلہری سے) امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے درمیان یہاں بند کمرے میں ملاقات ہوئی جسے امریکی سفارتی حلقے اہم قرار دے رہے ہیں۔ دونوں ہم منصب عہدیداران کی اس ملاقات میں آئی ایس آئی کے سربراہ شجاع پاشا اور پاکستانی سفیر حسین حقانی بھی موجود تھے۔ ہلیری کلنٹن نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے دہشت گردی کے حوالے سے سب سے پہلے پاکستان کے کردار کی تعریف کی لیکن پھر انہوں نے اپنی ٹون چینج کرتے ہوئے کہا کہ وادی سوات میں طالبان نے جس طرح اپنی محفوظ جنت بنا رکھی ہے۔ کیا یہ علاقے دوسرا افغانستان بننے جا رہے ہیں۔ ہلیری نے کہا کہ امریکہ اپنے مقاصد حاصل کر کے رہے گا۔ انہوں نے ڈرون حملوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کرنا نہ صرف پاکستان کے لئے ضروری ہے بلکہ امریکہ کے مفادات میں بھی بہتر ہے کہ ڈرون حملوں سے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ملیامیٹ کر دیا جائے۔ امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکہ افغانستان میں اپنی افواج میں اضافہ کرنے والا ہے اور پاکستان کو اس سے ہرگز نہیں گھبرانا چاہئے۔ امریکی افواج نیٹو کمانڈ کے ساتھ مل کر انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کے ساتھ کسی قسم کی کوئی رعایت نہیں کرنی چاہئے اور نہ ہی انکے ساتھ سمجھوتے کرنے چاہئیں کیونکہ ایسا کرنے سے وہ اسے ہماری کمزوری تصور کریں گے اور اپنے آپ کو مزید مضبوط بنانے کی اپنی روش جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ\\\' پاکستان کی اقتصادی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے مالی امداد کریگا لیکن اگر حکومت نے اسی طرح انتہا پسندوں کے ساتھ معاہدے کرنے شروع کر دئیے تو پھر امریکہ کے پاس مختلف آپشنز ہیں جن پر غور کیا جا سکتا ہے۔ اپنی گفتگو ختم کرنے کے بعد سے ہلیری کلنٹن نے سب سے پہلے آئی ایس آئی کے سربراہ شجاع پاشا کی جانب دیکھا پھر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ شاہ محمود قریشی کو کچھ کہنے کے لئے کہا۔ اس موقع پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پاکستان کے موقف کی ایک بار پھر وکالت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی حکومت نے پاک فوج اور خفیہ ایجنسیوں کو اعتماد میں لیکر بڑے غور و خوض کے ساتھ فیصلہ کیا کہ ان عناصر کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا جائے جنہوں نے غیر انسانی راستہ اپنا رکھا ہے تاکہ انکی بات سن کر انکے تحفظات کو دور کیا جائے کیونکہ وہ بھی پاکستانی شہری ہیں۔