امریکہ کے مسلمانوں کا طیارے کے ذریعے خودکش حملہ کرنیوالے امریکی کو دہشت گرد قرار نہ دینے پر شدید احتجاج

واشنگٹن+ اقوام متحدہ (نمائندہ خصوصی) امریکہ میں مقیم مسلمانوں نے ٹیکساس میں چھوٹے طیارے کے ذریعے سرکاری عمارت پر خودکش حملہ کرنیوالے امریکی جوزف ٹیسک کو دہشت گرد قرار دینے سے انکار پر شدید احتجاج کیا ہے۔ مسلمانوں کی اہم تنظیم کونسل آف امریکن اسلامک ریلیشنز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نیہاد عواد نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ریاست ٹیکساس کے شہر آسٹن کے اس واقعہ میں اگر کوئی مسلمان طیارہ اڑا رہا ہوتا تو امریکی حکام کسی پس و پیش کے بغیر اسے دہشت گردی اور پائلٹ کو دہشت گرد قرار دےدیتے۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ آخر امریکی حکام نے دوہرا معیار کیوں اپنا رکھا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر کوئی شخص یا گروپ شہریوں پر حملے کرتا ہے تو یہ صریحاً دہشت گردانہ اقدام ہے۔ سرکاری عمارت پر ہونیوالا خودکش حملہ ہر لحاظ سے دہشت گردی کی قانونی تعریف میں آتا ہے۔ واضح رہے کہ اس واقعہ کے بعد آسٹن کے پولسی چیف نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ یہ دہشت گردی نہیں بلکہ ایک فرد کی جانب سے مجرمانہ فعل ہے۔ ایف بی آئی کے ترجمان نے بھی اپنے ایک بیان میں کہا کہ ایجنسی اس واقعہ کو دہشت گردانہ واقعہ کے طور پر دیکھنے کی بجائے اس حملے کی مجرمانہ معاملہ کی حیثیت سے تحقیقات کررہی ہے۔ وائٹ ہاﺅس کی جانب سے ابھی تک اس واقعہ کے بارے میں رائے ظاہر نہیں کی گئی۔ اس حملے میں 2 افراد شدید زخمی اور 13 کو معمولی زخم آئے تھے۔ ادھر اقوام متحدہ کی انسانیت کی خدمت کرنیوالی ایجنسیاں پاکستان کے علاقے سوات میں شدید برفباری اور تودے گرنے سے متاثر ہونیوالے افراد کی مدد کیلئے پوری طرح تیار ہیں۔ عالمی ادارے کے پاکستان میں کوآرڈینیٹر مارٹن مرگواجا نے بتایا کہ شدید برفباری اور برفانی تودہ گرنے سے تقریباً ایک لاکھ افراد اشیاءخوردونوش\\\' کپڑوں اور کمبل جیسی ضروریات زندگی سے محروم ہیں۔ ان لوگوں کی امدادی ضروریات پوری کرنے کیلئے فوری طور پر 53 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کی ضرورت ہے۔ عالمی برادری کو اس سلسلے میں آگے بڑھنا چاہئے۔ شدید برفباری سے سڑکیں بند ہونے کی وجہ سے کئی علاقوں کا بڑے شہروں سے رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔ پاکستانی فوج تاحال لوگوں کو ریلیف دینے میں مصروف ہے۔ راستوں سے برف کو ہٹانے کا کام جاری ہے۔