امریکہ کو اس وقت پاکستان میں ءکے ایران جیسے چیلنج کا سامنا ہے: واشنگٹن پوسٹ

واشنگٹن (ندیم منظور سلہری) امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف ایڈمرل مائیک مولن کے دورہ پاکستان کے بعد صدر اوباما نے صورتحال سے آگاہی حاصل کرنے کیلئے وائٹ ہاﺅس میں ایک ہنگامی اجلاس بلایا تھا جس میں مولن نے بتایا کہ پاکستان میں صورتحال انتہای تشویشناک ہے کیونکہ طالبان عسکریت پسند دارالحکومت اسلام آباد کے بہت قریب پہنچ گئے ہیں۔ مولن نے بتایا کہ سوات میں امن معاہدے کے بعد صورتحال مزید خراب ہوئی ہے۔ پاک فوج کو توقع تھی کہ سیزفائر اور امن سمجھوتے کے بعد طالبان ہتھیار رکھ دیں گے لیکن اسکے برعکس عسکریت بونیر میں بھی داخل ہوگئے۔ اخبار کے مطابق وائٹ ہاﺅس میں مولن کی رپورٹ سننے والوں میں دو سینئر عہدیدار وزیر دفاع رابرٹ گیٹس اور خصوصی ایلچی رچرڈ ہالبروک بھی موجود تھے۔ اخبار کے مطابق اس موقع پر بتایا گیا کہ پاکستان میں درپیش چیلنج اس سے بہت ملتا جلتا ہے جس کا سامنا 1979ءمیں کارٹر انتظامیہ کو ایران میں کرنا پڑا تھا جہاں مسلم عسکریت پسندوں نے حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔ اخبار کے مطابق ایڈمرل مولن کا کہنا ہے کہ میرا تجربہ یہ ہے کہ پاکستانی حکومت اور فوج پر دباﺅ ڈال کر کام نہیں کرایا جاسکتا۔ ہم ان پر جتنا زیادہ دباﺅ ڈالیں گے وہ اتنا ہی طالبان کیخلاف ایک کامیاب کریک ڈاﺅن سے گریز کریں گے۔