تنظیمات اہل سنت کیجانب سے ہزاروں کارکن سڑکوں پر نکل آئے

اٹک (نامہ نگار) راولپنڈی میں تحریک لبیک یارسول اللہ کے دھرنا کے آپریشن کے خلاف اٹک میں مختلف مقامات پرتنظیمات اہل سنت کی جانب سے ہزاروں کارکن سڑکوں پر نکل آئے ضلع اٹک کی 6 تحصیلوں اور بڑے قصبات میں تنظیمات اہل سنت کے ڈنڈا بردار کارکنان اور سکول کالجز کے ہزاروں طلباء اپنے تعلیمی اداروں سے نعرہ بازی کرتے ہوئے باہر نکل آئے اورتنظیمات اہل سنت کی ریلیوں کا حصہ بنتے ہوئے تجارتی مراکز میں پہنچ گئے اور شٹر ڈائوں کی کال کی جس پر فوراً ان علاقوں کے تجارتی مراکز میں بازار مکمل طور پر بند کرادئے گئے جبکہ راستے میں آنے والے تمام اسکول اور کالجز میں زبردستی چھٹی کرادی گئی،اٹک میں امیدوار پنجاب اسمبلی ملک حمید اکبر خان اپنے ساتھیوں سمیت سب سے پہلے فوارہ چوک میں پہنچے اور انہوں نے کال کر کے مرکزی سیرت کمیٹی کے عہدیداران،اٹک شہر اور ملحقہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے علماء کرام،مشائخ عظام اور معززین علاقہ کو فوارہ چوک بلا لیا اور اس طرح ایک بڑی ریلی کی صورت میں فوارہ چوک سے پلیڈر لائن،سول بازار،مدنی چوک،کمیٹی چوک،کچہری چوک سے ہوتی ہوئی ریلوے پل پر جا کر دھرنا دے دیا جس کے سبب کراچی سے پشاور جانے والی مین شاہراہ کا مواصلاتی رابطہ منقطع ہوگیا اور جنرل بس اسٹینڈ پر بھی راولپنڈی ،پشاور ،حضرو اور دیگر علاقوں کی پبلک ٹرانسپورٹ دھرنا کی وجہ سے منقطع ہو گئی،ریلوے پل کے قریب دھرنے کے شرکاء نے باقائدہ قالین بچھا کر روڈ بلاک کر دیا سڑک کے دونوں اطراف میں درجنوں ڈنڈا بردار کھڑے ہوگئے اور انہوں نے رسیاں لگا کرٹریفک کے لئے راستہ بند کر دیااور لائوڈ اسپیکرلگا کر تقاریر کا سلسلہ شروع کر دیا گیا اور اسی مقام پر نمازباجماعت بھی ادا کی گئیں،شرکاء نے حکومت کے خلاف نعرہ بازی کی اس موقع پر ممبر پارلیمانی بور ڈ تحریک انصاف سابق ضلع ناظم میجر(ر) طاہر صادق کی خصوصی ہدایت پر وائس چیئرمین ضلع کونسل ملک جمشید الطاف،چیئرمین یوسی کھنڈا ملک غلام حسین،رہنماء تحریک انصاف ملک شیر جنگ خان کھنڈا،صدر انجمن تاجران راشدالرحمن خان،صدر سیرت کمیٹی حاجی محمد الماس،نگران اعلی حاجی محمد الیاس،علامہ رفاقت علی حقانی،امیدوار پنجاب اسمبلی ڈاکٹر ضیاء الرحمن نورانی،شہزاد احمد چشتی،پیر عبدالظاہر رضوی،علامہ محفوظ الرحمن رضوی،خادم حسین کربلائی سمیت دیگر علماء کرام نے تقاریر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے نہتے بے گناہ مسلمانوں جو حرمت رسول اور ختم نبوت کے سلسلہ میں پر امن احتجاج کر رہے تھے پر جس ریاستی دہشتگردی کا مظاہرہ کیا اور انہیں بد ترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا وہ قابل مذمت ہے انہوں نے صرف وزیر قانون کی برطرفی کا مطالبہ کیا تھا جو کہ ان کا آئینی و قانونی حق تھا ان پر تشدد قانون ہاتھ میں لینے کے مترادف ہے جس کا خمیازہ انہیں بھگتنا پڑے گا،دریں اثناء تنظیمات اہل سنت کامرہ نے ہٹیاں کے مقام پر دھرنا دیا اور جی ٹی روڈ پر باقائدہ دریاں بچھا کر احتجاج اور اسی مقام پر تقاریر اور نمازوں کی ادائیگی کا سلسلہ شروع کر دیا اسی طرح تنظیمات اہل سنت حضرو نے چھچھ انٹر چینج پر جا کر موٹر وے کو بند کر دیا جس سے پنجاب کا کے پی کے سے جی ٹی روڈ اور موٹر وے کے ذریعے زمینی راستہ منقطع ہو گیا،اسی طرح فتح جنگ میں کوہاٹ روڈ پنڈی گھیب، حسن ابدال اور جنڈ میں بھی مین شاہرات کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا ،دھرنے کے شرکاء کے لئے کھانے پینے کی وافر اشیاء فراہم کر دی گئیں ہیں اور ہر جگہ دھرنا طویل ہونے کے امکانات ہیں،پولیس کی بھاری نفری کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نپٹنے کے لئے چوکس کھڑی ہے تاکہ حکومت کی ہدایت پر وہ بھی فیض آباد کے دھرنے کی طرح شرکاء کو طاقت کے زور پر منتشر کر سکیں۔