فیض آباد میں دھرنے کے شرکاء کو منتشر کرنے کیلئے حکومتی تشدد

مری(نامہ نگار خصوصی) فیض آباد میں تحریک ’’لبیک یا رسول اللہـ‘‘ دھرنے کے شرکاء کو منتشر کرنے کیلئے حکومتی تشدد ،گرفتاریوں اور بڑیٰ تعداد میں زخمی ہونے والے کارکنوں کی حمایت میں پاکستان سنی تحریک تحصیل مری کے زیر اہتمام ایک ڈاکخانہ چوک سے ایک بہت بڑی ریلی نکالی گئی جس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیئے گئے تو وہ سابق وزیر اعظم کی مری میں رہائش گاہ کا گھیرو کریں گے ۔ریلی کی قیادت تحریک کے صدر محمد وقاض عباسی،جماعت اہل سنت ضلع راولپنڈی کے  جزل سیکرٹری رضا المصطفیٰ بخاری،خطیب مرکزی جامع مسجد غوثیہ تسنیم سلطان چشتی اور قاری واجد انور قادری ،علامہ ساجد چشتی،قاری آصف قادری ،عامر عباسی ،سجاد بٹ اوردیگر رہنماء کررہے تھے۔ریلی جی،پی،او چوک سے شروع ہوئی جو مال روڈ سے ہوتی ہوئی چنار چوک پہنچی جہاں مقررین نے تحریک ختم نیوت کے حوالے سے خطاب کرتے ہوے کہا کہ پاکستان ایک اسلامی مملکت ہے اور یہاں قادیانیوں کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ وہ اپنی ناپاک سازشوں میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔ حکومت نے نامعلوم وجوہات کی بناء پر ایسا سوچا بھی کیوں ہے ؟انہوں نے کہا کہ رسول ا للہؐ پر ہماری جان مال ہر چیز قربان ہے۔ حکومت نے ڈان لیگز کے حوالے سے اپنی نااہلی چھانے کیلئے پرویز رشید اورنہال ہاشمی سمیت دیگر کو فارغ کر دیا اور ختم نبوت کے حوالے سے یہ ایک شخص سے استعفیٰ نہیں لے سکے جس سے حکومت کی نا اہلی اور غفلت کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ اس دوران مظاہرین لبیک لبیک یا رسول اللہؐ ،تاجدار ختم نبوت زندہ باد،گستاخ رسول کی ایک سزا سرتن سے جدا سرتن سے جدا ،غدار حکومت مردہ باد کے نعرے لگاتے رہے۔ مظاہرین نے پنجاب پولیس کے خلاف بھی نعرے لگائے۔ مظاہرین نے دھرنا کے شرکاء پر تشددکو بند کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ اس موقع پر اعلان کیا گیا کہ تمام تنظیموں سے مشاور ت کے بعد مزید احتجاجی مظاہروں کی کال دی جائیگی ریلی میں مرکزی انجمن تاجران مری کے سینئر نائب صدر واجد عباسی،ناصر عباسی کے سمیت بڑی تعدادمیں اہلیان مری نے ریلی میں شرکت کی ۔ دریں اثناء مال روڈ مری سمیت کے چٹہ موڑ،پھگواڑی ،باڑیاں بازارمیں بھی احتجا ج کیا گیا جبکہ کشمیر ی بازار،کلڈنہ کے مقام پرشاہراہ کشمیر کو مظاہرین نے بلاک کردیا جس کے باعث ہر قسم کی ٹرانسپورٹ بند کردی گئی۔