ورلڈ کپ کا دوسرا بڑا ریکارڈ، جنوبی افریقہ کے 408 رنز، ویسٹ انڈیز کو شکست

لاہور (نمائندہ سپورٹس+ سپورٹس رپورٹر) آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں ورلڈکپ پول بی کے مےچ میں جنوبی افریقہ نے اے بی ڈی ویلیئرز اور عمران طاہر کی غےرمعمولی کارکردگی کی بدولت ویسٹ انڈیز کو 257 رنز کے بڑے مارجن سے شکست دےدی۔ جنوبی افریقہ نے ٹاس جیت پر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا اور دھواں دار بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 50 اوورز میں 5 وکٹوں کے نقصان پر 408 رنز بنائے۔ جنوبی افریقہ کے کپتان اے بی ڈویلیئرز نے 8 چھکوں اور 17 چوکوں کی مدد سے 162 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی۔ انہوں نے تباہ کن بیٹنگ کا مظاہرہ کیا اور ویسٹ انڈیز کے بولروں کو بے بس کرتے ہوئے گراو¿نڈ کے چاروں جانب چھکے چوکوں کی برسات کردی۔ اے بی ڈی ویلیئرز نے 64 گیندوں میں ایک روزہ میچوں کی تاریخ کے تیز ترین 150 رنز بنائے اور اننگز کے اختتام پر 162 رنز کی شاندار اننگز کے ساتھ ناٹ آو¿ٹ رہے۔ ڈی ویلیئرز نے 52 گیندوں پر سنچری سکور کی تھی جو کرکٹ ورلڈ کپ کی تاریخ کی دوسری تیز ترین سنچری ہے۔ اس سے قبل آئرلینڈ کے کیون اوبرائن نے 2011ءکے ورلڈ کپ میں انگلینڈ کیخلاف 50 گیندوں پر سنچری سکور کی تھی۔ جنوبی افرےقہ کی طرف سے ہاشم آملہ 65، ڈوپلیسی 62 اور روسویو 61 رنز کے ساتھ نمایاں بلے باز رہے۔ 408 رنز کے ہدف کے تعاقب میں ویسٹ انڈیز کی ٹیم شروع ہی سے بُری طرح ناکام نظر آئی۔ ورلڈ کپ کی تاریخ میں پہلی ڈبل سنچری کرنیوالے کرس گیل اس مرتبہ صرف تین رنز بنا کر کلین بولڈ ہو گئے۔ ویسٹ انڈیز کی بیٹنگ لائن کی ناکامی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ صرف 63 کے مجموعی سکور پر اسکے 7 کھلاڑی پویلین لوٹ چکے تھے اور بالآخر پوری ٹیم 33.1 اوورز میں 151 رنز بنا کر آو¿ٹ ہوگئی۔ جنوبی افریقہ کی طرف سے عمران طاہر نے پانچ، ایبٹ اور مورکل نے دو، دو جبکہ ڈےل سٹین نے ایک وکٹ حاصل کی۔ اے بی ڈی وےلےئرز کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔ قبل ازیں بھارت نے2007ءکے ورلڈ کپ میں برمودا کیخلاف ٹرینینڈاڈ میں 5 وکٹوں کے نقصان پر 413 رنز بنائے تھے جو ورلڈ کپ کی تاریخ میں کسی بھی ٹیم کا سب سے بڑا سکور ہے۔