IPL سپاٹ فکسنگ سیکنڈل: متعصب بھارتیوں نے ملبہ پاکستانی امپائر پر ڈال دیا

چودھری محمد اشرف
 حافظ محمد عمران
بھارتی کرکٹ بورڈ کے زیر اہتمام انڈین پریمیئر لیگ ان دنوں اپنے اختتام مراحل میں داخل ہے تاہم بک میکرز نے اس ٹورنامنٹ کو بھی اپنا ہدف بنا کر کھلاڑیوں کو اپنے جال میں پھنسا لیا ہے۔ پیدا شدہ نئی صورتحال میں ایسا دکھائی دیتا ہے کہ پوری کی پوری آئی پی ایل سپاٹ اور میچ فکسنگ سے بھری پڑی ہے جس میں نہ صرف بکیز بلکہ بھارتی کرکٹ بورڈ خود بھی ملوث دکھائی دیتا ہے۔ گذشتہ چند روز سے چلنے والے سیکنڈل میں نئی بڑے نام بھی بے نقاب ہونا شروع ہو گئے ہیں جن میں خاص طور پر بھارتی کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو گروناتھ ویاپن کے داماد کے بھی ملوث ہونے کے اشارے مل رہے ہیں جس کی ممبئی پولیس تحقیقات کر رہی ہے۔ بھارتی پولیس نے اپنی تحقیقات کا دائر وسیع کر دیا ہے جس میں کئی بکیوں سمیت کھلاڑیوں کو بھی پوچھ گچھ شروع کر دی ہے تاہم افسوس ناک امر یہ ہے کہ بھارت نے اپنا مکرو چہرہ چھپانے کے لیے پاکستانی امپائر پر بھی الزمات لگانے شروع کر دیئے اس بات میں کتنا سچ ہے کا اندازہ تحقیقات مکمل ہونے پر ہی ہوگا تاہم انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے بھی تعصب کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستانی امپائر پر آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی کے دروازے بند کر دیئے ہیں لیکن آئی سی سی حکام نے بھارتی کھلاڑیوں کے خلاف ایسا کوئی بیان نہیں دیا۔ بھارتی میڈیا کی پاکستان دشمنی کا ایک اور انداز سامنے آگیا۔بھارتی کھلاڑیوں کے کرپشن میں ملوث ہونے پر پاکستانی ایمپائرز کو بھی بدنام کرنا شروع کر دیا۔ بھارتی میڈیا نے آئی پی ایل سکینڈل میں پاکستانیوں کو گھسیٹنے کی کوشش کو جاری رکھتے ہوئے اب ایک پاکستانی امپائر کو بھی شک کے دائرے میں شامل کرادیا ہے۔ سپاٹ فکسکنگ میں ملوث وندوہ سنگھ کے گھر سے لیپ ٹاپ اور موبائل فون برآمد کرلیا جس سے اہم معلومات ملنے کا امکان ہے ،ایک بھارتی اخبار کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سری سانت ، اجیت چنڈیلا اور چوون کی گرفتاری سے قبل ہونیوالے راجستھان رائلز کے میچ میں اس امپائر نے میچ سپروائز کیا تھا۔ اخبار نے تو اپنی رپورٹ میں امپائر کا نام نہیں دیا۔ لیکن وہ میچ سپروائز کرنے والے پاکستانی امپائر اسد روف تھے۔ بھارتی کرائم برانچ کے ایک نامعلوم افسر نے اس اخبار کو بتایا کہ پاکستانی امپائر کے وندو سنگھ اور بعض بکیوں سے تعلقات کا شبہ ہے۔ لیکن اس وقت یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ میچ فکسنگ میں ملوث ہیں یا نہیں ،جبکہ ادار وندوہ سنگھ کے گھر کی تلاشی کے دوران موبائل فون اور لیپ ٹاپ برآمد ہوا جسے پولیس نے اپنے قبضے میں کرلیا ہے۔ دوسری جانب بھارتی منفی پروپیگنڈہ کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے بھی تعصب کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایلیٹ پینل پاکستانی امپائر اسد روف کو آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی سے ڈراپ کر دیا ہے۔ آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی کا انعقاد 6 سے 23 جون تک انگلینڈ میں ہونا ہے۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے اس بات کا فیصلہ بدھ کے روز میڈیا میں آنے والے خبروں کی بنا پر کیا جن میں کہا جا رہا تھا کہ پاکستانی امپائر اسد روف سے بھی ممبئی پولیس کے زیر تفتیش ہیں۔ آئی سی سی چیف ایگزیکٹو ڈیو رچرڈ سن کا اپنے بیان میں کہنا ہے کہ چونکہ اسد روف کے خلاف بھارتی پولیس تحقیقات کر رہی ہے اس لیے ہم نے اسد روف کی آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی سے خدمات واپس لے لی ہیں اور یہ نہ صرف کھیل بلکہ اس روف کے اپنے مفاد میں بھی ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین چودھری ذکاءاشرف کا کہنا ہے کہ اسد روف چونکہ آئی سی سی ایلیٹ پینل میں ہیں ان کا پاکستان کرکٹ بورڈ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے لہذا اس معاملے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کچھ نہیں کر سکتا۔ چیئرمین پی سی بی کا اچھا فیصلہ تھا کہ واقعہ کے فوری بعد میڈیا میں آ کر اصل حقائق سے آگاہ کیا گیا۔ چیئرمین پی سی بی نے پاکستان کرکٹ بورڈ اور پاکستانی امپائر اسد روف کی پوزیشن سے واضح کرتے ہوئے کہا کہ آئی سی سی ایلیٹ پینل امپائر اسد روف کا معاملہ بھارت اور آئی سی سی کا ہے اس سے پی سی بی کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل اگر کہے گا تو اسد روف کے خلاف پی سی بی اپنے طور پر تحقیقات کر سکتا ہے لیکن اصل معاملہ بھارت کا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے کھلاڑیوں اور آفیشلز کے لیے اپنا کوڈ آف کنڈکٹ بنا رکھا ہے جس پر سختی سے عمل درآمد بھی کرایا جا رہا ہے۔ چیئرمین پی سی بی کا کہنا تھا کہ پاکستانی کھلاڑیوں کے ساتھ 2010ءمیں پیش آنے والے واقعہ کے بعد کوئی ایشو منظر عام پر نہیں آیا ہے جس کی وجہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے اپنے کھلاڑیوں پر چیک اینڈ بیلنس قائم کر رکھا ہے۔ موجود سپاٹ فکسنگ کیس بھارت کا اندرونی معاملہ ہے ہم اس پرکوئی بات کرکے نیا پنڈورا باکس نہیں کھولنا چاہتے۔ عالمی کرکٹ کے لئے کرپشن کے واقعات اچھے نہیں ہیں، تمام ممالک کے کرکٹ بورڈ مل کر اس لعنت کوختم کرسکتے ہیں۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نیوٹرل باڈی ہے اس نے اسد روف کے حوالے سے جو بھی فیصلہ کیا اس پرکوئی رائے نہیںدے سکتا۔ انہوںنے کہا کہ اسد رﺅف کو چیمپئنز ٹرافی سے نکالنے کے بارے میں آئی سی سی کاکوئی دوہرا معیار نہیں، نہ ہی یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ ہم کسی کرپشن میں ملوث ہیں۔ کرکٹ کے کھیل کی کوئی باﺅنڈری نہیں اورکسی بھی کرپشن کے واقعے سے شائقین کرکٹ کوتکلیف ہوتی ہے ہم آئندہ بورڈ کے اجلاس مےں امپائر ز کے حوالے سے بھی ضابطہ اخلاق تےار کرےنگے تاکہ کوئی ایسا واقعہ پیش نہ آئے۔ آئی پی ایل میں سپاٹ فکسنگ کا معاملہ شرمناک واقعہ ہے اگر بھارتی حکومت چاہے تو اس کے لئے معاونت دینے کو تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسد روف کے لیے کوئی قانونی معاونت کرنے کا پی سی بی سے کوئی تعلق نہیں ہے آئی سی سی ایلیٹ پینل کے امپائر ہیں وہی اس معاملے میں اسد روف کی معاونت کر سکتے ہیں۔ چیئرمین پی سی بی کا کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے کرپشن کو ختم کرنے کے لیے اپنا سیکورٹی یونٹ بنا رکھا ہے یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے دومیسٹک کرکٹ میں کسی قسم کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا ہے انشااﷲ مستقبل میں بھی کوئی واقعہ پیش نہیں آئے گا۔