قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کھیل میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ دورہ آسٹریلیا کے دروان ناقص کاکردگی اورڈسپلن کی خلاف ورزی پر کھلاڑیوں کو دی گئی سزاؤں پر نظرثانی کی جائے

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کھیل میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ دورہ آسٹریلیا کے دروان ناقص کاکردگی اورڈسپلن کی خلاف ورزی پر کھلاڑیوں کو دی گئی سزاؤں پر نظرثانی کی جائے

کمیٹی کا اجلاس چیئرمین اقبال محمد علی کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں ہوا۔ اجلاس میں دورہ آسٹریلیا کے دوران ناقص کارکردگی اورڈسپلن کی خلاف ورزی کے حوالے سے بنائی گئی انکوائری کمیٹی کی رپورٹ پیش کی گئی۔چیئرمین کمیٹی اقبال محمد علی نے کہا کہ انتظامیہ میں خرابیاں ہیں بورڈ کے اندر تبدیلی ناگزیرہے۔ کھلاڑیوں میں اتفاق پیدا کرنے کے لیے ان کی اخلاقی تربیت کی جانی چاہیئے۔ اس موقع پر وزیر کھیل کہا کہ قوم کرکٹ سے بہت محبت کرتی ہے اس لیے ایک ایسی ٹیم تشکیل دینا ہوگی جو ائندہ سال کا ورلڈ کپ جیت سکے۔کمیٹی نے ہدایت کی کہ میچ فکسنگ کے حوالے سے منظر عام پر آنے والی ویڈیوز کو ریکارڈ سے ہمیشہ کے لیے حذف کر دیا جائے۔ پی سی بی کے چیئرمین اعجاز بٹ کا اپنے  بیان میں کہنا تھا کہ آئی سی سی کے اینٹی کرپشن یونٹ نے بتا دیا ہے کہ دورہ آسٹریلیا کے دوران کوئی میچ فکسنگ نہیں ہوئی۔ان کا کہنا تھا کہ ہم ٹیم کی بہتری کے لیے سخت اقدامات کر ہے ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف آپریٹنگ آفیسروسیم باری نےکمیٹی کے سامنے بیان میں کہا کہ دورہ آسٹریلیا کے دوران کھلاڑیوں میں گروپ بندی اور انا کا مسئلہ عروج پررہا اوروہ ملک و قوم کے بجائے اپنی ذات کے لیے کھیلے۔ عمر اکمل نے اپنے بھائی کامران اکمل کے کہنے پر انجری کا بہانہ کیا۔ سینیئر کھلاڑیوں میں اختلافات کی وجہ سے جونیئرزکا جذبہ ختم ہو گیا۔ قومی ٹیم کے سابق کپتان یونس خان نے اپنے بیان میں کہا کہ پابندی لگانے کے بعد ان سے وضاحت طلب کی گئی۔ بورڈ نے پابندی ختم نہ بھی کی توسو سال بعد بھی پاکستان کے لیے کھیلیں گے اور پہلے سے بہتر پرفارمنس دیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کے محمد یوسف کے ساتھ کوئی اختلافات نہیں تھے۔