سینٹ قائمہ کمیٹی کا اعجاز بٹ کیخلاف تحریک استحقاق لانے کا اعلان‘ مشترکہ اجلاس 31 مئی کو طلب

اسلام آباد ( اے پی پی‘نیٹ نیوز) چیئرمین پی سی بی اعجازبٹ کے سنیٹرز کے بارے میں بیانات نے نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے ایک طرف سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کھیل نے اعجاز بٹ کے خلاف تحریک استحقاق لانے کا اعلان کیا ہے تو دوسری جانب 31 مئی کو قومی اسمبلی اور سینٹ کی قائمہ کمیٹیوں کا مشترکہ اجلاس طلب کر لیا گیا سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کھیل کے چیئرمین سنیٹر عبدالغفار قریشی کا کہنا ہے کہ چیئرمین پی سی بی ناکامیوں کو چھپانے کیلئے سنیٹرز پر الزامات لگا رہے ہیں انہوں نے کہا کہ اعجاز بٹ کے بیانات سے سنیٹرز کا استحقاق مجروع ہوا ہے اور ان کے خلاف جلد سینٹ میں تحریک استحقاق پیش کی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی اور سینٹ کی کھیلوں سے متعلق قائمہ کمیٹیوں کا مشترکہ اجلاس 31 مئی کو طلب کر لیا گیا ہے اجلاس میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی کارکردگی اور پی سی بی کے مالی و انتظامی معاملات زیر بحث آئیں گے۔ دریں اثناءسینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کھیل کے رکن سنیٹرز ہارون خان نے پی سی بی کے یچئرمین اعجاز بٹ کی طرف سے قائمہ کمیٹی برائے کھیل کے اراکین پر ٹھیکیدار کو غیر ضروری ادائیگی کیلئے دباﺅ ڈالے جانے کے الزام کی تردید کی ہے انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ٹھیکیدار کو رقم کی ادائیگی کے بارے میں معاملات پی سی بی کے چیف آپریٹنگ آفیسر وسیم باری کی طرف سے بنائی کمیٹی نے طے کئے تھے جس کو پی سی بی کے چیئرمین اعجاز بٹ نے رد کر دیا تھا انہوں نے کہا کہ مجھے اعجاز بٹ کی طرف سے لگائے گئے الزامات پر افسوس ہے۔ پی سی بی کی کمیٹی نے ہی ٹھیکیدار سے سارے معاملات طے کئے تھے ڈاکو منٹس دستخط کئے تھے اعجاز بٹ نے بیک آﺅٹ کرنے پر ہم نےن ایکشن لیا تھا انہوں نے کہا کہ انہوں نے یہ بھی نہیں کہا کہ پی سی بی کے ساتھ میٹنگ میں میچ فکسنگ کا مسئلہ زیر بحث آیا میڈیا کے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے میچ فکسنگ کا ذکر کیا تھا انہوں نے کہا کہ کمیٹی کو تین ماہ پہلے نیپ دکھائی گئی تھی لیکن کمیٹی نے قومی ٹیم کے ٹونٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں شرکت کی وجہ سے اس پر ایکشن نہیں لیا تھا کہ ان کامورال نہ ڈاﺅن ہو۔ انہوں نے کہا کہ قومی ٹیم کے کوچز انتخاب عالم اور عاقب جاوید کا کہنا تھا کہ کھلاڑیوں نے دورہ آسٹریلیا میں انڈر پرفارم کیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈسپلن کی خلاف ورزی پی سی بی کھلاڑیوں پر تا عمر کی پابندی نہیں لگا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کھلاڑیوں کی میچ فکسنگ کے معاملات کی جوڈیشل تحقیقات ہونی چاہئے۔ غیر جانبداری سے ہونے والی تحقیقات سے ہی قومی ٹیم میں گند صاف ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی کرکٹ ٹیم کے دیگر کھلاڑیوں کے معاملات بھی مشکوک ہیں جس کی وجہ سے پی سی بی کے حکام مچ فکسنگ کے معاملات پر پیش رفت نہیں کرنا چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ پی سی بی کی مینجمنٹ تبدیل نہ کی گئی تو ورلڈ کپ 2001ءمیں پاکستان یٹیم کی پرفارمنس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا ۔